جو ’رامچند پاکستانی‘ میں نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں یکم مئی کی شام بارش برسی تھی اور ایسٹ ولیج کے سنیما کے تھٹیر کے آگے لمبی لائن پھر بھی لگی تھی جس میں میں اور میرا ایک دوست ’چانس پر ٹکٹ‘ لینے کے لیے کھڑے تھے۔ ’ہٹو بچو مارلن برانڈو کے لیے جگہ بناؤ‘۔ باکس آفس کی کھڑکی تک پہنچنا تو درکنار، لائن والوں پر نظر رکھنے والے گیٹ کیپر روایتی اونچی آواز اور دھمکی ملے لہجے میں کہہ رہے تھے۔ دنیا بھر میں سنیما گھروں کے گیٹ کیپرز اور پولیس والے اپنے رویوں میں ایک سے ہوتے ہیں۔ مارلن برانڈو بھی آرہا ہے؟ میں نے نروس ہوکراپنے دوست سے پوچھا۔ ’نہیں۔ یہ، فلم مائی مارلن برانڈو‘ کی بات کر رہے ہیں۔ میرے دوست نے کہا۔ ہر سال اپریل کے آخری ہفتے میں، جگ مشہور ہالی وڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو کی طرف سے منظم کیے گئے اس فلمی میلے میں دنیا بھر کی منتخب فلموں کی نمائش کی جاتی ہے اور ایک عالم تماشائی ہوتا ہے۔ ’سنا ہے اس میلے میں کوئی پندرہ فلمیں اسلام پر آئی ہیں‘۔ میرا ایک دوست کہہ رہا تھا۔ ’ہاں یہی لائن ہے، میں بھی رامچند پاکستانی کے لیے آئی ہوں‘۔ ایک مقامی خاتون نے کہا۔ اس کے ساتھ آنے والا مرد اسے بتا رہا تھا وہ کئی سال اففانستان میں رہ کر آیا ہے۔ ’ہم یہ فلم تین بار دیکھ چکے ہیں۔ اتنی زبردست ہے‘ میرے ایک دوست جوڑے نے کہا جن سے وہیں لائن میں ملاقات ہوگئي۔
’میں یونیورسٹی میں مشرق وسطی پڑھاتا ہوں۔ مراکش میں پیدا ہوا اور فرانس میں پلا بڑھا ہوں۔ یہ فلم یقینناً سندھ پرہوگی‘ انکے ایک دوست نے کہا۔ ’لو بھئی جاوید جبار بھی آگئے‘۔ کسی نےکہا۔ ’وہ ایک بڑھیا ڈائریکٹر ہیں‘۔ لائن میں کھڑے ایک نے دوسرے سے کہا۔ ’ٹی سی کرنے والوں کی بھی ایک الگ لائن ہونی چاہیے‘ میرے ایک دوست نے سنک کر کہا۔ ٹیسٹیکلز کیئریر لائن! رامچند پاکستانی۔ ٹائیٹل شروع ہوا ۔ نمبر چلنے لگے۔ میرے ذہن میں بھی ایک فلم چلنے لگی پیچھے کی طرف۔ دور پاکستان یا سندھ کے صحرائے تھر کی طرف۔ ’تھر دو ہیں۔ ایک وہ ہے جو میڈیا دکھاتا ہے دوسرا وہ جو حقیقت ہے‘ کئی سال قبل مجھے تھر میں جنم لینے والے کسی لکھاری کی بات یاد آئی۔ اب تھر نیویارک کے بڑے فلمی میلے میں بڑے پردے پر دکھایا جارہا تھا۔ بالی وڈ کی فلم فائر فیم اداکارہ نندیتا داس کو تو سب جانتے ہیں لیکن اس فلم میں انکے ساتھ مرکزی کردار میں کام کرنے والے اداکار راشد فاروقی حسب سابق اپنی ایکٹنگ کی چوٹی پر ہیں۔ طاہرہ واسطی بھی زوروں کی ایکٹنگ پر ہیں۔ ایک ممبئی وتی، بڑی چالو، کٹر مہاراشٹرن، ہندوجیل ڈپٹی لیکن دل کی اچھی اور اداکاری کی شوقین کا کردار کیا ہے انہوں نے۔ کہانی، اس سے پہلے کراچی میں تھیٹر اور ٹی وی کے منجھے ہوئے لکھاری کے طور جانے والے محمد احمد نے لکھی ہے جو بھارتی سرحد سے لگے تھر کے کولہی ذات کے ایک نام نہاد اچھوت یا دلت بچے رامچند کے کہانی ہے۔ (دلتوں سے سلوک کے حوالے سے دونوں ہی ملک اب تک غلامی اور نیم غلامی کے عہد میں ہیں) دلت دوست لکھاری اور پاکستان میں ان پر مستند اتھارٹی خورشید قائم خانی نے ان قبیلوں کو ’بھٹکتی نسلیں‘ کہا ہے۔
کہانی دونوں ملکوں کے بیچ جنگ کے امڈتے بادلوں میں اس کولہی نندیتا داس اور راشد فاروقی کے آٹھ سالہ بچے (اصل میں سید فضل حسین) رامچند کے گھر سے ناراض ہوکر بھاگتے بھاگتے انجانے میں بھارتی سرحد میں داخل ہونے اور اس کے پیچھے اسے روکنے کے لیے آنے والے اس کے باپ راشد فارقی کی بھارتی سیکیورٹی فورس کے ہاتھوں پاکستانی جاسوس قرارد دے کر گرفتاری، جیل اور اس کے پیجھے پاکستانی تھر میں ان کی ’ترتیب وار ماں اور بیوی نندیتا داس کے ساتھ پیش آنے والے حالات کی گرد گھومتی ہے۔ کہانی فلم کی ہوتے ہوئے اس قدرحقیقت کے قریب ہے کہ جب یہ فلم نیویارک کے فلمی میلے ٹرائیبیکا فلم فیسٹول میں پیش کی جانے والی تھی تب بھی ایسے ہی بچوں کی خبر آئی تھی جو پاکستان کے ٹنڈو اللہ یار سے والدین کے تشدد سے تنگ ہوکر اور بھاگ کر کھوکھرا پار سے ہندوستان جاتی دوستی ٹرین میں چوری چھپے چڑھ کر بھارت میں گرفتار ہو کر پھر سفارتی سطح کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں آزاد ہوکر آئے تھے۔ فلم کے گیت کار انور مقصود ہیں اور اس کے چار گانے شوبھا مڈگل نے گائے ہیں۔ کہانی میں وہ سینماٹک روپ و رنگ اور محل و وقوع رکھنے والا تھر ہے جہاں اس فلم کی شوٹنگ کی گئی ہے۔ بھارتی سرحد کے ساتھ لگتے اس پاکستانی تھر جانے والی نندیتا داس نہ فقط پہلی بھارتی ادارکارہ ہیں بلکہ شاید پہلی غیر ملکی ہوں گی وگرنہ کچھ سال قبل تو وہاں غیر ملکی تو کیا اس کے علاقے ننگر پارکر میں استعمال شدہ غیرملکی یا لنڈے کے کپڑے لانا بھی منع تھا۔ رینجرز، کالا ناگ اور ارباب، تھر کے بادشاہ تھے۔ شاید اب بھی ہوں۔ شاید پاکستانی اور بھارتی حکومتوں سے ڈائریکٹر جاوید جبار جیسے شخص کو ایسی مراعات بھی اس فلم کے لیے ملی ہوں جنہوں نے پاکستان بھارت تعلقات کے تناظر میں اپنی پروڈیوسر بیٹی مہرین جبار کے ساتھ تھر جاکر تھر کی سچی کہانی پر فلم بنائی ہے۔ تھر کے صحرا میں اگر رات کو ریت کا کوئی ٹیلہ آپ ایک جگہ دیکھ کر آئيں گے تو ہو سکتا ہے کہ اگلی صبح وہ وہاں نہ ہو۔ ہوا اسے کہیں بھی لے جا سکتی ہے۔ لیکن تھر کے تمام مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ وہی غربت، وہی بھوک وہی افلاس اور رینجرز، پٹیلوں اور اربابوں کے ہاتھوں ذلتیں برداشت کرتے لوگ۔ پاکستان جاوید جبار تو بناتا ہے لیکن بنگلہ دیش والا محمد یونس نہیں بناتا۔
یہ فلم جس میں تھر کا وہ مصالحہ اور رنگ موجود ہے جو نہ فقط دنیا کے اس خطے میں دلچسپی رکھنے والوں کو بلکہ ’نیویارک ٹائمز‘ کے عام قاری فلم بینوں میں سے اکثر کو سنیما میں یہ فلم دیکھ کر راضی خوشی گھر لوٹنے سے نہیں روکتا لیکن فلم دیکھنے والا ساتھ آنے والی محسوسات کو نہیں روک سکتا۔ کسی حد تک پاپولر یا کسی حد تک فارمولا فلم – سیدھی سادی سنیماٹوگرافی جسے پتہ نہیں کیوں ایک فلم شاگرد نے ’ستیہ جیت رے کی فلموں کے مکتب فکر کی لائن‘ میں شمار کیا وگرنہ یہ ایک ایسا ون لائنر سکرپٹ ہے جو کراچی میں تھیٹر کے ہر ڈرامہ نگار کا خواب رہا ہے اور جسے مقامی ڈی سی آفس والے اب تک انیسویں صدی کے قانون کے تحت ہی سِنسر کرتے آئے ہیں۔ چھوٹے مختصر جُگتی اور استرے کی کاٹ رکھنے والے جملے اور ڈائیلاگ، گالی گلوچ زندگی کے تمام حسن اور کمینگیوں سے بھرپور۔ چہ جائيکہ ’رامچند پاکستانی‘ میں سٹوری اور سیکوینسِز کے حوالے سے کئي چھوٹے بڑے جھول موجود ہیں لیکن یہ شارٹ فلموں اور پاکستان میں ٹی وی ڈراموں کی پروڈیوسر مہرین جبار کی پہلی فیچر لینتھ لیکن کامیاب فلم ہے، جو آپ کو اس سے پہلے پاکستان میں دکھائی جانے والی فلم ’خدا کے لیے‘ سے پھر بھی کئی درجہ بہتر لگے گی۔ رامچند پاکستانی میں آخر کار بچہ رامچند (جس کے بڑے ہونے کا کردار نوید جبار نے ادا کیا ہے) واہگہ کے راستے پاکستان آجاتا ہے لیکن اسکا باپ راشد فاروقی پیچھے بھارت کی جیل میں رہ جاتا ہے۔ ایسے کئی بھارتی قیدی بھی پاکستانی جیلوں میں جاسوسی کے الزام میں قید ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ فلم ’رامچند پاکستانی‘ نجی کاروباری مقاصد کے لیے بنائی گئي ہے کہ نہیں اور یہ بھی کہ دنیا میں اس کی نمائش سے حاصل کی جانے والی آمدنی تھر کی ترقی اور تھریوں کے بھلائی پر خرچ کی جائے گي کہ نہیں؟ رامچند پاکستانی چار جولائی سے پاکستان کے سنیماؤں میں بھی نمائش کے لیے ریلیز ہوگی۔ جس طرح اس کی پذیرائی نیویارک کے ٹرائیبیکا میلےمیں ہوئی ہے اس سے لگتا ہے کہ اس فلم کو امریکہ کے سنیما گھروں میں بھی ریلیز مل جائے گي۔ اچھی بات یہ بھی ہے کہ علن فقیر کی آواز میں عظیم سندھی شاعرشیخ ایاز کی وائی ’ثڑی پوندا ٹاریئيں‘ اور مائی بھاگی کی آواز میں ڈھاٹکی لوک گیت ’کھڑی نیم کے نیچے‘ بھی شامل ہیں۔ صادق فقیر اور موہن بھگت بھی ہوتے تو کیا بات تھی! تھر کو پھر ایک اور شو کیس میں رکھا گیا ہے۔ چلو اچھا ہوا کہ رامچند نام والے کو بھی پاکستان میں آخر کار پاکستانی سمجھا توجانے لگا! |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||