 | | | عوام کو جیتنے کے لئے ، عدلیہ اور میڈیا کو آزاد کرنا بہت ضروری ہے |
صدر جنرل پرویز مشرف کو صرف صدر مشرف لکھتے ہوئے انگلیاں’ کی بورڈ‘ کی رفاقت سے گریزاں محسوس ہوتی ہیں اور میرا خیال ہے کہ انہیں صرف صدر مشرف لکھنے کا اپنے آپ کو عادی بنانے کے لیے خاصی مشق کرنی پڑیگی۔ صدر مشرف نے وردی اتارنے سے شیروانی پہننے تک تین تقریریں کی ہیں۔ پہلی تو جب وہ وردی اتار رہے تھے، دوسری سیویلین صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد اور تیسری قوم سے خطاب کی شکل میں۔ تینوں تقریروں میں انہوں نے جس تواتر سے فوج سے اپنی چھیالیس سالہ وابستگی کا ذکر کیا اور جتنی بار فوج اور اسکے نئے سربراہ کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اسے اسکی ذمہ داریاں اور وفاداریاں یاد دلائیں اس سے یوں محسوس ہورہا تھا کہ فوج کے سربراہ کی حیثیت میں وہ جتنے پراعتماد اور مضبوط دکھائی دیتے تھے، اس سے علیحدگی کے بعد اتنے ہی اس سے حوفزدہ ہیں۔ انہیں غالباً یہ احساس تھا کہ جس فوج کے بل پر وہ اتنے طویل عرصے سے اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے تھے وہ اب انکی کمان میں نہیں رہی اور پاکستان میں صدر مملکت اسی وقت تک صدر مملکت رہ سکتا ہے جبتک اسے فوج کی حمایت حاصل ہے۔ صدر مشرف نے فوج کو یہ بھی تلقین کی کہ اگر ملک کی ترقی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو تو اسے ٹھوکر مارکر ہٹا دیا جائے لیکن انہوں نے رکاوٹ کی کوئی تعریف نہیں کی۔ دوسرے لفظوں میں اسکی صوابدید پر چھوڑ دیا کہ وہ کس کو رکاوٹ سمجھتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جناب صدر کو روکاوٹ کی ایک واضح تعریف کرنی چاہئے تھی، اسے فوج کی صوابدید پر چھوڑنا خطرناک ہوسکتا۔ جناب صدر نے حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وہاں موجود مغربی ملکوں کے سفیروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کا یہ اصرار کہ آپ جیسی جمہوریت یا انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا نفاذ ہونا چاہیئے غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل عمل ہے۔ مغربی ممالک کو یہاں تک پہنچنے میں صدیاں لگی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اس پر چند مہینوں اور برسوں میں عمل در آمد ہوجائے۔  | صدیاں ہی کیوں انتظار کریں  اگر مغربی مملک نے اس جمہوریت کے فروغ میں صدیاں لگائیں تو کیا ضرور ہے ہم بھی صدیاں لگائیں۔ جیسے ہم ان سے بنا بنایا ایف 16 لڑاکا طیارہ لے لیتے ہیں اور اسکی ایجاد کے لیے صدیوں انتظار نہیں کرتے ویسے ہی انکے جمہوری اصولوں اور طریقوں کو اپنانے میں بھی غیرضروری تاخیر نہیں کرنی چاہیئے  |
یہ بات فیلڈ مارشل ایوب اور جنرل ضیاءالحق بھی کہا کرتے تھے لیکن جمہوریت تو جمہوریت ہے وہ نہ مغربی ہے نہ مشرقی۔ اسکی انتہائی جامع تعریف ایک سابق امریکی صدر ابراہم لنکن کر گئے ہیں اور وہ یہ کہ ایسی حکومت جو عوام کی ہو، عوام کے ذریعے ہواور عوام کی خاطر ہو۔ جناب صدر کے نزدیک اگر اس سے جامع کوئی تعریف ہے تو وہ بتائیں۔ دوسرے یہ کہ اگر مغربی مملک نے اس جمہوریت کے فروغ میں صدیاں لگائیں تو کیا ضرور ہے ہم بھی صدیاں لگائیں۔ جیسے ہم ان سے بنا بنایا ایف 16 لڑاکا طیارہ لے لیتے ہیں اور اسکی ایجاد کے لیے صدیوں انتظار نہیں کرتے ویسے ہی انکے جمہوری اصولوں اور طریقوں کو اپنانے میں بھی غیرضروری تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔ صدر محترم نے اپنی تیسری تقریر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے یہ مژدہ سنایا کہ وہ 16 دسمبر کو ایمرجنسی اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انتخابات حسب وعدہ 8 جنوری کو ہی ہونگے۔لیکن انہوں نے میڈیااور عدلیہ کی آزادی اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے بارے میں کچھ نہیں کہا بلکہ انہیں ایک سازش کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد انکے کیے کرائے پر پانی پھیرنا تھا۔ اس سے پہلے جناب صدر ایک غیر ملکی چینل کو انٹرویو میں اعتراف کر چکے ہیں کہ انکا 3 نومبر کا اقدام غیر آئینی تھا۔ اگر وہ اقدام غیر آئینی تھا تو اسکے تحت کیا جانے والا ہر اقدام غیر آئینی ہے اور جب اس غیر آئینی اقدام کو واپس لیا جا رہا ہے تو اسکے تحت کیے جانے والے سارے اقدامات واپس لیے جانے چاہئیں بلکہ خود بخود واپس ہوجانے چاہئیں۔ ورنہ اس سے تو اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ جناب صدر نے یہ سب کچھ صرف اس خطرے کے پیش نظر کیا کہ کہیں سپریم کورٹ انکے صدارتی انتخاب کو غلط نہ قرار دیدے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں عوام کے نزدیک اگر کوئی طبقہ قابل احترم اور قابلِ اعتماد ہے تو وہ اعلیٰ عدالتوں کے وہ جج ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا، وہ میڈیا اور ٹی وی چینل ہیں جنہوں نے حکومت کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور صحافی اور وکلاء برادری ہے جو عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کی تحریک چلا رہی ہے۔ صدر نے توقع ظاہر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابات میں بھرپور حصہ لینگی۔ انہوں نے قومی مصالحت اور یکجہتی پر بھی زور دیا ہے۔ لیکن یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ وہ جن لوگوں پر غبن اور قومی دولت لوٹنے جیسے سنگین الزامات لگا چکے ہیں انہیں گلے لگانے کے لیے تیار ہیں اور ان لوگوں کو جنکا واحد جرم حق گوئی اور آئین اور قانون کی پابندی ہے انکا نام بھی لیتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس وقت واحد مسئلہ جس پر عوام کا دل جیتا جا سکتا ہے وہ عدلیہ اور میڈیا کی آزادی ہے۔ صدر اور انکے پر خلوص مشیروں کو بھی یہ اندازہ ہوگا کہ جو اس نعرے کو لیکر اٹھے گا اسے عوام کی پذیرائی حاصل ہوگی اور جس نے اس سے پہلو تہی کی وہ عوام کی نظروں میں گر جائے گا۔ |