افغانستان: پردہ اٹھتا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی نژاد خاتون فلم ساز شرمین عبید نے پانچ برس پہلے ’طِفلانِ تشدد‘ اور ’طالبانِ باز ساختہ‘ جیسی دستاویزی فلمیں بنا کر امریکہ اور یورپ کے ٹی وی ناظرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اِن فلموں میں پاکستان کے افغان مہاجر کیمپوں سے لیکر افغانستان کی دُشوار گزارگھاٹیوں تک ہر منظر موجود تھا اور اقوامِ متحدہ کے افسروں سے لے کر کابل کے تباہ شدہ گھروں میں محصور عورتوں تک ہر کردار کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اب پانچ برس کے بعد شرمین عبید ایک بار پھر اپنا کیمرہ لیکر افغانستان میں داخل ہوئی ہیں، یہ دیکھنے کے لیے کہ اس عرصے میں افغان عورتوں کی حالت کہاں تک تبدیل ہوئی ہے۔ پانچ برس پہلے بننے والی دستاویزی فلم میں دکھایا گیا تھا کہ طالبان کی حکومت میں عورتوں کا جینا دوبھر ہو رہا ہے، انھیں تعلیم حاصل کرنے یا کام کرنے کی اجازت نہیں اور وہ عملاً گھروں میں قید ہیں جہاں مرد لوگ اُن سے غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ بعد میں امریکہ نے اپنے حلیفوں کی مدد سے طالبان کو کابل سے مار بھگایا اور صدر بش نے اعلان کیا کہ افغانستان کو ہر طرح کے ظلم و تشدد سے آزاد کروا لیا گیا ہے۔ شرمین عبید کی نئی فلم کا نام ہے’ افغانستان: پردہ اُٹھتا ہے‘ اور اس میں جائزہ لیا گیا ہے کہ امریکہ کی دِلوائی ہوئی آزادی کے بعد افغان عورتوں کی حالت میں کیا تبدیلی آئی ہے۔
ناظرین کو یہ جاننے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑتا کہ آزادی اور خوشحالی کے تمام تر مغربی دعوؤں کے باوجود افغان عورتوں کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ شرمین کا سفر کابل سے شروع ہوتا ہے جہاں کی پختہ عمارتوں، بازاروں اور جدید طرز کی دُکانوں کو مغربی ممالک یہ دکھانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں کہ اُن کے زیرِ اثر کابل امن اور خوشحالی کی تصویر بن گیا ہے۔ شرمین کی نئی دستاویزی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ یہ نام نہاد خوشحالی محض دِکھاوے کے چند کُنبوں تک محدود ہے اور افزائش ِ حسن کا سامان فروخت کرنے والی چمکتی دمکتی دکانوں کی پشت پر ایسی گلیاں آباد ہیں جہاں پھٹے پرانے برقعوں میں ملبوس مفلوک الحال عورتیں بھیک مانگتی ہیں یا بھوکے بچّوں کا پیٹ بھرنے کےلیے جِسم فروشی پر مجبور ہیں۔ فلم ساز شرمین عبید برقعہ اوڑھ کر مغربی کابل کے ایک محلّے میں جاتی ہیں جوکہ کئی سال پہلے بمباری سے تباہ ہوگیا تھا، لیکن وہاں کے مکین آج بھی اُنہی کھنڈروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ایک کھنڈر باسی عورت شرمین کو بتاتی ہے کہ کس طرح ہوائی حملے کے دوران اسکا شوہر مارا گیاتھا اور بیوہ ہونے کے بعد وہ بھِکارن بن چُکی ہے۔
شرمین وضاحت کرتی ہیں کہ افغانستان میں اس طرح کی کوئی بیس لاکھ بیوہ عورتیں موجود ہیں جن کے شوہر جنگی حملوں میں مارے گئے تھے اور اب جن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ برقعے میں کیمرہ چھُپا کر شرمین کابل کی سڑکوں پر گھومتی ہیں اور گھورتے ہوئے مردوں کی نگاہوں کو کیمرے کی زد میں لیتی ہیں۔ یہ جاننے میں انھیں چند سیکنڈ ہی لگتے ہیں کہ بطور ایک خاتون خواہ وہ پردے ہی میں کیوں نہ ہو وہ ایک دوسرے درجے کی مخلوق ہیں۔ کابل میں شرمین کی رسائی انقلابی خواتین کی ایک انجمن تک بھی ہوتی ہے جو حقوقِ نسواں کے لیے کام کرتی ہے لیکن انتقامی کاروائی کے خوف سے کوئی عورت کیمرے کےسامنے آنا قبول نہیں کرتی۔ شرمین یہاں وضاحت کرتی ہیں کہ شمالی اتحاد کے جن جنگجو سرداروں کی مدد سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تھا، وہ خود بھی عورتوں کے بارے میں طالبان جیسے نظریات ہی رکھتے ہیں اور انھیں ایک حقیر مخلوق سمجھتے ہیں۔ اس لیے عورتوں کی حالت میں کسی سطح پر بھی کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ ایک ہسپتال کے برن یونٹ میں جو کچھ شرمین نے دیکھا اور اپنے ناظرین کو دکھایا وہ اس دِل دہلا دینے والی حقیقت کا غمّاز ہے کہ عورتوں کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔
مغربی صوبے ہرات کی عورتوں میں خود سوزی کے بڑھتے ہوئے واقعات واضح کرتے ہیں کہ گھریلو تشدد، جنسی زیادتی اور زبردستی کی شادیاں عورتوں کو کس طرح خودکشی پہ مجبور کر رہی ہیں۔ چودہ سال کی ایک لڑکی جس کا آدھا جسم جل چُکا ہے شرمین کو بتاتی ہے کہ اس کے نشئی باپ نے سات برس کی عمر میں اسے ایک بوڑھے شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا لیکن جب وہ بلوغت کی عمر کو پہنچی اور ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی تو اس نے موت سے ہم آغوش ہونے کے لیے خود کو آگ لگا لی۔ شرمین ایک زچّہ خانے میں بھی جاتی ہیں اور انکشاف کرتی ہیں کہ زچگی کی حالت میں مرجانے والی عورتوں کی تعداد کے لحاظ سے افغانستان دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے، اور یوں افغانستان کو تعمیر و ترقی کی راہ پر ڈالنے کے تمام مغربی دعوے بے نقاب ہوجاتے ہیں۔ فلم کے آخری مناظر میں امید کی ایک ہلکی سی کرن دکھائی دیتی ہے جب شرمین لڑکیوں کے ایک ایسے سکول میں جاتی ہیں جو ایک دور افتادہ علاقے میں واقع ہے اور جسے طالبان کے زمانے میں چلانا ممکن نہ تھا۔ شرمین بتاتی ہیں کہ زمانۂ طالبان میں لڑکیوں کو چھُپ چُھپا کے تعلیم دی جاتی تھی لیکن اب کھُلے بندوں یہ کام ہو رہا ہے۔ تاہم یہاں بھی ایک پہلو مایوس کن ہے کہ ان لڑکیوں کے باپ تعلیمِ نسواں کے رواج سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ اُن کے خیال میں عورت کی دنیا گھر کی چاردیواری تک محدود رہنی چاہیے۔یہ لوگ اس بات کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اُن کے بچیاں گھروں سے باہر جاکر کوئی کام کریں۔ آخرمیں فلم ساز شرمین نے یہ تیکھا سوال اُٹھایا ہے کہ کابل کی سڑکوں پر پھرتے ہوئے امدادی سامان سے بھرے ٹرک، گلی گلی میں کھُل ہوئے غیرسرکاری ادارے (این جی اوز) اور جگہ جگہ پائے جانے والے غیر ملکی امدادی دفاتر سب مل کر بھی آخر افغان عورتوں کی حالتِ زار میں بہتری کیوں نہیں لا سکے۔ سترہ مئی کی رات کو لندن کے چینل فور سے نشر ہونے کے بعد یہ فلم ماہِ جولائی میں امریکی چینل سی۔ این۔ این سے بھی نشر ہوگی۔ | اسی بارے میں فلمی شادیاں: کبھی خوشی کبھی غم 11 April, 2007 | فن فنکار ڈبلیو زیڈ احمد کی یاد میں19 April, 2007 | فن فنکار معجزۂ فن: نیا ہفتہ وار پروگرام01 May, 2005 | فن فنکار ’بادلوں پر بسیرا‘ بہترین21 August, 2003 | فن فنکار لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط23 August, 2005 | فن فنکار اشفاق احمد: بلیک اینڈ وائٹ یادیں 06 September, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||