BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 November, 2007, 16:14 GMT 21:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اس بار دیوالی پر گھر نہیں آئیں گے

فائل فوٹو
وہ شہر کے اور کسی حصے میں نہیں جا سکتے: بھگوان داس کی اہلیہ رتنا بائی
پاکستان میں حکومت کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی نقل و حرکت میں نرمی کر دی ہے اور ان کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی ہے لیکن وہ ججز کالونی سے باہر نہیں جا سکتے تاہم ان ججوں میں سے جو اکیلے رہ رہے ہیں ان کو اپنی فیملی سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔


پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں میں سے دو ججوں کو ان کے اپنے گھروں میں جانے کی اجازت دے دی گئی ہے، ان میں راجہ محمد فیاض کے اہل خانہ کوئٹہ میں رہائش پذیر ہیں جبکہ جمشید علی کی فیملی لاہور میں رہتی ہے ۔

واضح رہے کہ جسٹس راجہ فیاض کی بیٹی کی شادی کوئٹہ میں ہو رہی ہے۔

 جمعہ کے روز ہندوؤں کا سب سے بڑا تہوار دیوالی ہے لیکن نہ ہی وہ گھر آ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی رشتہ دار ان سے ملنے ججز کالونی جا سکتا ہے۔
رتنا بائی
ججز کالونی میں محبوس جج رانا بھگوان داس کی اہلیہ نے بی بی سی اردو کے شفیع نقی جامعی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاوند کو ججز کالونی میں چلنے پھرنے کی اب آزادی ہے لیکن وہ شہر کے اور کسی حصے میں نہیں جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اہل خانہ کو ان (رانا بھگوان داس) سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ رتنا بائی نے کہا کہ جمعہ کے روز ہندوؤں کا سب سے بڑا تہوار دیوالی ہے لیکن نہ ہی وہ گھر آ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی رشتہ دار ان سے ملنے ججز کالونی جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رانا بھگوان داس نے ٹیلی فون کرکے بتایا کہ وہ دیوالی پرگھر نہیں آ سکیں گے۔ رتنا بائی نے رانا بھگوان داس کی صحت کے بارے میں بتایا کہ چونکہ ان کا حال ہی میں دل کا آپریشن ہوا ہے، اس لیے وہ دوائیاں لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا بھگوان داس ڈپریشن میں بالکل نہیں بلکہ وہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کسی بھی جج کو نظربند نہیں کیا گیا، ہم ان کو کسی طرح سے نہیں روک رہے، اور جیسے آپ نے پہلے پوچھا تھا کچھ ججز اپنے گھر جانا چاہتے ہیں تو بالکل جائیں اور اگر ان کو کسی قسم کی پرابلم ہو تو میں حاضر ہوں اور وہ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا ہے ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جا رہا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی شخص حکومت کا کوئی پیغام لے کر گیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج جسٹس جاوید اقبال کی خیریت دریافت کرنے ان کے گھر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد مکمل کر لی جائے گی۔

دریں اثناء ججز کالونی میں نظربند کئے گئے ایک جج کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج کالونی میں تو پھر سکتے ہیں لیکن آپس میں ملاقات نہیں کر سکتے۔

خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے سندھ ہاؤس کے قریب ناموں کی ایک فہرست آویزاں کر رکھی ہے جس میں ان ججوں کے رشتے داروں اور گھریلو ملازمین کے نام درج ہیں اور ان سے صرف شناخت معلوم کرنے کے بعد انہیں کالونی میں جانے کی اجازت ہے جبکہ حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی فیملی اور ملازمین کو سخت سکیورٹی کے مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔

ان ججز کے گھریلو ملازمین کو اشیاء خوردونوش لانے کے لیے دن میں صرف ایک مرتبہ مارکیٹ جانے کی اجازت ہے اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار مبینہ طور پر ان ملازمین کا پیچھا کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج(فائل فوٹو)غلامی پر ضمیر بھاری
’عدلیہ کی اکثریت کیلیے ضمیر کی آواز اہم ہے‘
عاصمہ جہانگیروکلاء پر’ تشدد‘
جیلوں میں بند وکلاء نمائندوں پر تشدد کا الزام
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد