ڈبلیو زیڈ احمد کی یاد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم بینوں کی نئی نسل ڈبلیو زیڈ احمد کے نام سے واقف نہیں کیونکہ اُن کی آخری فلم کو ریلیز ہوئے بھی نصف صدی سے زیادہ زمانہ گزر چکا ہے، لیکن جن لوگوں نے 1956 میں منظرِعام پر آنے والی فلم ’وعدہ‘ دیکھی ہے، وہ فلم ساز و ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد کا نام کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ اس فلم کی کہانی اگرچہ ایک عام رومانوی کہانی تھی جس میں لڑکا زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتا اور کامیابی و کامرانی کی منزلیں طے کرتا ہوا بالآخر اپنی محبوبہ تک پہنچ جاتا ہے لیکن دونوں کا ملاپ نہیں ہو پاتا۔ سن پچاس کے عشرے میں ہیرو کا یہ انجام کوئی نرالی بات نہ تھی اور برسوں پہلے دیوداس کی کہانی نے جنوبی ایشیا کے فلمی ہیرو کا جو مقدّر لکھ دیا تھا بیشتر فلمیں المیے کے اُسی ماڈل کی پیروی کر رہی تھیں۔ یہ بات البتہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ ڈبلیو زیڈ احمد کو سہگل کی دیوداس (1935) دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی تھی اور اس غم و غصّے کا اظہار جب انہوں نے اپنے دوستوں سے کیا تو اُن کا جواب تھا کہ محض باتیں بنانے سے کیا ہوتا ہے، کوئی فلم بنا کر دکھاؤ تو بات بنے۔ بس یہی چیلنج ڈبلیو زیڈ احمد کو فلم سازی اور ہدایتکاری کے میدان میں لے آیا۔ وحیدالدین ضیاالدین احمد کی پیدائش 20 دسمبر 1915 کو لاہور میں ہوئی۔ اُن کے والد سرکاری ملازمت کے سلسلے میں وسطی اور جنوبی ہند کے مختلف اضلاع میں متعین رہے اور وحید الدین کو بھی گجرات میں قیام کے دوران فلم سازی کے چیلنج کا سامنا ہوا۔ کام کی ابتداء انہوں نے 1939 میں سکرپٹ رائٹنگ سے کی لیکن جلد ہی انہیں محسوس ہو گیا کہ ان کے لکھے ہوئے مناظر کو درست طریقے سے سکرین پر منتقل نہیں کیا جاتا چنانچہ اگلے تین سال کے اندر اندر انہوں نے پونا اور مدراس میں اپنے سٹوڈیو تعمیر کرلیے اور فلم سازی کا باقاعدہ کاروبار شروع کردیا۔
بطور فلمساز و ہدائتکار اُن کی پہلی فلم ’ایک رات‘ 1942 میں ریلیز ہوئی جس میں مرکزی کردار کرشمہ کپور اور کرینا کپور کے پردادا، رشی کپور کے دادا اور راج کپور کے والد پرتھوی راج نے ادا کیا تھا۔ اگلے ہی برس اُن کی فلم پریم سنگیت منظرِ عام پر آئی جس کے ہیرو جے۔ راج تھے۔ انہیں پہلی بڑی کامیابی 1944 میں حاصل ہوئی جب اُن کی فلم ’من کی جیت‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم کی کہانی ٹامس ہارڈی کے معروف ناول ’TESS‘
فلم من کی جیت کا ایک گانا اتنا مقبول ہوا کہ لوگ برسوں بعد تک اسے گنگناتے رہے۔ بول تھے: اک دِل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، کوئی یہاں گِرا کوئی وہاں گِرا تقسیمِ ہند سے قبل انہوں نے جو فلمیں بنائیں اُن میں آخری فلم ’میرا بائی‘ تھی جوکہ 1947 میں ریلیز ہوئی۔ پاکستان آنے کے بعد اگرچہ انہوں نے صرف دو فلمیں بنائیں لیکن یہ دونوں ہی ہماری فلمی تاریخ میں نمایاں حیثیت اختیار کر گئیں۔ فلم وعدہ کا ذکر ہم کر چُکے ہیں جوکہ اپنی دلچسپ کہانی، صبیحہ اور سنتوش کی یادگار اداکاری، سیف الدین سیف کے لافانی گیت ’جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں‘ اور رشید عطرے کی بے مثال موسیقی کے باعث ہمیشہ یاد رہے گی، لیکن اُن کی دوسری فلم ’روحی‘ کا تذکرہ ابھی باقی ہے۔ روحی دراصل پاکستان میں اُن کی اوّلین پروڈکشن تھی جوکہ 1954 میں ریلیز ہوئی۔ اس کی کہانی اور منظر نامہ خود ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد نے لکھا تھا۔ روحی کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ سینسر بورڈ کے ہاتھوں بین ہونے والی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی۔ اس پر پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ اس میں امیر اور غریب کا ایسا ٹکراؤ دکھایا گیا ہے جو طبقاتی تضاد کو ہوا دیکر طبقاتی نفرت میں تبدیل کر سکتا ہے اور یوں معاشرے میں عمومی بے چینی اور بد امنی کا سبب بن سکتا ہے۔ سینسر بورڈ کی طرف سے دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اس میں ایک امیر اور بوڑھے شخص کی جوان اور خوبصورت بیوی ایک نادار نوجوان کو اپنے دامِ محبت میں گرفتار کر لیتی ہے۔ ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد نے طویل بحث مباحثے اور فلم میں معمولی کاٹ چھانٹ کے ذریعے سینسر بورڈ سے فلم تو پاس کروالی اور اسے عام نمائش کے لیے پیش بھی کردیا گیا لیکن اب ایک اور مسئلہ درپیش تھا۔ روحی پاکستان کی پہلی فلم تھی جو ایک کو آپریٹیو سوسائٹی کے تحت پروڈیوس کی گئی تھی۔ ریلیز کے کچھ ہی دنوں بعد کوآپریٹیو بنک نے اپنے قرضے کی وصولی کے لیے چھاپا مارا اور فلم کا پرنٹ اٹھا کر لے گئے۔ فلم روحی کا پرنٹ آج بھی ٹین کے ڈبّوں میں پڑا گل سڑ رہا ہے اور اس کا نیگٹو بھی محفوظ نہیں ہے۔ تاہم جن لوگوں نے 1954 میں یہ فلم دیکھی تھی اُن کے ذہن میں شمّی، سنتوش، ساحرہ، غلام محمد، ہمالیہ والا اور مایا دیوی کی یہ فلم ایک خوشگوار یاد کے طور پر ہمیشہ موجود رہے گی۔ (اس مضمون میں شامل تصاویر کے لیے ہم سینئر فلم جرنلسٹ پرویز راہی کے ممنون ہیں) | اسی بارے میں باادب باملاحظہ ہوشیار، مغل ِاعظم آ رہی ہے22 April, 2006 | فن فنکار شو بِز پاکستان 200628 December, 2006 | فن فنکار مہنگی فلمیں: لاگت کیسے پوری ہو؟26 October, 2006 | فن فنکار ’آوارہ‘ دنیا کی مقبول ترین فلم؟07 October, 2006 | فن فنکار کپولا کی واپسی03 October, 2005 | فن فنکار 1979 فلمی صنعت کا تاریخ ساز سال31 March, 2006 | فن فنکار مرحوم کی یاد میں 04 December, 2003 | فن فنکار ’افتخار عارف کا نمبر تیسرا ہے‘ 07 October, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||