یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم۔۔۔۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں تاریخ آگے بڑھنے کے بجائے دائرے میں گھومتی رہتی ہے۔ جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے تھے تو ہمارے ایک کالم نویس دوست نے صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کسی فلمی گانے کے یہ بول سنائے تھے ’یہ تو وہی جگہ ہے، گزرے تھے ہم جہاں سے‘۔ گزشتہ 58 سال سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ جمہوریت کا ہر سفربڑے وعدے وعید اورپرجوش نعروں سے شروع ہوتا ہے اور آٹھ دس برس کے بعد ہم پھر وہیں پہنچ جاتے ہیں جہاں سے آغاز ہوا تھا۔ اس اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے لئے سینیٹ کی اسلام آباد سے نشست کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل نے اے آر ڈی کے امیدوار کے مقابلے میں اپنا امیدوار بھی نہیں کھڑا کیا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ محترمہ بےنظیر اور میاں نواز شریف کے درمیان ملاقات کرانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں محترمہ بےنظیر اور میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف کے درمیان ایک ملاقات ہوئی ہے۔ محترمہ بے نظیر کا غالباً کہنا ہے کہ ان کے خلاف بدعنوانیوں کے سارے مقدمات میاں صاحب کے دور حکومت میں قائم کئے گئے تھے اور وہ کسی ملاقات سے پہلے یہ اعلان کریں کہ ان کے دور میں لگائے جانے والے یہ الزامات غلط تھے۔امید ہے کہ میاں شہباز شریف سے محترمہ کی ملاقات کے بعد میاں نواز شریف سے بھی ان کی ملاقات ہوجائے گی۔ اے۔ آر۔ ڈی کے حالیہ سربراہی اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بش نے صدر پرویز کی حکومت سے کوئی معاہدہ نہ کرکے ان کی پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے، حکومت کی ساکھ ختم ہوگئی اور بش نے آئندہ انتخابات شفاف اور ایماندارانہ کرانے کی بات کرکے حزب اختلاف کے موقف کی تائید کی ہے کہ گزشتہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ بہر حال پاکستانی حزب اختلاف نے امریکہ سے اشارہ پانے کے بعد یا معروضی حالات کے تحت، آپس میں اتحاد کا یہ ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس کی ہر شخص تائید کرے گا جو یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام حقیقی جمہوریت کے قیام کے بغیرممکن نہیں۔ لیکن پاکستان میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے جو اپنے سابقہ تجربات کی روشنی میں یہ سمجھتے ہیں کہ اس اتحاد کا بھی حشر وہی ہوگا جو ملک کی اٹھاون سالہ تاریخ میں ہر سیاسی اتحاد کا ہوتا آیا ہے۔ اگرچہ میری نظر میں اتنی مایوسی کفر کا درجہ رکھتی ہے لیکن ان لوگوں کی یاسیت کی وجوہات تو موجود ہیں۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اس اتحاد میں شامل ہر جماعت اور ہر رہنما نے اپنے دور اقتدار میں وہی کچھ کیا جس کا الزام آج پرویز مشرف کی حکومت پر عائد کیا جارہا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس اتحاد میں شامل ہر جماعت اور ہر رہنما نے اپنے مخالف کو نیچے گرانے کےلئے فوج کا سہارا لیا ، عدلیہ کی بے حرمتی کی اور ہارس ٹریڈنگ کے ایسے ایسے مضحکہ خیز مظاہرے کئے کہ ان کا ذکر بھی معیوب لگتا ہے۔ کسی کا قول ہے کہ عقلمند دلیلوں سے چیزوں کو سمجھتےہیں ، کم عقل تجربات کی روشنی میں باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بیوقوف صرف ضرورت کے مطابق کام کرتے ہیں۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر حزب اختلاف کا یہ ایک نکاتی اتحاد اقتدار میں آگیا تو ملک کو درپیش مسائل کے بارے میں اس کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کا انحصار تو اس بات پر ہوگا کہ یہ اتحاد صدر مشرف کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد بھی قائم رہے اور اگر قائم رہتا ہے تو ملک کو درپیش مسائل کے بارے میں اس کی پالیسیاں ایسی ہوں جنہیں امریکہ سے زیادہ اپنے ملک کے عوام کی تائید حاصل ہو۔ مثلاً اقتدار میں آنے کے بعدوہ افغانستان اور طالبان کے بارے میں کیا حکمت عملی اختیار کرے گا۔ پھر جلد ہی دونوں ملکوں کے درمیان ’ڈیورانڈ لائین‘ کا مسئلہ بڑے زور و شور سے اٹھنے والا ہے بلکہ میرا تو خیال ہے کہ آپس میں موجودہ تناؤ کی بنیادی وجہ یہی ہے اور ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ اٹھا تو پختونستان کا مسئلہ بھی اٹھے گا۔ اس اتحاد کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ایران اور ایران سے گیس پائپ لائن پاکستان لانے کے منصوبے کے بارے میں اس کا رویہ کیا ہوگا۔اس لئے کہ صدر پرویز مشرف سے امریکہ کے مبینہ عدم اطمینان کی ایک بڑی وجہ ایران اور پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں۔ ہندوستان اور کشمیر سے متعلق بھی اسے اپنی حکمت عملی کی وضاحت کرنی چاہئے، اس سلسلے میں صدر پرویز مشرف کی جو پالیسی رہی ہے اس کو وہ برقرار رکھیں گے یا اس میں ترمیم کریں گے۔ ملک کی معیشت کی بہتری کے لئے وہ کیا اقدامات کریں گے ۔ صوبائی خود مختاری اور دریاؤں سے پانی کی تقسیم جیسے مسائل کے بارے میں ان کی پالیسی کیا ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو صدر مشرف کی حکومت کے خلاف کوئی تحریک شروع کرنے سے پہلے ان مسائل کے بارے میں سنجیدگی سے اپنا ہوم ورک کرلینا چاہیے۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو ممکن ہے وہ جنرل مشرف کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن ملک میں جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کے قیام کی کوششیں ایک بار پھر کسی جانب سے ’فوج کو اپنا آئینی کردار ادا کرنے کی دعوت دینے پر، منتج ہوسکتی ہیں‘۔ | اسی بارے میں بینظیر کاخطاب اور جمہوری تقاضے04 May, 2005 | قلم اور کالم پاکستان کا ملامتی سیاستدان26 January, 2006 | قلم اور کالم سیاست، پروپیگنڈا کے کارخانے18 February, 2006 | قلم اور کالم ’پورا ملک ہی حلبجہ بن گیا‘ 25 February, 2006 | قلم اور کالم بھاشا ڈیم بھی تنازعات کی زد میں19 January, 2006 | قلم اور کالم ’بھٹو ضیا کے پہلے قیدی تھے‘04 April, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||