BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 January, 2007, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی فلم کی شوٹنگ لاہور میں

 Raven and Lenore
فلم کی شوٹنگ لاہور اور اُس کے گرد و نواح میں ہوئی ہے
انیسویں صدی کا ایک مشہور امریکی افسانہ نگار، بیسویں صدی کا معروف ترین امریکی فلم ڈائریکٹر اور اکیسویں صدی کا پاکستان۔۔

اِن تینوں باتوں میں بظاہر کوئی قدر مشترک نہیں ہے لیکن تھیٹر ڈائریکٹر اور اداکار سلمان پیر نے ان مختلف اشیاء میں نہ صرف ایک ربط ڈھونڈ لیا بلکہ اِس تعلق کو ایک سکرپٹ کی شکل میں ڈھال کر پہلے سٹیج ڈرامے کی صورت میں پیش کیا اور اب اس کی فلم بندی بھی شروع کردی ہے۔ لیکن آئیے پہلے اس قصّے کے اجزائے ترکیبی کو الگ الگ دیکھ لیا جائے۔

ایڈگر ایلن پو(1849-1809) ایک امریکی شاعر اور کہانی کار تھا اسے جرم و سزا اور جاسوسی کہانیوں کی صنف کا بانی قرار دیا جاتا ہےاور سائنس فکشن میں پہل کرنے کا اعزاز بھی اسی کے نام ہے۔ ’ٹل ٹیل ہارٹ‘ کے عنوان سے اس نے ایک کہانی 1843 میں لکھی تھی جو ایک نیم دیوانے شخص کی خود کلامی پر مبنی ہے۔ یہ شخص بار بار خود کو اور اپنے مخاطب کو یقین دلاتا ہے کہ میں پاگل نہیں ہوں لیکن ساتھ ساتھ وہ ایک قصّہ بھی بیان کرتا ہے کہ کیسے اس نے ایک آدمی کو رات کے اندھیرے میں موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ مقتول کی آنکھیں گِدھ جیسی گدلی اور پژمردہ تھیں اور وہ قاتل کو گھورتی رہتی تھیں۔۔۔ پھر ایک رات قاتل نے، جوکہ اس کہانی کا راوی بھی ہے، اس گدلی آنکھوں والے شخص کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اِس عمل کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا۔

ایڈگر ایلن پو
امریکی مصنّف اور شاعر ایڈگر ایلن پو ڈراؤنی کہانیاں لکھنے کے ماہر تھے

ایڈگر ایلن پو خود بھی ایک داستانی کردار تھا اور محققین نے اب تک دیگر لوگوں کی لکھی ہوئی 60 کے قریب ایسی کہانیوں، ناولوں اور فلموں کا سراغ لگایا ہے جن میں ’پو‘ ایک کردار کے طور پر موجود ہے۔

پاکستان میں شُوٹ ہونے والی زیرِ تذکرہ فلم بھی اس ذیل میں ایک نیا اضافہ ہے لیکن اس قصّے پر مزید بات کرنے سے پہلے آئیے اُس کے دوسرے جزو ترکیبی یعنی اورسن ویلز پر کچھ روشنی ڈالی جائے۔

جارج اورسن ویلز (1985-1915) کو اس صدی کی معروف ترین شخصیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی بنائی ہوئی فلم ’سِٹی زن کین‘ کو عرصہ دراز تک فلمی تاریخ کا عظیم ترین اثاثہ قرار دیا جاتا رہا ہے اور آج بھی یہ دنیائے فلم کے اہم ترین کارناموں میں شمار ہوتی ہے۔

اورسن ویلز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ صرف 24 برس کی عمر میں اس کی تصویر ٹائم میگزین کے سرورق پر شائع ہوگئی تھی۔ کیونکہ 23 برس کی عمر میں اس نے وہ حیرت انگیز کارنامہ سر انجام دیا تھا جو اسے گمنامی کے دھندلکے سے نکال کر شہرت کی چکاچوند میں لے آیا تھا۔

تاریخ تھی 30 اکتوبر 1938 ۔ اورسن ویلز اُس وقت ریڈیو کا پروڈیوسر تھا۔ اس نے ایچ جی ویلز کے ناول ’وار آف دی ورلڈز ‘ کی ڈرامائی تشکیل ریڈیو پر پیش کی لیکن اس انداز میں کہ جیسے سچ مچ مریخ کی مخلوق نے زمین پر حملہ کردیا ہو اور ایک رپورٹر اس کا آنکھوں دیکھا حال براہِ راست نشر کر رہا ہو۔ اس نشریے کے دوران ہی لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ پروگرام ادھورا چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں گھروں سے بھاگ نکلے۔

اورسن ویلز
اورسن ویلز نے 23 برس کی عمر میں ایک ریڈیو پروڈیوسر کے طور پہ امریکہ بھر میں شہرت حاصل کی

برسوں بعد اپنے ایک انٹرویو میں ویلز نے دعویٰ کیا کہ وہ سنسنی خیزی کے قائل نہیں ہیں اور ریڈیو پر انھوں نے جو تماشا کیا اس کا مقصد محض یہ دکھانا تھا کہ امریکی عوام ریڈیو سے نشر ہونے والی ہر بات پہ اندھا دُھند یقین کر لیتے ہیں۔

اس نشری معرکے کے تین سال بعد اورسن ویلز نے فلم ’ سٹی زن کین‘ بنائی جسے کچھ فلمی ناقدین دنیا میں اب تک بننے والی عظیم ترین فلم قرار دیتے ہیں۔ اس فلم کے بعد اورسن ویلز بھی ایک داستانی شخصیت میں تبدیل ہوگیا۔ ایڈگر ایلن پو کی طرح اس کی زندگی بھی آخری دِنوں میں مشکلات کا شکار رہی اور اسے ٹی وی کے اشتہارات میں کام کر کے روزی کمانی پڑی۔

جیک اینڈرسن بھی پاکستان میں
عالمی میلے میں ڈرامے کی نمائش کے ساتھ ساتھ اسی کہانی پر مبنی فلم کی شوٹنگ بھی جاری رہی۔ جس کے لیے ہالی وُڈ کے معروف سنیما ٹوگرافر جیک اینڈرسن اپنی ٹکنیکل ٹیم کے ہمراہ پاکستان میں موجود تھے

سلمان پیر کی فلم میں دو مختلف صدیوں سے تعلق رکھنے والے یہ دونوں کردار یک جا ہوجاتے ہیں۔

کہانی کے مطابق 1940 کے عشرے میں ایک نئی امریکی فلم ساز خاتون نورا رچرڈسن فیصلہ کرتی ہے کہ وہ ایڈگر ایلن پو کی زندگی پر ایک زبردست فلم بنائے گی۔ خاتون اس مقصد کےلئے نوجوان ڈائریکٹر اور اداکار اورسن ویلز کا انتخاب کرتی ہے لیکن جب فلم کی شوٹنگ شروع ہوتی ہے تو عجیب و غریب بلکہ محیرالعقول واقعات پیش آنے لگتے ہیں ۔ ایسے مافوق الفطرت واقعات جن کی عقلی سطح پر کوئی توجیح پییش نہیں کی جاسکتی۔

اور یوں فلم بندی کے یہ واقعات بذاتِ خود ایک کہانی بن جاتے ہیں۔ سلمان پیر نے پہلے اسے ایک تھیٹر ڈرامے کے طور پر لکھا اور اداکاروں کی ٹیم کے ہمراہ اسے لاہور کے عالمی فیسٹیول میں لے کر آئے۔

عالمی میلے میں ڈرامے کی نمائش کے ساتھ ساتھ اسی کہانی پر مبنی فلم کی شوٹنگ بھی جاری رہی۔ جس کے لئے ہالی وُڈ کے معروف سنیما ٹوگرافر جیک اینڈرسن اپنی ٹکنیکل ٹیم کے ہمراہ پاکستان میں موجود تھے ۔

عمران اور فریال، سلمان پیر کی فلم ٰ زرگُل ٰ کے ایک منظر میں
عمران اور فریال، سلمان پیر کی فلم ٰ زرگُل ٰ کے ایک منظر میں

پاکستانی مقامات اور مناظر 1940 کے امریکی واقعات میں کس طرح مدغم ہونگے، اِس مسئلے کو اگرچہ رائٹر ڈائریکٹر سلمان پیر نے صیغہء راز میں رکھنے کی کوشش کی ہے، تاہم ہمارے بہت اصرار پر انھوں نے اتنا ضرور بتا دیا کہ فلم کے واقعات مرکزی نسوانی کردار کے گرد گھومتے ہیں جوکہ اپنی ناٹک منڈلی کے ساتھ امریکہ سے لاہور آئی ہے لیکن یہاں کے سٹیج پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے وہ گردوپیش کے ماحول سے شدید طور پر متاثر ہوتی ہے۔ اصل میں لاس اینجلس سے نکل کر اچانک لاہور پہنچنے پر اس کی سائیکی تبدیلی کے ایک عجیب و غریب تجربے سے گزرتی ہے جو اپنے اثر میں اتنا تیکھا اور پُر زور ہے کہ خاتون کی شخصیت کو ایک نئی جہت میں بہا لے جاتا ہے۔

فلم کی مافوق الفطری فضا کو دیکھتے ہوئے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کہانی زمان و مکان کی قیود سے ماوراء کسی بھی وقت کسی بھی دور میں داخل ہوسکتی ہے۔ خدشہ صرف اس بات کا ہے کہ سلمان پیر کے اعلان کردہ، عالمی سطح کے بہت سے دیگر بلند بانگ منصوبوں کی طرح Raven and Lenore
نامی یہ فلمی منصوبہ بھی شوٹنگ کے مراحل ہی میں ٹھپ نہ ہوجائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سلمان پیر نے ایک امریکی سٹوڈیو کے تعاون سے بہت بڑے بجٹ کی کاسٹیوم فلم ’شہر زاد‘ بنانے کا اعلان کیا تھا اور فلم بندی کے لیے پاکستان اور وسط ایشیا کی کچھ ریاستوں میں مقامی پارٹنر بھی تلاش کر لئے گئے تھے۔ شہر زاد ایک فینٹسی تھی اور بلآخر ’فینٹسی‘ ہی ثابت ہوئی کیونکہ اب اُس منصوبے کی صفیں لپیٹی جا چُکی ہیں۔

مظلوموں کا ناٹکمظلوموں کا ناٹک
تھیٹرمیں اداکار اور تماشائي کا فرق نہیں
’ایکجُٹ‘ کے25 سال
سنجیدہ اور تعمیری تھیٹر کی چوتھائی صدی
رمن جیتلاہور کا بھنگڑا میلہ
لاہور میں بسنت نہیں تو بھنگرا میلہ لگا
محمد علیعلی میرا دوست
اپنے بچپن کے دوست کی یاد میں: قمر احمد
محمد علیمحمد علی کی باتیں
محمد علی کا بی بی سی کو دیا گیا یادگار انٹرویو
اسی بارے میں
شوکت صدیقی انتقال کر گئے
18 December, 2006 | فن فنکار
مجاجن: ایک حوصلہ بخش فلم
27 March, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد