BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 January, 2008, 14:31 GMT 19:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عوام ہی اصل حقیقت باقی سراب

صدر مشرف
شدت پسندوں کے خلاف ناکامی مغربی دنیا کے لیے بھی مہنگی پڑیگی
یورپ کےدورہ کے آخری مرحلے میں صدر پرویز مشرف نے کل لندن میں دفاعی امور سے متعلق ادارے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے اراکین سے خطاب کیا اور تقریباً وہی باتیں کہیں جو وہ برسلز، پیرس اور ڈیوس میں کہتے آئے ہیں۔ یعنی یہ کہ پاکستان کے جوہری اسلحے کے ذخائر محفوظ ہیں اور وہ شدت پسندوں کے کنٹرول میں اسی صورت میں جاسکتے ہیں جب شدت پسند پاکستانی فوج کو شکست دے دیں اور منتخب ہوکر حکومت پر قبضہ کرلیں اور یہ کہ پاکستان کسی بھی ملک کو اپنے علاقے میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتا یہ اس کی آزادی اور اقتدار اعلیٰ کے منافی ہوگا۔

دوسری بات یہ کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں ناکامی مغربی دنیا کے لیے بھی مہنگی پڑیگی۔

صدر مشرف اپنےدورے میں اس بات پر بھی زور دیتے رہے ہیں کہ پاکستان میں انتخابات 18 فروری کو ضرور ہونگے اور آزادانہ، منصفانہ اور شفاف ہونگے اور یہ کہ وہ خود انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کے علم بردار ہیں لیکن پاکستان میں ان کی سطح وہ نہیں ہوسکتی جو یورپ میں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی ملکوں کو اس مقام تک پہنچنے میں صدیاں لگی ہیں جب کہ پاکستان کو بنے ہوئے ابھی صرف ساٹھ سال ہی گزرے ہیں۔

صدر مشرف نے جتنی بار ان باتوں کا ذکر کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اس دورے کا واحد مقصد ہی ان ملکوں کو اپنے موقف کا قائل کرنا تھا اورشاید انہیں یہ بھی احساس ہے کہ اگر وہ ان ملکوں کو اپنے موقف کا قائل نہیں کر پائے تو ان کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔

جہاں تک جوہری اسلحہ کے ذخائر اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی افواج کی کارروائی کا تعلق ہے شاید ہی کوئی پاکستانی یا کوئی بھی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص ان کے موقف سے اختلاف کرے۔

قبائلی علاقے میں پاکستان کے عوام خود اپنی فوج کی کارروائی سے ناراض ہیں امریکی افواج کو کیسے برداشت کرسکتے ہیں اور اگر امریکہ نے یہ غلطی کی تو قبائلی علاقوں میں اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو خود پاکستانی افواج کا ہو رہا ہے۔

تیسری بات جو انہیں بھی پسند نہ ہو
 اس سے ہمیں وہ کیوبا کے بتستا، فلپائن کے مارکوس اور پاناما کے نوریگا کی صف میں کھڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جو شاید انہیں بھی پسند نہ ہو

جوہری اسلحہ بھی پاکستان نے خود بنایا ہے اور اس کی حفاظت بھی اس کی ہی ذمہ داری ہے۔ اگر امریکہ یا کسی اور ملک نے اپنا جوہری اسلحہ وہاں امانت کے طور پر رکھوایا ہوتا تو اسے تشویش ہونی چاہیے تھی۔

تیسری بات کہ ان کی ناکامی مغربی ممالک کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ذرا ہلکی لگتی ہے۔ اس سے ہمیں وہ کیوبا کے بتستا، فلپائن کے مارکوس اور پاناما کے نوریگا کی صف میں کھڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جو شاید انہیں بھی پسند نہ ہو۔

صدر مشرف بیرونی دنیا کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 18 فروری کو انتخابات ہونگے اور آزادانہ اور منصفانہ ہونگے لیکن دوسرے ہی لمحے وہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ توقع کرنا کہ پاکستان میں ویسی ہی جمہوریت ہوگی جیسی مغربی ممالک میں ہے غیر حقیقت پسندانہ بات ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے عزائم کے بارے میں شکوک و شبہات کو اور تقویت ملتی ہے بلکہ اس بارے میں ان کی تمام یقین دہانیوں کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ یعنی یہ کہ الیکشن شفاف تو ہونگے لیکن اتنے ہی جتنے وہ (صدر صاحب) چاہیں گے، انسانی حقوق بھی بحال ہونگے لیکن اتنے ہی جتنے وہ (صدر صاحب) مناسب سمجھیں گے، اخبارات اور میڈیا کو آزادی حاصل ہوگی لیکن جناب صدر کی اپنی ضرورت کے مطابق ’ہم یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ کوئی ہمیں غیر مستحکم کرے اور انسانی حقوق کے نام پر مطلق العنانیت پھیلائے‘۔

اس موقع پر پاکستان کے ایک سینئر صحافی اور روزنامہ ڈان کے نمائندے جناب ضیاءالدین نے جب ان سے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیوں سے متعلق سوال کیا تو صدر صاحب اطلاعات کے مطابق چڑ گئے اور انہوں نے ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے ان پر غیر ذمہ داری کا الزام عائد کردیا اور یہ تک کہ دیا کہ یہ آپ لوگ ہیں جو اس طرح کی افواہیں پھیلاتے ہیں۔

ضیاء صاحب پر اب تک ہم صحافی دوست یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ اپنی خبروں میں کچھ زیادہ ہی احتیاط برتتے ہیں۔ صدر صاحب نے انکشاف کرکے کہ وہ افواہیں پھیلاتے ہیں ہم سب لوگوں کو جھوٹا ثابت کردیا۔

اتنے سارے غیر ملکیوں کی موجودگی میں اپنے ہی ملک کے ایک سینئر صحافی کی اس طرح سرزنش کر کے صدر پرویز نے کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کیا ہوگا۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک بار ضیاء الحق مرحوم نے کسی غیرملکی دورے سے واپسی پر لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان پر غیر ذمہ داری کا الزام عائد کردیا اور ان کی برسرعام سرزنش کی۔ روزنامہ ڈان کے بیورو چیف جناب نثار عثمانی مرحوم بھی موقع پر موجود تھے۔ بس پھر کیا تھا اللہ دے اور بندہ لے۔ اس موقع پر جو جنرل ضیاء مرحوم اور جناب نثار عثمانی کے درمیان مکالمہ ہوا اس کی تفصیل کا تو یہ موقع نہیں لیکن مجھے اس کی اطلاع دیتے ہوئے جنرل ضیاء کے حامی ایک مسلم لیگی رہنماء نے کہا تھا ’تمہارے صدر نے ہمارے صدر کو چت کردیا، نثار عثمانی مرحوم اس وقت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر تھے اتفاق سے وہ مسلم لیگی رہنما اب بھی زندہ ہیں اور اب صدر مشرف کے ساتھ ہیں۔

جمہوریت سے آمریت کا فاصلہ
 جناب صدر اور ان کی قبیل کے دوسرے لوگ اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ملک جمہوریت سے آمریت میں تبدیل ہوجاتا ہے

یہ ذکر تو یوں ہی آگیا ، عرض صرف یہ کرنا تھا کہ صحافی اگر افواہ پھیلاتے ہیں تو اس کی کوئی بنیاد ضرور ہوتی ہے ، پھر وہ بچارے غیر ذمہ داری کے مرتکب ہوں بھی تو کسی کا کیا بگاڑ لیں گے لیکن جناب صدر اور ان کی قبیل کے دوسرے لوگ اگر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ملک جمہوریت سے آمریت میں تبدیل ہوجاتا ہے، سپریم کورٹ کا چیف جسٹس لوگوں کو نظربندی سے نجات دلانے کے بجائے خود نظر بند کردیا جاتا ہے۔ ملک میں ماورائے آئین اقدامات کو قانونی حیثیت مل جاتی ہے غرض کہ بقول فیض سنگ وخشت مقید ہوجاتے ہیں اور سگ آزاد۔

صدر صاحب سے میری گزارش ہے کہ وہ صحافیوں پر اس طرح کی تہمتیں لگانے کے بجائے خود اپنے رویے میں رواداری اور تحمل پیدا کریں اور بیرونی دنیا کو اپنے موقف کا قائل کرنے کے بجائے پاکستان کے عوام کو قائل کرنے کی کوشش کریں اور انہی پر انحصار کریں اس لیے کہ وہی اصل حقیقت ہیں باقی سب سراب ہے۔

صدر کی تین تقریریں
وردی اتارنےسے شیروانی پہننے تک
نواز شریف اور بے نظیرحزب اختلاف اتحاد
’یہ تو وہی جگہ ہے۔۔۔۔‘ علی احمد خان کا کالم
قبائلیبیرونی امداد اپنی جگہ
کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالے نہ کیجئے: علی احمد
رمزفیلڈرمزفیلڈ کی گردن
امریکہ میں قربانی کا بکرا : علی احمد خان
سوالمنصور کا دل گردہ
چونکہ چنانچہ اور اگر مگر کیوں؟ علی احمد
بُش اور مشرفتقاضے بڑھ گئے
امریکہ کے پاکستان میں نئے گھوڑے:علی احمد
لبنانعرب قومیت زندہ ہے
لسانی اور ثقافتی بندھن بمباری سے نہیں ٹوٹتے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد