BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 April, 2007, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈبلیو زیڈ احمد کی یاد میں

ڈبلیو زیڈ احمد 1978 میں
ڈبلیو زیڈ احمد 1978 میں
فلم بینوں کی نئی نسل ڈبلیو زیڈ احمد کے نام سے واقف نہیں کیونکہ اُن کی آخری فلم کو ریلیز ہوئے بھی نصف صدی سے زیادہ زمانہ گزر چکا ہے، لیکن جن لوگوں نے 1956 میں منظرِعام پر آنے والی فلم ’وعدہ‘ دیکھی ہے، وہ فلم ساز و ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد کا نام کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ اس فلم کی کہانی اگرچہ ایک عام رومانوی کہانی تھی جس میں لڑکا زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتا اور کامیابی و کامرانی کی منزلیں طے کرتا ہوا بالآخر اپنی محبوبہ تک پہنچ جاتا ہے لیکن دونوں کا ملاپ نہیں ہو پاتا۔

سن پچاس کے عشرے میں ہیرو کا یہ انجام کوئی نرالی بات نہ تھی اور برسوں پہلے دیوداس کی کہانی نے جنوبی ایشیا کے فلمی ہیرو کا جو مقدّر لکھ دیا تھا بیشتر فلمیں المیے کے اُسی ماڈل کی پیروی کر رہی تھیں۔ یہ بات البتہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ ڈبلیو زیڈ احمد کو سہگل کی دیوداس (1935) دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی تھی اور اس غم و غصّے کا اظہار جب انہوں نے اپنے دوستوں سے کیا تو اُن کا جواب تھا کہ محض باتیں بنانے سے کیا ہوتا ہے، کوئی فلم بنا کر دکھاؤ تو بات بنے۔

بس یہی چیلنج ڈبلیو زیڈ احمد کو فلم سازی اور ہدایتکاری کے میدان میں لے آیا۔

وحیدالدین ضیاالدین احمد کی پیدائش 20 دسمبر 1915 کو لاہور میں ہوئی۔ اُن کے والد سرکاری ملازمت کے سلسلے میں وسطی اور جنوبی ہند کے مختلف اضلاع میں متعین رہے اور وحید الدین کو بھی گجرات میں قیام کے دوران فلم سازی کے چیلنج کا سامنا ہوا۔

کام کی ابتداء انہوں نے 1939 میں سکرپٹ رائٹنگ سے کی لیکن جلد ہی انہیں محسوس ہو گیا کہ ان کے لکھے ہوئے مناظر کو درست طریقے سے سکرین پر منتقل نہیں کیا جاتا چنانچہ اگلے تین سال کے اندر اندر انہوں نے پونا اور مدراس میں اپنے سٹوڈیو تعمیر کرلیے اور فلم سازی کا باقاعدہ کاروبار شروع کردیا۔

ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ

بطور فلمساز و ہدائتکار اُن کی پہلی فلم ’ایک رات‘ 1942 میں ریلیز ہوئی جس میں مرکزی کردار کرشمہ کپور اور کرینا کپور کے پردادا، رشی کپور کے دادا اور راج کپور کے والد پرتھوی راج نے ادا کیا تھا۔ اگلے ہی برس اُن کی فلم پریم سنگیت منظرِ عام پر آئی جس کے ہیرو جے۔ راج تھے۔

انہیں پہلی بڑی کامیابی 1944 میں حاصل ہوئی جب اُن کی فلم ’من کی جیت‘ ریلیز ہوئی۔ اس فلم کی کہانی ٹامس ہارڈی کے معروف ناول ’TESS‘
پر مبنی تھی۔ اس میں ہیرو شیام کے مقابل راج کماری اور نِینا نے کام کیا تھا۔
نِینا کا چہرہ انتہائی معصوم لیکن آنکھیں کسی گہرے راز کی امین معلوم ہوتی تھیں، شاید اسی لِیے فلمی اشتہارات میں اسکا نام پُراسرارنِینا لکھا جاتا تھا۔ نِینا کا اصل نام شاہدہ تھا اور بعد میں ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد نے اُن سے دوسری شادی بھی کر لی تھی۔ اُن کی پہلی شادی سر ہدایت اللہ کی صاحبزادی صفیہ سے ہوئی تھی جن کے بطن سے فرید احمد پیدا ہوئے جو بعد میں خود بھی فلم ڈائرکٹر بنے۔

فلم وعدہ کے دو کردار: صبیحہ اور سنتوش

فلم من کی جیت کا ایک گانا اتنا مقبول ہوا کہ لوگ برسوں بعد تک اسے گنگناتے رہے۔ بول تھے: اک دِل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، کوئی یہاں گِرا کوئی وہاں گِرا

تقسیمِ ہند سے قبل انہوں نے جو فلمیں بنائیں اُن میں آخری فلم ’میرا بائی‘ تھی جوکہ 1947 میں ریلیز ہوئی۔

پاکستان آنے کے بعد اگرچہ انہوں نے صرف دو فلمیں بنائیں لیکن یہ دونوں ہی ہماری فلمی تاریخ میں نمایاں حیثیت اختیار کر گئیں۔ فلم وعدہ کا ذکر ہم کر چُکے ہیں جوکہ اپنی دلچسپ کہانی، صبیحہ اور سنتوش کی یادگار اداکاری، سیف الدین سیف کے لافانی گیت ’جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں‘ اور رشید عطرے کی بے مثال موسیقی کے باعث ہمیشہ یاد رہے گی، لیکن اُن کی دوسری فلم ’روحی‘ کا تذکرہ ابھی باقی ہے۔

روحی دراصل پاکستان میں اُن کی اوّلین پروڈکشن تھی جوکہ 1954 میں ریلیز ہوئی۔ اس کی کہانی اور منظر نامہ خود ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد نے لکھا تھا۔

روحی کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ سینسر بورڈ کے ہاتھوں بین ہونے والی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی۔ اس پر پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ اس میں امیر اور غریب کا ایسا ٹکراؤ دکھایا گیا ہے جو طبقاتی تضاد کو ہوا دیکر طبقاتی نفرت میں تبدیل کر سکتا ہے اور یوں معاشرے میں عمومی بے چینی اور بد امنی کا سبب بن سکتا ہے۔

 پاکستان کے بزرگ فلم ساز و ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد 15 اپریل کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ اُن کی عمر 92 سال تھی۔ آخری برسوں میں وہ اپنی یاد داشت کھو چُکے تھے اور کچھ عرصے سے مستقل نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے۔

سینسر بورڈ کی طرف سے دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اس میں ایک امیر اور بوڑھے شخص کی جوان اور خوبصورت بیوی ایک نادار نوجوان کو اپنے دامِ محبت میں گرفتار کر لیتی ہے۔

ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد نے طویل بحث مباحثے اور فلم میں معمولی کاٹ چھانٹ کے ذریعے سینسر بورڈ سے فلم تو پاس کروالی اور اسے عام نمائش کے لیے پیش بھی کردیا گیا لیکن اب ایک اور مسئلہ درپیش تھا۔

روحی پاکستان کی پہلی فلم تھی جو ایک کو آپریٹیو سوسائٹی کے تحت پروڈیوس کی گئی تھی۔ ریلیز کے کچھ ہی دنوں بعد کوآپریٹیو بنک نے اپنے قرضے کی وصولی کے لیے چھاپا مارا اور فلم کا پرنٹ اٹھا کر لے گئے۔ فلم روحی کا پرنٹ آج بھی ٹین کے ڈبّوں میں پڑا گل سڑ رہا ہے اور اس کا نیگٹو بھی محفوظ نہیں ہے۔ تاہم جن لوگوں نے 1954 میں یہ فلم دیکھی تھی اُن کے ذہن میں شمّی، سنتوش، ساحرہ، غلام محمد، ہمالیہ والا اور مایا دیوی کی یہ فلم ایک خوشگوار یاد کے طور پر ہمیشہ موجود رہے گی۔

(اس مضمون میں شامل تصاویر کے لیے ہم سینئر فلم جرنلسٹ پرویز راہی کے ممنون ہیں)

اسی بارے میں
شو بِز پاکستان 2006
28 December, 2006 | فن فنکار
کپولا کی واپسی
03 October, 2005 | فن فنکار
مرحوم کی یاد میں
04 December, 2003 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد