اسلام آباد میں قیمتی پتھروں کی نمائش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسان اور پتھر کا رشتہ صدیوں پرانا ہے۔ انسان نے پتھر کی ہی مدد سے آگ لگانا سیکھا اور بعد میں اسے بطور زیورات بھی استعمال کیا۔ ہر انسانی تہذیب میں پتھروں کے زیورات کے آثار ملے ہیں۔ انسان اب نا صرف قیمتی پتھروں کا استعمال زیورات میں کرتا ہے بلکہ ان کا کاروبار بھی بہت کامیابی سے کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی دنیا کے بہترین قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کا کاروبار کافی عرصے سے ہو رہا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اب اسے زیادہ مناسب انداز اور طریقے سے زیادہ منافع بخش بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں پہلے ہمالیہ قراقرم جمز اینڈ منرلز شو کا اہتمام کیا گیا۔ دو روزہ نمائش میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات سے نکالے گئے قمیتی اور نیم قیمتی پتھروں کے سٹال لگائے گئے ہیں۔ نمائش کے منتظم سید طاہر حسین نے بتایا کہ اس سے قبل یہ نمائش شمالی علاقہ جات میں باقاعدگی سے منعقد کی جاتی رہی ہے لیکن اسے پہلی مرتبہ اسلام آباد لانے کا مقصد ان پتھروں کی مارکیٹنگ کو بہتر کرنا ہے۔ ’ہمیں امید ہے کہ جو پتھر سکردو میں ایک ہزار روپے میں فروخت ہو رہا تھا یہاں وہ چالیس ہزار میں بکے گا۔ اس سے پتھروں سے منسلک مقامی آبادی کا فائدہ ہوگا‘۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تیس قسم کے قیمتی اور نیم قیمتی پتھر پائے جاتے ہیں۔ ان میں زمرد، روبی، ٹوپاز، جیڈ بھی شامل ہیں۔ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں سے نکالے گئے ان پتھروں کی قومی و عالمی سطح پر کافی اچھی مانگ ہے۔ یہ سب پتھر قدرتی یا تراشی ہوئی صورت میں اس نمائش میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
ہری رنگت والا زہر مورا پتھر بھی اس نمائش میں رکھا گیا تھا۔ اس پتھر کی خاصیت یہ ہے کہ اسے گھس کر سانپ کے کاٹے والی جگہ پر لگانے سے زہر کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ یہ پتھر سکردو کے قریب شِگر کے مقام پر بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس پتھر کا ایک دلکش طیارہ بھی بنا کر نمائش میں رکھا ہوا تھا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ دو روز کے دوران کافی بڑی تعداد میں پتھروں میں دلچسپی رکھنے والے اور خریداروں نے اس نمائش کا رخ کیا ہے۔ ان میں کریم خان بھی شامل تھے جو طالب علم ہیں اور پتھروں سے شعاعوں کو گزارنے سے متعلق تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا انہیں بھی اس نمائشں میں ایک ایسا پتھر مل گیا جس میں وہ مختلف چیزوں کو پِیس سکیں گے۔ پشاور کے کوالٹی جمز کمپنی کے میر ولی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وہ پتھروں کی خریداری کے لیئے آئے تھے۔ انہوں نے مختلف پتھروں کی خریداری کے علاوہ چند کے نمونے بھی حاصل کیئے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ اس سے بین القوامی خریداروں کو متوجہ کرنے میں مدد ملے گی جبکہ ان کو پتھروں کی خریداری کے لیئے شمالی علاقہ جات نہیں جانا پڑے گا۔ سکردو میں بلتستان جمز ایسوسی ایشن کے صدر حاجی ابراہیم نے بتایا کہ انیس سو پچانوے کے بعد سے پتھروں کی مائینگ میں شعور اور تکنیک آنے کی وجہ سے بہتری آئی ہے۔ ’اب پتھر نکالنے کے عمل کے دوران ہونے والا نقصان کم ہوگیا ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ اس کاروبار سے مقامی آبادی کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ نمائش کے منتظم سید طاہر حسین نے بتایا کہ انہیں پتھروں کی بین القوامی منڈی میں ہمسایہ ملک بھارت سے کافی سخت مقابلے کا سامنا ہے اور اسلام آباد میں آنے کا مقصد بھی عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنانا ہے۔ اس نمائش کا اہتمام بلتستان جمز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن نے کیا جوکہ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام جیسی کئی تنظیموں کے تعاون سے چل رہی ہے۔ ان نمائشوں سے منتظمین امید کر رہے ہیں کہ انہیں عالمی منڈی تک زیادہ رسائی حاصل ہوگی جو ان علاقوں کی ترقی میں آگے چل کر اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ | اسی بارے میں ’ملکہ سبا لندن میں‘15.08.2002 | صفحۂ اول راجستھان: چھ سو کانیں بند12.12.2002 | صفحۂ اول شیش محل کی بحالی10.03.2003 | صفحۂ اول ہیرا مفت گر چھوڑے چست22 September, 2003 | صفحۂ اول لندن میں پاکستانی زیورات کی نمائش17 December, 2003 | فن فنکار حیدرآباد کا فخر04 February, 2006 | انڈیا غزہ والوں کے ُبرے دن23 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||