روسی سینما میں تازہ ہوا کے جھونکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قیامِ پاکستان کے کئی برس بعد کراچی میں سوویت سفارتخانے کی جانب سے روسی فلموں کی خصوصی نمائش کا ایک محدود سا سلسلہ شروع ہوا تھا، لیکن امریکی یا برطانوی فلموں کی طرح کاروباری سطح پر روسی فلموں کی نمائش، عام سینما گھروں میں کبھی نہ ہو سکی۔ 1967 میں جب دنیا بھر کے شہروں میں 1917 کے انقلاب کی پچاسویں سالگرہ منائی جا رہی تھی تو لاہور میں پاک سوویت دوستی انجمن کی جانب سے فلم ’ماں‘ کی نمائش کا اہتمام کیا گیا، لیکن سینما میں نہیں بلکہ پرائیویٹ اجتماعات میں۔ لاہور کے سینما گھروں میں آج سے کوئی پچاس برس پہلے صرف ایک روسی فلم کی نمائش کاروباری سطح پر ہوئی تھی جسکا نام تھا ’صادق اور سمندری شہزادی‘۔ یہ ایک لوک کہانی تھی جِسے انقلابی رنگ میں پیش کیا گیا تھا لیکن یہ فلم بھی روس سے نہیں بلکہ بھارت سے دیگر اِنڈین فلموں کی کھیپ میں منگوائی گئی تھی اور یہ ہِندی میں ڈب کی ہوئی فلم تھی۔ اِن اِکّا دُکّا مثالوں کے سوا پاکستان میں روسی فلم کا چلن کہیں نظر نہیں آتا۔ آزاد خیال اور ترقی پسند نوجوانوں کو روسی سینما کے بارے میں سارا عِلم اُس سوویت لٹریچر کی بدولت ہوا جو ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں پاکستان آنا شروع ہوا اور انیس سو ستّر کے آس پاس بہت سستے داموں اور بِلا روک ٹوک ہر بڑے شہر میں میسر آنے لگا۔
اگر فرانس کو سینما کی جنم بھومی اور امریکہ کو اِسکی آغوش ِ مادر قرار دیا جائے تو رُوس یقیناً سینما کی اصل پرورش گاہ تھی جہاں گھٹنوں چلتے اس بچّے نے سیدھا کھڑے ہونا اور اپنے قدموں پر چلنا سیکھا۔ پدافکن اور آئزن سٹائن جیسے روسی ڈائریکٹر فلم کی تاریخ پر اپنے ان مِٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں لیکن جسطرح روسی فِکشن اور شاعری پر سٹالن کے زمانے میں بُرا وقت آگیا تھا اُسی طرح فلم کی درخشندہ روایت بھی دورِ سٹالن میں ماند پڑگئی اور روسی فلمیں سرکاری احکامات کی پیروی میں بنی ہوئی پروپیگینڈا کہانیوں تک محدود ہوگئیں۔ فلم کو باکس آفِس پہ کامیاب کرانا چونکہ کسی فلم ساز یا ہدایتکار کا دردِسر نہیں تھا اس لئے تمام تر توجہ ’پیغام‘ کی طرف دی جاتی تھی۔ خالص پروپیگینڈا کے اس دور میں خال خال ہی ایسی فلم نظر آتی تھی جسے عالمی سطح پر پیش کیا جاسکے۔ ماسکو کا مشہور فلمی میلہ بھی صرف ایسی فلموں کو خوش آمدید کہتا تھا جن میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سوشلزم کا جھنڈا بلند کیا گیا ہو۔
اِن حالات میں وہ ڈائریکٹر قابلِ صد ستائش ہیں جنھوں نے شدید پابندیوں کے دور میں بھی کسی نہ کسی شکل میں اپنا ماضی الضمیر بیان کرنے کی کوشش جاری رکھی مثلاً ہدایتکار نکیتا میخالکوف۔ وہ 1945 میں ماسکو میں پیدا ہوئے اور اگرچہ 1970 تک فلمی دنیا میں اُن کا نام معروف نہیں تھا لیکن آج انھیں دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی نسل کا ایک اہم روسی فلم ساز، ہدایتکار اور اداکار سمجھا جاتا ہے اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد تو وہ یقیناً روس کی اہم ترین ہستی بن چُکے ہیں کیونکہ اداکاری اور فلم سازی کے علاوہ وہ اب ایک کامیاب بزنس مین بھی ہیں اور مالی طور اتنے مستحکم ہیں کہ روسی فلمی صنعت کی بہتری کے لئے کئی طرح کے کارہائے خیر میں حصّہ لیتے ہیں۔ اِنھیں کاموں میں سے ایک ’گولڈن ایگل ایوارڈ‘ کا اجراء ہے جو کہ بہترین روسی فلموں اور اعلیٰ ترین ٹی وی پروگراموں کو دیا جاتا ہے۔ شاید اِنھیں سرگرمیوں کی بناء پر میخالکوف کو روسی سینما کی نئی لہر کا بہترین نمائندہ قرار دیا جاتا ہے۔ خود انکی لکھی اور ڈائریکٹ کی ہوئی تازہ ترین فلم ہے: ’دھوپ جلے لوگ‘ جِس کی نمائش سالِ نو کے موقعے پر متوقع ہے۔ اس فلم میں انھوں نے ایک اہم کردار بھی اد کیا ہے۔ یہ اُن لوگوں کی دُکھ بھری داستان ہے جو انقلاب کے دھوکے میں اپنا سب کچھ قربان کر بیٹھے لیکن انھیں سراب کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔
روس میں بدلے ہوئے فلمی منظر کا اندازہ اس امر سے ہو جانا چاہیئے کہ سالِ گزشتہ کی بہترین روسی فلم کا گولڈن ایگل ایوارڈ ایک ایسی فلم کو دیا گیا جس میں افغانستان پر روس کے حملے کو کارِ لا حاصل قرار دیا گیاہے۔ روس کے طول و عرض میں مقبول ہوئی نامی یہ فلم The 9th Company اور اس نے ویت نام کی جنگ کے موضوع پر بننے والی معروف امریکی فلم ’ڈِیئر ہنٹر‘ کی یاد تازہ کر دی۔ نائنیھ کمپنی کے چار سیکوئنس ہیں۔ پہلے حصّے میں ایک روسی افسر اپنے جوانوں کو افغان مجاہدین پر حملہ کرنے کی تیاری کروارہا ہے اور انھیں بتا رہا ہے کہ ہم مہذّب دنیا سے تعلق رکھنے والے شریف لوگ ہیں جبکہ ہمارا واسطہ یہاں ایک وحشی جنونی اور جنگلی گروہ سے ہے۔۔۔ اچانک افسر کی نگاہ ایک ایسے سپاہی پر پڑتی ہے جو لیکچر کو غور سے نہیں سن رہا۔ اِس پر افسر اچانک طیش میں آجاتا ہے اور مار مار کے سپاہی کو ادھ مُوا کر دیتا ہے۔ اگلے منظر میں ایک روسی سپاہی کو حکم دیاجاتا ہے کہ کہیں سے ماچس ڈھونڈ کےلاؤ۔ سپاہی باہر جاتا ہے تو اسے گدھے پر سوار ایک افغان ملتا ہے جو اسے ماچس دلوانے کےلئے ایک بستی میں لےجاتا ہے۔ لیکن وہاں جاکر روسی سپاہی کو پتہ چلتا ہے کہ اس بستی پر تو مجاہدین کا قبضہ ہے۔ خوف سے اسکا خون خشک ہو جاتا ہے لیکن کچھ ہنستے مسکراتے ہوئے بچّے اسے ماچس لاکر دیتے ہیں اور خدا حافظ کہتے ہیں۔ حیرت زدہ روسی سپاہی واپس اپنے کیمپ میں آجاتا ہے۔ تیسرے سیکوئنس میں ایک روسی سپاہی کا سامنا اچانک ایک افغان مجاہد سے ہوجاتا ہے جو اس پر حملہ کرنے کی بجائے ٹوٹی پھوٹی روسی زبان میں اسکا حال چال پوچھتا ہے۔ اگرچہ روسی سپاہیوں کو حکم ہے کہ کوئی افغان مجاہد سامنے آجائے تو اسے فوراً گولی مار دو لیکن روسی اسے چھوڑ دیتا ہے۔ افغان مجاہد چلتے ہوئے لڑکھڑا جاتا ہے جس پر روسی سپاہی گھبراہٹ میں اس پر فائر کر دیتا ہے اور مجاہد وہیں ڈھیر ہو جاتا ہے۔ آخری سیکوئنس میں روس کے فوجی شام کے دھند لکے میں اُن جانے پہچانے پہاڑوں اور درّوں پر نگاہ ڈالتے ہیں جنھیں دیکھنے کے وہ عادی ہو چکے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اب تو یہی اپنا ٹھکانہ ہے، باقی عمر اسی ماحول میں گذرے گی۔۔۔ رات کا اندھیرا جب سپیدہء سحر میں تبدیل ہوتا ہے تو روسی سپاہی اِن پُرسکون لمحات کو صبحِ وطن سے تعبیر کرتے ہیں۔۔۔ لیکن عین اس وقت افغان مجاہدین گھات لگا کر ایک بڑا حملہ کرتے ہیں اور ایک ایک روسی کو بھون کے رکھ دیتے ہیں۔ اشتراکی دور میں ایسا کوئی منظر فلمانا نا ممکن تھا جس میں ’عظیم سوویت سپاہ‘ کی ہیٹی ہو، لیکن آج کا فلم ساز ہر طرح کے حقائق کو منظرِ عام پر لانے کے قابل ہوچکا ہے۔ برسوں پہلے، خاموش فلموں کے دور میں، ژِیگاورتوف نے جیتی جاگتی اصل زندگی کو بغیر کسی بناوٹ یا تصنع کے، سیلولائیڈ پر منتقل کرنے کی جو عظیم روایت شروع کی تھی، اور جسے دنیا بھر کے دستاویزی فلم سازوں نے سراہا تھا‘ آج روس کے دو نوجوان ڈائریکٹر اسی پر عمل کر رہے ہیں۔ الیکسی پوپو گریبسکی اور بورس خلیبنیکوف اپنا مووی کیمرہ لے کر ماسکو کی سڑکوں پر نکل جاتے ہیں اور بغیر سکرپٹ کے شوٹنگ کرتے ہیں۔ اس انداز میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’چالاک مینڈک‘ (2000) تو محض ایک تجربہ ہی ثابت ہوئی لیکن 2003 میں بننے والی ’ کوکتےبل‘ شاندار انداز میں سینما گھروں تک پہنچی۔ اس فلم میں ایک باپ کی کہانی تھی جو شادی کے کچھ ہی عرصہ کے بعد گھر چھوڑ کے چلا جاتا ہے اور برسوں بعد اسکا واسطہ اپنے جوان بیٹے سے پڑتا ہے جسکی پرورش تنہائی میں ہوئی ہے چنانچہ وہ کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ اگر سوویت دور میں یہ کہانی فلمائی جاتی تو افسر شاہی اس پر اعتراض کرتی کہ بچّے کو پالنا ریاست کی ڈیوٹی ہے چنانچہ ریاستی سر پرستی میں پلا ہوا بچّہ انسانیت کا ایک اعلیٰ نمونہ ہونا چاہیئے نہ کہ ذہنی اُلجھنوں کا شکار۔ تاہم آج کے روس میں نہ صرف کہانی سرکاری اعتراض سے بچ گئی ہے بلکہ حکومت نے اسکی تکمیل کےلئے کچھ فنڈ بھی مہیّا کیا۔ 2004 میں بننے والی فلم ’نائٹ واچ‘ ایک طرح سے نئے روسی سینما کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔ یہ فلم پرائیویٹ سیکٹر میں بنی اور پروڈیوسر کسی بھی طرح حکومت یا ریاست کو جوابدہ نہیں تھا بلکہ صرف کمپنی کے حصّے داروں کو مطمئن کرنے کا پابند تھا۔ فلم ’نائٹ واچ‘ مستقبل کی ایک تصوراتی کہانی ہے اور فلم ساز کمپنی کے 51 فیصد حصص ملک کے سب سے بڑے ٹی ۔ وی نیٹ ورک ’چینل ون‘ کے پاس ہیں جسکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’انسانی دلچسپی کی کہانیاں فلما کر ناظرین کو لطف بہم پہنچانا اور اس کاروبار سے نفع کمانا‘ ہمارا بنیادی طریقِ کار ہے۔ فلم کا دوسرا حصّہ ’ڈے واچ‘ اسی سال نمائش کےلئے پیش کیا جارہا ہے اور تیسرا حصّہ ’ڈسک واچ‘ آئندہ برس منظرِ عام پر آئے گا۔ | اسی بارے میں دوبئی میلہ: عرب فلم سازی کا احیاء21 September, 2006 | فن فنکار راجپوت شہزادی: نیا فلمی تنازعہ13 November, 2006 | فن فنکار ہزاروں عورتیں ۔ ایک دیوانگی04 November, 2006 | فن فنکار مہنگی فلمیں: لاگت کیسے پوری ہو؟26 October, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||