کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں جمہوریت کی جو شمع روشن کی گئی ہے اب اس کی لو نے غالباً شعلوں کی شکل اختیار کرلی ہے اور یوں لگتا ہے کہ اس کی لپیٹ میں اب پاکستان بھی آگیا ہے۔ چنانچہ ہلاکتوں کی خبریں اب افغانستان کے مقابلے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے زیادہ اور تواتر سے موصول ہورہی ہیں۔ افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے درانداز افغانستان آرہے ہیں اور پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حکومت طالبان سے نمٹنے میں اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے اس کے خلاف بے سروپا الزامات لگارہی ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے 80 ہزار فوجی دراندازوں کو روکنے اور غیر ملکیوں کی تلاش کےلئے قبائلی علاقوں میں تعینات کئے ہوئے ہیں۔
میں غالباً 2004 کے اواخر میں پاکستان گیا تھا تو وہاں پاکستان کے چند معمر سیاستدانوں، وکلا اور دانشوروں سے پاکستان سمیت علاقے کی صورتحال پر طویل گفتگو کا موقع ملا۔ ان لوگوں میں ملک کے ممتاز سیاستدان اور پشتو کے شاعر جناب اجمل خٹک اور جمیعت علماء اسلام(سمیع الحق گروپ) کے سربراہ مولانہ سمیع الحق بھی شامل ہیں۔ دونوں صوبہ سرحد میں اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں پشتون ہیں۔ جناب خٹک نے مزید کہا کہ اگربلوچ اور پشتون پاکستان میں تنگ ہوجائیں اور اپنے حقوق سے محروم رہیں اور افغانستان کا مسئلہ بھی جاری رہے تو اس سے ان کو یہ پیغام ملے گا کا آپ اپنا کوئی اور راستہ تلاش کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا عالم یہ ہے کہ ایک ہی خاندان کا ایک گھر ادھر ہے ایک گھر ادھر اگر یہاں کچھ ہوتا ہے تو دوسری طرف بھی لوگ متاثر ہوتے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے ورنہ اس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑے گا۔ اور جب میں نے خٹک صاحب سے کہا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ صدر پرویز امریکہ کو افغانستان کے خلاف کارروائی سے روک سکتے تھے یا تو انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھی اب اپنی غلطی کا اندازہ ہوچلا ہے ، اب ہمارے پاس دو راستے ہیں ایک تو یہ کہ ان سے جو مالی امداد مل رہی ہے وہ لیتے رہیں اور جو کچھ ہورہا ہے وہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق برداشت کرتے رہیں ۔ دوسری شکل یہ ہے کہ انہیں سمجھائیں کہ اگر تم نے اپنا یہ سلسلہ جاری رکھا اور ہم سے بھی یہ کراتے رہے تو علاقے میں چین ، روس ، ہندوستان اور ایران بھی ہیں پھرلوگ ان کی جانب دیکھنے لگیں گے۔ جناب خٹک نے کہا دہشت گردی کا مقابلہ بمباری سے نہیں ہوسکتا ۔ اس کے لئے پر امن اور مذاکرات کے راستے اختیار کئے جانے چاہئیں اور ان کا اصرار تھا کہ اگر صدر پرویز امریکیوں کو سمجھائیں تو ممکن ہے انہیں کچھ عقل آجائے۔
مولانا نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان میں اس صورتحال نے طول کھینچا تو اس کا اثر پاکستان پر بہرحال پڑے گا۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ جب سے امریکہ نے افغانستان میں کارروائی شروع کی ہے ڈیورنڈ لائن کی بات بھی سننے میں آرہی ہے اور پختونستان کا مسئلہ بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست نقصان پاکستان کو پہنچے گا اور اس کا خمیازہ بھی بھگتنا ہوگا۔ واضح رہے کہ ان دونوں حضرات سے میری گفتگو 2004 کے اواخر میں ہوئی تھی اور یوں لگتا ہے کہ انہوں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ کچھ بہت زیادہ غلط نہیں تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جناب پرویز مشرف کو یا کسی کو بھی جو سیاستداں اور سیاسی مدبر ہونے کا دعوی ٰ کرتا ہے کوشش کرنی چاہئے کہ کوئلوں کی دلالی میں اس کے ہاتھ کالے نہ ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر پرویز ملک میں اقتصادی ترقی چاہتے ہیں اورغالباً اسی لئے امریکہ سمیت کسی بھی بڑی طاقت سے بگاڑ نہیں چاہتے لیکن انہیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ صرف بیرونی امداد یا حمایت سے یہ مقصد حاصل نہیں کر سکتے اس کے لئے پاکستان کے عوام کی حمایت بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان کے عوام میں بلوچستان اور وزیرستان کے عوام بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں ’شرپسند پھر بچ نکلے‘18 March, 2006 | قلم اور کالم یوریشیا پر کنٹرول کی امریکی جنگ15 March, 2006 | قلم اور کالم یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم۔۔۔۔۔۔11 March, 2006 | قلم اور کالم ’پورا ملک ہی حلبجہ بن گیا‘ 25 February, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||