BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 October, 2005, 12:20 GMT 17:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کپولا کی واپسی

فرانسِس فورڈ کپولا
فرانسِس فورڈ کپولا
ہم لوگ کپولا کو سن ستّر کی دہائی میں بننے والی ’گاڈفادر‘ سلسلے کی فلموں کے توّسط سے اچھی طرح جانتے ہیں لیکن انھوں نے فلم سازی کا آغاز 1960 میں کر دیا تھا۔1971 میں انھیں فلم ’ پیٹن‘ کی کہانی اور سکرین پلے پر پہلا آسکر ایوارڈ ملا۔ 1973 اور 1975 میں گاڈفادر کے حصّہ اوّل اور دوئم کو باری باری آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

کپولا مجموعی طور پر اب تک پانچ آسکر ایوارڈ حاصل کر چُکے ہیں۔ کپولا نے آخری فلم 1997 میں بنائی تھی جوکہ مقبولِ عام ناول نگار جان گریرسن کی ایک کہانی پر مبنی تھی جں میں ایک غریب امریکی کنبے کی اپنی انشورنس کمپنی کے خلاف طویل جنگ دکھائی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ آج ایک عام امریکی شہری کی زندگی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔

1973 اور 1975 میں گاڈفادر کے حصّہ اوّل اور دوئم کو باری باری آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

’دی رین میکر‘ نامی اس فلم کے بعد 8 برس تک کپولا ٹیلی وژن کے لئے چھوٹا موٹا کام کرتے رہے اور اپنی پُرانی فلموں کے نئے ورشن جاری کرتے رہے جِن میں ’اپوکلپس ناؤ ‘ کا نیا روپ بھی شامل تھا۔

3 اکتوبر سے رومانیہ میں کپولا نے جِس نئی فلم کی شوٹنگ شروع کی ہے وہ اسی ملک کے ایک فلسفی مصنف کی تحریر کردہ کہانی ہے۔

مرشیہ الیدے نامی اس ناول نگار نے ایک ایسے پروفیسر کی کہانی لکھی ہے جو دوسری جنگِ عظیم سے پہلے جرمنی میں زندگی بسر کر رہا ہے لیکن وہ جِس چیز پر تحقیق کر رہا ہے اس میں اچانک ناتسی حکومت کو دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اور سرکاری ایجنٹ بوڑھے پروفیسر کی نگرانی شروع کر دیتے ہیں۔

پروفیسر بھاگ کر رومانیہ چلا آتا ہے لیکن ناتسی ایجنٹ شکاری کتوں کی طرح اسکا پیچھا کرتے ہیں۔ پروفیسر سوئٹزرلینڈ چلا جاتا ہے، وہاں سے مالٹا کا رُخ کرتا ہے اور بالآخر انڈیا پہنچ جاتا ہے۔ جینے کی اُمنگ آخری عمر میں بوڑھے پروفیسر کو ملکوں ملکوں لئے پھرتی ہے۔ شاید اسی لئے فلم کا نام Youth Without Youth یعنی ’جوبن بِنا جوانی‘ رکھا گیا۔ اس کہانی میں ایک طرف تو 25th Hour والا مخمصہ ہے جس میں اینتھونی کوئِن ایک ایسے ناتسی فوجی افسر کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو آریائی نسل کی برتری میں یقین رکھتا ہے اور انتھونی کوئِن کو ایک خالص آریائی نسلی نمونہ قرار دے کر اسکا جسمانی تجزیہ شروع کر دیتا ہے۔

دوسری جانب کپولا کی منتخب کردہ اس کہانی میں ہچکاک کی فلموں والا شدید اضطراب بھی موجود ہے جب ہیرو حالات کے ایک ایسے چُنگل میں گرفتار ہو جاتا ہے جِس سے بچ نکلنے کی کوشش اسے دلدل میں مزید اندر تک دھکیل دیتی ہے۔

66 سالہ فرانسس فورڈ کپولا کا کہنا ہے کہ آٹھ برس بعد کیمرے اور لائیٹوں کا سامنا کرتے ہوئے مجھے اُسی طرح کا خوف محسوس ہو رہا ہے جیسا اپنی اوّلین فلم کی ڈائریکشن کے وقت ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد