جمیل دہلوی کی نئی فلم کی نمائش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نامور فلم ساز جمیل دہلوی کا کہنا ہے کہ وہ دہشتگردی پر فلم ’انفنیٹ جسٹس‘ بناکر نہ مارنے والے اور نہ ہی مرنے والے کی حمایت کر رہے ہیں ان کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ ’اگر امن چاہتے ہو تو دشمن سے دوستی کرو۔‘ کراچی میں فلمی میلے ’ کارا فلم فیسٹیول‘ میں ان کی فلمیں ’امیکیولیٹ کانسیپشن‘ اور ’انفنیٹ جسٹس‘ نمائش کے لیے پیش کی گئیں جہاں انہوں نے حاضرین کے سوالات کے جواب دیے۔ ’امیکیولیٹ کانسیپشن‘ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ چینل فور نے انہیں پاکستان میں مزاروں پر فلم بنانے کے لیے بھیجا تھا۔ وہ جب ملتان میں گلاب شاہ کے مزار پر گئے جس کا انتظام ہیجڑے انتظام سنبھالتے ہیں تو ان کو وہاں یہ فلم بنانے کا آئیڈیا ملا اور بعد میں چینل فور نے اس فلم کے لیے فنڈنگ فراہم کی۔
ان سے جب سوال کیا گیا کہ اس فلم میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان مفروضے پر قائم ہے تو انہوں جواب میں کہا کہ یہ ان کا نہیں بلکہ ان کے ایک کردار کا خیال ہے۔ جمیل دہلوی نے اپنی فلم ’بلڈ آف حسین‘ کے بارے میں بتایا کہ حالات کے پیش نظر پاکستان میں یہ پیش نہیں کی گئی اس پر پاکستان میں پابندی عائد ہے، انہوں نے اس فلم کی کچھ پائریٹ ایڈشن یہاں فروخت ہونے کے بارے میں سنا ہے۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ فلم ’جناح‘ کیوں ناکام ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بتایا کہ وہ ناضرین کے لیے نہیں اپنی جنون کی تسکین کے لیے فلم بناتے ہیں کیونکہ انہیں فلم بنانے کا جنون ہے۔ ان کی فلموں میں ضیا محی الدین کی لازمی موجودگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ زبردست اداکار ہیں۔
فلم ’انفینیٹ جسٹس‘ میں یہ تاثر ملنے پر کہ ڈینیل پرل کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کیا اور بعد میں بنیاد پرستوں پر الزام عائد کردیا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس فلم میں نظریہ سازش موجود ہے جو انہوں نے جان بوجھ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی ایک لمبی تاریخ ہے جس میں ایک جزوی سبب امریکی پالیسی بھی ہے، اس حقیقت سے پوری دنیا آشنا ہے۔ فلم میں تشدد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے انہیں اس سے کنارہ کرنے کے لیے کہا مگر اس کے بغیر فلم کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ فلم ’انفنیٹ جسٹس‘ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ نام ان کے ذہن میں امریکی فوج کے آپریشن سے آیا، امریکہ نے افغانستان میں جاری اپنے آپریشن کو ’نفنیٹ جسٹس‘ کا نام دیا تھا، جسےبعد میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||