بھاشا ڈیم بھی تنازعات کی زد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بظاہر کالا باغ ڈیم کے منصوبہ پر سنگین بحران کے بڑھتے ہوئے خطرناک طوفان پر بند باندھنے کے لیے ملک میں کالاباغ ڈیم سمیت سن دو ہزارسولہ تک پانچ بڑے بندوں کی تعمیر کے منصوبہ کا اعلان تو کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان مجوزہ بندوں میں فوقیت بھاشا اور منڈا ڈیم کو دی جائے گی۔ ہر ایک اس اعلان کے بارے میں اپنے اپنے طور پر توجیع پیش کر رہا ہے۔ کالاباغ ڈیم کے مخالف اسے اپنی فتح قرارد دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صدر جنرل مشرف آخر کار اس منصوبہ کو موخر کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ وہ لوگ جو کالا باغ ڈیم کے حامی ہیں ان کا اصرار ہے کہ بالاخر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ بیشتر مبصرین کا خیال ہے صدر جنرل مشرف نے بھاشا ڈیم اور منڈا ڈیم کے منصوبوں کو فوقیت اس بناء پر دی ہے کہ چاروں صوبوں میں بھاشا ڈیم اور منڈا ڈیم کے منصوبوں پر اختلاف اور اعتراض نہیں ہے لیکن قرائن اس بات کے ہیں کہ گلگت میں چلاس اور بازین کے درمیان مجوزہ بھاشا ڈیم کا منصوبہ تنازعات سے ہرگز مبرا نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے تو یہ منصوبہ اس بناء پر تنازعہ کا شکار ہوگا کہ گلگت کے اس علاقہ کی جو متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے ابھی آئینی حیثیت طے نہیں ہوئی ہے۔گو یہ پاکستان کے شمالی علاقہ کا حصہ کہلایا جاتا ہے لیکن یہ پاکستان کے آئین کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ پاکستان کی وزارتِ امور کشمیر کا یہ بڑا اٹل موقف ہے کہ یہ شمالی علاقہ پاکستان کا حصہ نہیں ہے جب کہ اس علاقہ کے عوام نے بارہا کہا ہے کہ ان کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ انہوں نے اگست سن سنتالیس میں کشمیر کے راجہ کی ڈوگرہ فوج کے خلاف مسلح جدو جہد کے ذریعہ یہ علاقہ آزاد کرا لیا تھا۔ لہذٰا اگر یہاں بھاشا ڈیم تعمیر ہوتا ہے تو اس کی رائلٹی کی ادائیگی اور اس کے لیے حاصل کی جانے والی اراضی کے معاوضہ کے سوالات سنگین آئینی پیچیدگیاں پیدا کریں گے اور مسائل کا ایسا پٹارہ کھل جائے گا جس کو بند کرنا مشکل ہوگا۔ پھر بھاشا ڈیم کے منصوبہ پر اس علاقہ میں رہنےوالے دس لاکھ عوام سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا اور نہ ان کی رائے معلوم کی گئی ہے۔ اس علاقہ کے عوام کا کہنا ہے کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر سے دیامیر ضلع کا پورا شہر چلاس زیر آب آجائے گا اور ماحولیات پر تباہ کن اثر پڑے گا۔ شمالی علاقہ کی قانون ساز کونسل کے اراکین عمران ندیم، حاجی عبدالقدوس اور حافظ حفیظ الرحمان نے بھاشا ڈیم کے منصوبہ کی شدید مخالفت کی ہے اور یہی شکایت کی ہے کہ اس علاقہ کے عوام کی اس بارے میں کوئی رائے نہیں لی گئی۔ ایک بڑا خدشہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے سلسلہ میں یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ پورا علاقہ ہندو کش کے اس پہاڑی سلسلہ کے دامن میں واقع ہے جو زلزلہ کے شدید خطرہ والا علاقہ ہے۔ آٹھ اکتوبر کے ہولناک زلزلہ کے بعد ارضی نقل و حرکت کے پیش نظر ماہرین کی رائے میں اس علاقہ میں آئندہ زلزلہ کے خطرات بڑھ گئے ہیں لہذٰا ایسی صورت میں یہاں ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ دانشمندانہ اقدام نہیں ہوگا۔ خدانخواستہ اگر زلزلہ سے ڈیم ٹوٹ گیا تو ملک کا ایک بڑا حصہ آناً فاناً زیر آب آ سکتا ہے۔ بھاشا ڈیم کا نام سن اٹھانوے میں بدل کر دیامیر ڈیم تجویز کیا گیا تھا اور اس کی ابتدائی جائزہ رپورٹ کینیڈا کی مانٹریال انجینئرنگ کمپنی نے تیار کی ہے جس کے تحت یہ ڈیم نو سو آٹھ فٹ بلند ہوگا، بجلی کی پیداواری صلاحیت چار ہزار پانچ سو میگا واٹس ہوگی اور آبی ذخیرہ کی مجموعی استطاعت نو ملین ایکڑ فٹ ہوگی۔ اس ڈیم پر لاگت آٹھ ارب ڈالر آئے گی اور تعمیر سات سال میں مکمل ہوگی۔ سن اٹھانوے میں جب اس کا نام بدل کر دیامیر ڈیم رکھا گیا تھا تو اسی وقت یہ طے کیا گیا تھا کہ اس ڈیم کا بجلی گھر دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر صوبہ سرحد کے علاقہ میں قائم کیا جائے گا۔ یوں اس ڈیم سے جو بجلی پیدا ہوگی اس کی رائلٹی کا حق دار آئین کی دفعہ ایک سو اکسٹھ (2) کے تحت صوبہ سرحد ہوگا۔ اس تبدیلی کی اصل وجہ کیا ہے اس کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ صوبہ سرحد کو بھاشا ڈیم سے زبردست فائدہ ہوگا اور بلاشبہ وہ اس منصوبے کی کسی طور مخالفت نہیں کرے گا۔ ویسے بھی منڈا ڈیم جس کی تعمیر کو بھاشا ڈیم کے ساتھ فوقیت دی جائے گی وہ بھی صوبہ سرحد میں تعمیر کیا جائے گا۔ اس بناء پر سرحد کو جو کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں پیش پیش تھا بڑی حد تک رام کیا جا سکتا ہے لیکن سندھ کو خوش کرنا اور بھاشا ڈیم پر راضی کرنا محال ہوگا۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||