BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور میں ایک چلتی پھرتی نمائش

چلتی پھرتی نمائش
آنکھیں چہرہ ہاتھ لئے پھرتا ہوں میں کیا کچھ اپنے ساتھ لئے پھرتا ہوں میں
تصویروں کی نمائش کوئی انوکھی بات نہیں۔ ہر بڑے شہر میں کوئی نہ کوئی نمائش ہمیشہ چل رہی ہوتی ہے، لیکن لاہور کے فرانسیسی مرکزِ ثقافت میں جس تصویری نمائش کا افتتاح ہوا ہے وہ اس لحاظ سے یقیناً نرالی ہے کہ تصویروں کو کسی آرٹ گیلری کی دیوار پر آویزاں کرنے کی بجائے رکشوں کی پُشت پر چسپاں کر دیا گیا ہے، چنانچہ لوگوں کو یہ تصویریں دیکھنے کےلئے کسی میوزیم یا گیلری میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تصویریں خود اُن کے پاس پہنچ جائیں گی۔

آرٹ کی نقاد اور نیشنل کالج آف آرٹس کی سابق پرنسپل سلیمہ ہاشمی اس نمائش کے منتظمین میں سے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل سکاٹ لینڈ کے معروف عکاس میلکم ہیچیسن نے یونیسکو کے ایماء پر فوٹو جرنلزم کی ایک ورکشاپ ایبٹ آباد میں منعقد کی تھی جس میں طالب علموں کے ساتھ ساتھ پیشہ ور فوٹوگرافر بھی شامل تھے۔

آفاتِ سماوی کے مقابل انسانی عزم و ہمت کی داستان

اس ورکشاپ کے بعد چیدہ چیدہ فوٹوگرافروں کو پاکستان کے اُن علاقوں میں بھیجا گیا جہاں ڈیڑھ برس پہلے زمین نے کروٹ بدلی تھی اور ہزاروں خاندان زلزلے کی تباہ کاری کا شکار ہوگئے تھے۔ آج یہ لوگ کس حال میں ہیں، موت کے پنجے سے نکل کر انھوں نے کس طرح زندگی کی سختیوں سے پنجہ آزمائی کی ہے۔

بچّوں، عورتوں، بوڑھوں اور نوجوانوں نے کڑی آزمائش کے اس چیلنج کو کس طرح قبول کیا ہے۔ یہی اس نمائش کا موضوع ہے اور چونکہ یہ موضوع عوام کی ہمت، حوصلے اور اُن کے جذبہء تعمیرِ نو سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اِن تصویروں کو کسی دیدہ زیب آرٹ گیلری کی نیم روشن دیواروں پر سجانے کی بجائے دن کی چکا چوند میں گلی محّلے کے عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ موبائل نمائش ایک ماہ تک جاری رہے گی

اس ضمن میں رکشے کو استعمال کرنے کا انوکھا خیال میلکم ہیچیسن کے ذہن میں آیا جو کہ دس برس سے لاہور میں فوٹوگرافی کی تعلیم دے رہے ہیں اور شہر میں آمدورفت کےلئے وہ خود بھی رکشہ ہی استعمال کرتے ہیں۔

اس نمائش میں طالب علموں کے علاوہ اظہر جعفری، فیصل محبوب، خالد تنویر، یوسف ناگوری، رضوان غیاث اور مہرین حق جیسے منجھے ہوئے فوٹوگرافروں کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

لاہور کے رکشوں کی پُشت پر تصویروں کی یہ موبائل نمائش ایک ماہ تک جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد