BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 November, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘
پاکستان کے معذول چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بیٹی پلوشہ افتخار نے ان تمام ججوں کو شکریے کا ایک خط لکھا ہے جنہوں نے ان کے والد کے ہمراہ جنرل مشرف کے پی سی او پر حلف اٹھانے سے انکارکردیا تھا۔ ذیل میں اس خط کا اردو ترجمہ شائع کیا جارہا ہے۔


نسلوں پر احسان کیا ہے
News image
 آپ نے صرف ہماری زندگی کو ہی نہیں سنوارا بلکہ ہماری اگلی نسل کو بھی۔ ہم فخر سے اپنے بچوں کو بتا سکیں گے کہ ہمارے بڑوں نے ہر سختی اور مشکل کا مقابلہ کیا لیکن دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔ ہم بھی ہمیشہ سر اٹھا کر چلیں گے اور وقار سے جیئیں گے۔
پلوشہ افتخار چوہدری
یہ خط ان تمام ججوں کے لیے ہے جنہوں نے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا اور جو میرے انکل بھی ہیں۔

میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے اپنی بات آپ لوگوں تک پہنچانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنا پڑے گا، لیکن آجکل حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ یہ ہم سب کی آزمائش کا وقت ہے۔

حالات جتنے بھی سنگین ہوں ہمیں اس بات پر فخر کرنا چاہئیے کہ اللہ نے ہمیں اس ملک کی خاطر قربانی دینے کے لیے منتخب کیا۔ ہاں، یہ قربانی ہماری اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ وطن کے لیے ہے۔

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے والد کو عدلیہ سے ہی جڑا دیکھا ہے اور اب تو یہ ہماری ذات کا حصہ بن چکا ہے۔ جیسے ہماری زندگی درخت ہے اور عدلیہ اس کی ایک شاخ۔ ہم اس شاخ کے ساتھ پل کر بڑے ہوئے ہیں اور ہم اس پر کلہاڑی کا وار ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ اگر ہم اسے نہیں بچائیں گے تو کون بچائے گا؟

ہمیں یہ قربانی دینی ہی ہے
 ہمیں سکول کالج نہیں جانے دیا جاتا تو نہ سہی، ہمارے موبائل فون چھین لیے گئے تو کیا ہوا، ہمیں کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تو نہ ہوا کرے، ہمیں اپنے گھروں میں قید کر دیا گیا اور ہمارے ساتھ شدت پسندوں یا دہشتگردوں جیسا برتاؤ کیا جا رہا ہے تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ یہ قربانی دینے کا وقت ہے اور ہمیں یہ قربانی دینی ہی ہے۔
پلوشہ افتخار چوہدری

ہمیں سکول کالج نہیں جانے دیا جاتا تو نہ سہی، ہمارے موبائل فون چھین لیے گئے تو کیا ہوا، ہمیں کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تو نہ ہوا کرے، ہمیں اپنے گھروں میں قید کر دیا گیا اور ہمارے ساتھ شدت پسندوں یا دہشتگردوں جیسا برتاؤ کیا جا رہا ہے تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ یہ قربانی دینے کا وقت ہے اور ہمیں یہ قربانی دینی ہی ہے۔

ہمیں آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے۔ آپ نے صرف ہماری زندگی کو ہی نہیں سنوارا بلکہ ہماری اگلی نسل کو بھی۔ ہم فخر سے اپنے بچوں کو بتا سکیں گے کہ ہمارے بڑوں نے ہر سختی اور مشکل کا مقابلہ کیا لیکن دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔ ہم بھی ہمیشہ سر اٹھا کر چلیں گے اور وقار سے جیئیں گے۔

ہمیں یہ تحفہ دینے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ۔

مجھے امید ہے آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گے۔
بہت پیار کے ساتھ، آپ سب کی پنکی،
پلوشہ افتخار چوہدری

انکاری جججنہوں نے انکار کیا
پاکستان کی تاریخ میں ’نہ‘ کہنے والے جج
ججزججز کالونی
ججز کالونی کے’اسیر‘، آپس میں نہیں مل سکتے
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود جج کے ایام قید
وہ دس دن بہت تکلیف دہ تھے: جسٹس(ر) طارق
وکلاء کا احتجاجیہاں بھی ایمرجنسی
اسلام آباد ججز کالونی کے نہ گفتہ بہ حالات
جنرل بمقابلہ جج
’نتائج حیران کن بھی ہوسکتے ہیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد