BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 06:41 GMT 11:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلمی شادیاں: کبھی خوشی کبھی غم

دلیپ کمار اور سائرہ بانو
44 سالہ دلیپ کمار نے جب 22 سالہ سائرہ بانو سے شادی کی تو میڈیا نے بڑے پیمانے پر اس کی تشہیر کی
یہ کہاوت تو بہت پرانی ہے کہ رشتے آسمانوں میں بنتے ہیں لیکن جس دِل جلے نے ’۔۔۔ اور زمین پر ٹوٹتے ہیں۔۔۔‘ کا اضافہ کیا ہے۔ اس کا تعلق فلمی صنعت سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ فلمی ستاروں کی دوستی اور باہمی میل ملاپ کی خبریں جس شان و شکوہ سے شائع ہوتی ہیں اُسی دھوم دھڑکے سے اُن کی لڑائیوں اور علیحدگیوں کے قصّے بھی بیان کیے جاتے ہیں۔

پاک و ہند میں جہاں دلیپ کمار اور سائرہ بانو، دھرمندر اور ہیما مالنی، نرگس اور سنیل دت، امیتابھ بچن اور جیا بھادری کی کامیاب شادیوں کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے وہاں راجیش کھنہ اور ڈمپل کپاڈیا کے ملاپ اور جدائی جیسے بے شمار قصّے بھی سنائے جا سکتے ہیں۔

جس طمطراق اور تشہیر کے ساتھ سابق ملکہء حسن ایشوریا رائے اور میگا سٹار امیتابھ بچن کے بیٹے ابھیشیک بچن کی شادی میڈیا کی زینت بنی ہے، اُسے دیکھ کر ہندوستان اور پاکستان کے کئی رومانوی فلمی جوڑوں کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ اس نشست میں ہمیں چند پاکستانی فلمی جوڑوں پر نگاہ ڈالنی ہے۔

سورن لتا اور نذیر کی شادی چونکہ قیامِ پاکستان سے پہلے بمبئی میں ہوگئی تھی اس لیے انہیں پاکستان کا پہلا فلمی جوڑا قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اُن کے بعد اہم ترین فلمی شادی۔ یعنی کسی ہیرو کی ہیروئن سے شادی۔ کا سہرا جنگجو ہیرو سدھیر کے سر بندتا ہے۔ جنہوں نے فلم سٹار شمّی سے شادی کی لیکن یہ بھی واضح کر دیا کہ ایک غیرت مند پٹھان ہونے کے ناطے میں اپنی بیوی کو غیروں کے گلے میں بانہیں ڈال کر رقص کرتے نہیں دیکھ سکتا۔ (سدھیر کا اصل نام شاہ زمان خان تھا) چنانچہ شمّی ایک گھریلو خاتون کے روپ میں گوشہ نشین ہوگئیں۔ تاہم غیرت مند شوہر نے اپنے تمام فلمی مشاغل جاری رکھے اور چند برس بعد فلمی دنیا میں وارد ہونے والے نئے چہرے زیبا سے عشق فرمانا بھی شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ تو زیبا اور سدھیر کا عشق محض سکینڈل کی سطح پر مشہور رہا لیکن پھر ایک ایسا موڑ آیا کہ سدھیر نے زیبا سے شادی کر لی اور تقاضہء غیرت کے تحت اسے بھی گھر تک محدود کردیا۔ اب زیبا اس طرح کی قید و بند میں رہنے کی عادی نہ تھیں چنانچہ اس نے فلمی دوستوں کی مدد سے فرار حاصل کر لیا اور سدھیر سے طلاق لے لی۔

محمد علی اور زیبا : کامیاب فلمی جوڑی جو ایک خوشحال گھریلو جوڑی میں بدل گئی

اداکار محمد علی اور زیبا ایک ساتھ فلم چراغ جلتا رہا (1962) میں متعارف ہوئے تھے اور انہوں نے ایک ہی زمانے میں ترقی کی منازل طے کی تھیں چنانچہ ایک دوسرے سے اُنس فطری تھا۔

سن ساٹھ کا عشرہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے پھلنے پھولنے کا زمانہ تھا۔ اس میں ایک طرف ڈھاکہ اور کراچی اعلیٰ معیار کی اُردو فلمیں پیش کر رہے تھے تو دوسری جانب لاہور میں کمرشل پنجابی فلموں کا بول بالا ہو رہا تھا۔

سن باسٹھ سے چھیاسٹھ تک محمد علی اور زیبا کو اپنے اپنے طور پر کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں اور 29 ستمبر 1966 کو یہ دونوں میاں بیوی کے رشتے میں منسلک ہوگئے۔

کسی معروف ہیرو اور ہیروئن کی شادی کو فلمی کاروبار میں کوئی نیک شگون خیال نہیں کیا جاتا۔ اکثر پروڈیوسروں کا کہنا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کو ایک دوسرے کی محبت میں تڑپتے ہوئے نوجوانوں کے روپ میں پیش کرنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ کیونکہ ناظرین اُن کی ازدواجی حیثیت سے واقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ جدائی اور ملن کا کھیل انہیں حقیقی معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن محمد علی اور زیبا کے سلسلے میں معاملہ بالکل الٹا معلوم ہوتا ہے کیونکہ دونوں کی اہم ترین فلمیں اُن کی شادی کے بعد پروڈیوس ہوئیں مثلاً آگ (1967)، دِل دیا درد لیا، تاج محل
(1968) ، بہو رانی، تم ملے پیار ملا، جیسے جانتے نہیں، بہاریں پھر بھی آئیں گی
(1969)۔ انجان، لوری، انسان اور آدمی، نورین، محبت رنگ لائے گی، نجمہ، ایک پھول ایک پتھر (1970)۔

زیبا اور محمد علی سے قبل جس فلمی شادی کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ صبیحہ اور سنتوش کی شادی تھی۔

پاکستان کا پہلا معروف ہیرو سنتوش کمار اور اوّلین کامیاب ہیروئن صبیحہ آخرِ کار شادی کے ایسے بندھن میں گرفتار ہوئے جو آخر تک قائم رہا

تقسیم ہند کے فوراً بعد پاکستانی فلم انڈسٹری کو جو اہم ترین چہرہ نصیب ہوا تھا وہ سنتوش کمار ہی کا تھا۔ انہیں یقیناً پاکستانی فلمی صنعت کا مردِ اوّل قرار دیا جا سکتا ہے۔

سن پچاس کے عشرے میں صبیحہ اور سنتوش نے کئی فلموں میں اکٹھے کام کیا تھا مثلاً بیلی، دو آنسو (1950)، غلام (1951)، رات کی بات، (1954) قاتل، انتقام
(1955)، حمیدہ، سرفروش (1956)، عشقِ لیلیٰ، وعدہ، سردار، سات لاکھ
(1957)، حسرت، مکھڑا، دربار (1958) ۔

اِن میں وعدہ اور سات لاکھ ایسی فلمیں ہیں جن کی شوٹنگ کے دوران صبیحہ خانم اور سنتوش کمار (اصل نام موسٰی رضا) ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے اور بالآخر دونوں شادی کے بندھن میں گرفتار ہوگئے۔

سنتوش کمار پہلے ہی شادی شدہ تھے لیکن جمیلہ نامی گھریلو خاتون نے ان کی دوسری شادی پر کوئی اعتراض نہ کیا اور آخری دم تک اُن کی دونوں شادیاں قائم و دائم رہیں۔

سنتوش کمار کا ذکر ہورہا ہے تو اُن کے چھوٹے بھائی درپن کی شادی کا ذکر بھی ہوجائے جو پاکستان کے فلمی حالات سے مایوس ہوکر 1950 میں بمبئی لوٹ گئے تھے لیکن وہاں بھی انہیں صرف ایک فلم عدلِ جہانگیر کے سِوا کوئی اچھا رول نہ مِل سکا چنانچہ انہوں نے پاکستان واپسی کی ٹھانی۔

درپن فلمی دنیا میں ایک ہرجائی ہیرو کے طور پرمشہور تھے لیکن نیّر سلطانہ سے شادی کے بعد وہ ایک کامیاب گھریلو شوہر ثابت ہوئے

قیامِ بمبئی کے دوران البتہ انہوں نے ایک کامیابی ضرور حاصل کی کہ انتہائی حسین و جمیل اور سیکسی اداکارہ نگار سلطانہ کو اپنے دامِ محبت میں گرفتار کرلیا تاہم جب معاملہ سنجیدگی اختیار کر گیا اور نگار نے گھر بسا کر اُن کےساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تو درپن صاحب نے راہِ فرار اختیار کی اور پاکستان چلے آئے۔

یہاں پہنچ کر درپن کی قسمت کا ستارہ خوب چمکا اور سن ساٹھ کے عشرے میں انہیں انسان بدلتا ہے، قیدی، آنچل، اک تیرا سہارا، تانگے والا، شکاری، شباب، نائلہ اور میرے محبوب جیسی کامیاب فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔

نگار سلطانہ نے پاکستان تک اُن کا پیچھا کیا لیکن یہاں آکر انہیں معلوم ہوا کہ درپن تک رسائی کےلیے انہیں نیلو اور شمیم آراء جیسی کامیاب ہیروئنوں کی رقابت مول لینی ہوگی۔

نگار سلطانہ ناکام لوٹ گئیں۔ درپن اور شمیم آراء کے بارے میں فلمی اخبار چے مصالحے دار خبریں چھاپتے رہے لیکن درپن کی جیون ساتھی بننے کا قرعہ اداکارہ نیر سلطانہ کے نام نکلا۔ نیر سلطانہ نے ایک اچھی گھریلو بیوی بن کے دکھایا اور درپن بھی 1981 میں اپنی وفات تک بیوی سے وفادار رہے۔

ملکہ ترم نور جہاں نے اگرچہ بچپن ہی سے فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا لیکن انہیں اصل شہرت فلم خاندان (1944)، زینت (1945) اور جگنو (1947) سے حاصل ہوئی۔ اِن تینوں فلموں کے ہدایتکار شوکت حسین رضوی تھے۔

ملکہ ترنم نورجہاں کی شادی اگرچہ قیامِ پاکستان سے تین سال پہلے ہی اس وقت کے معروف ہدایتکار شوکت حسین رضوی سے ہوگئی تھی لیکن جب دونوں کے بچّے جوان ہوگئے تو نور جہاں نے طلاق حاصل کر کے اداکار اعجاز سے شادی کر لی جوکہ کافی عرصہ کامیابی سے چلتی رہی اور نور جہاں کے بطن سے اعجاز کی تین بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں، لیکن ملکہ ترنم کی تنوّع پسند طبعیت آخر کار اس شوہر سے بھی اُوبھ گئی اور انہوں نے اعجاز سے طلاق حاصل کر لی۔

پنجابی فلموں کی ایک جوڑی کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے یعنی نغمہ اور حبیب۔ 1968 سے 1978 تک کے دس برسوں میں ان دونوں نے 20 سے زیادہ پنجابی فلموں میں اکٹھے کام کیا جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔ بابل دا ویہڑہ، میلہ دو دِن دا، چن چودھویں دا، مکھڑا چن ورگا، ات خدا دا ویر، سجن بے پرواہ، اک مداری، بالا گجّر، یار مستانے۔

 دلیپ کمار سائرہ بانو، راجیش کھنہ ڈمپل کباڈیا، دھرمندر ہیما مالنی، امیتابھ بچن جیا بھادری اور ابھیشک ایشوریا کی طرح پاکستان میں بھی صبیحہ سنتوش، زیبا محمد علی، نیر سلطانہ درپن، اور نغمہ حبیب کی فلمی جوڑیوں کو بہت شہرت حاصل ہوئی

حبیب اور نغمہ کی یہ قربت ایک دِن رنگ لائی اور دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اس موقعے پر نغمہ کو پتا چلا کہ حبیب تو پہلے سے شادی شدہ ہیں لیکن یہ اطلاع بھی اُن کے فیصلے کو تبدیل نہ کر سکی۔ نغمہ نے اس شرط پر شادی کی ہامی بھری کہ حبیب اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لیں گے، حبیب نے عارضی طور پر علیحدگی اختیار کر لی اور بیوی بچّوں کو ایک علیحدہ گھر لے دیا۔

آخر میں پنجابی فلموں کی معروف جوڑی حبیب اور نغمہ ایک دوسرے کے میاں بیوی بن گئے لیکن پھر وہی داستان دہرائی گئی جو فلم بِین طبقہ عرصہ دراز سے سنتا چلا آرہا ہے یعنی حبیب نے نغمہ کو فلموں میں کام کرنے سے روک دیا اور ایک گھریلو خاتون بننے کی ہدایت کی جسے نغمہ نے مسترد کر دیا۔ اِن دونوں کو خدا نے ایک بیٹی بھی عطا کی لیکن وہ بھی اپنے والدین کا بندھن ٹوٹنے سے نہ بچا سکی۔ طلاق کے بعد نغمہ نے پھر سے فلموں میں کام شروع کردیا اور کریکٹر رول کرنے لگیں۔ فلم انڈسٹری کی تباہی کے بعد نغمہ نے بھی حبیب کی طرح ٹیلی ویژن پر اداکاری کو قبول کر لیا ہے۔

سنتوشساٹھ کی فلمی دہائی
’بُدھو لڑکا اور ذہین لڑکی‘ سپر ہٹ فلم
 امیتابھ تیرا جادو چل گیا
امیتابھ بچن کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے
دلیپ کمار کی اداکاری
عظیم اداکار کا فن مصنف سعید احمد کی نظر میں
محمد علیمحمد علی کی باتیں
محمد علی کا بی بی سی کو دیا گیا یادگار انٹرویو
میرافلمی منصوبے
بالی ووڈ اور لالی ووڈ کے فنکاروں کی دوستی
لالی وڈ آج اور کل
پاکستان فلم انڈسٹری کی کہانی: عارف وقار
فلم میں آواز کی آمد
باآواز فلموں کی ابتدا، لالی ووڈ: کل اور آج (4)
اسی بارے میں
محمد علی: لاکھوں میں ایک
19 March, 2006 | فن فنکار
محمد علی کا یادگار انٹرویو
19 March, 2006 | فن فنکار
دلیپ کمار اور فنِ اداکاری
25 April, 2004 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد