BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 November, 2007, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غلامی پر ضمیر بھاری

 جسٹس افتخار چودھری اور مشرف
’عدلیہ کی اکثریت کے لیے اب نوکری سے زیادہ ضمیر کی آواز اہم ہے‘
صدر جنرل پرویز مشرف کے قانونی مشیر پچھلے کچھ مہینوں سے چیخ چیخ کر سپریم کورٹ کی توجہ ملائیشیا کی اس مثال کی طرف دلواتے رہے کہ چیف جسٹس سے ناراض وزیراعظم مہاتر محمد نے سپریم کورٹ کو تالے لگوا دیے تھے لیکن پاکستانی سپریم کورٹ نےاس مثال کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی ختم کر کے ان کو عہدے پر بحال کر دیا۔

جب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو نو مارچ کو سپریم کورٹ سے نکالا گیا تھا تو اس وقت یہ بات سب پر عیاں تھی کہ ان کو نکالنے کی وجہ ان سے بہتر چیف جسٹس لانا نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی تعیناتی ہے جو’قابل بھروسہ‘ ہو اور وہ کسی ایسی پٹیشن کی سماعت نہ کرے جس میں جنرل مشرف کی بطور صدارتی امیدوار اہلیت پر کوئی سوال اٹھائے گئے ہوں۔

جنرل مشرف نے وکلاء کی تحریک کے دباؤ میں سپریم کورٹ کےاس فیصلے کو تو مان لیا جس کے تحت چیف جسٹس کو بحال کر دیا گیا لیکن وہ اس دوران ملائیشیا کی مثال پر بار بار غور کرتے رہے اور بالآخر تین نومبر کو سپریم کورٹ کو تالے لگوا ہی دیے۔

جنرل مشرف نے آئین معطل کرنے کی دلیل کے طور پر سپریم کورٹ کی ’جوڈیشل ایکٹیوزم‘ کا خصوصی ذکر کیا اور اسے ملک میں خود کش حملوں کا ذمہ دار تک قرار دے دیا۔ جنرل پرویزمشرف نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ نے اکسٹھ خود کش بمباروں کو چھوڑنے کا حکم جاری کیا جو فوجی آپریشن میں لال مسجد سے زندہ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

 جنرل مشرف کےعدلیہ پر شب خون کے بعد پاکستان میں کس پر کیا الزام لگتا ہے اور ایسے کسی الزام کی شنوائی اعلٰی عدالتوں میں ہوگی اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

سپریم کورٹ نے لال مسجد کے معاملے کا نوٹس جسٹس محمد نواز عباسی کے چیف جسٹس کے اس نوٹ پر لیا تھا جس میں انہوں نے چیف جسٹس کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن پر از خود نوٹس لینے کی استدعا کی تھی۔

چیف جسٹس نےمعاملے کا نوٹس لیتے ہوئے لال مسجد کا معاملہ جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر کی عدالت میں لگا دیا۔ لال مسجد کے مقدمے کی جتنی بھی سماعتیں ہوئیں ان میں اکثریت جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کیں۔

جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر جو جنرل پرویز کے دور میں سیکرٹری قانون کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، ایک مرتبہ پھر پی سی او کے تحت حلف لے کر سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔

جنرل مشرف نے’جوڈیشل ایکٹیوزم‘ کا بڑے زوروشور سے ذکر کیا

جنرل مشرف کے ’پی سی او‘ کے تحت حلف نہ لینے والے آٹھ ججوں نے سپریم کورٹ کی اس روایت کو مزید دوام بخشا ہے جس کے تحت اعلٰی عدالتوں کےجج فوجی آمر کی وفاداری کا حلف لینے سے گریزاں ہیں۔

جنرل مشرف نے جب پہلی مرتبہ چودہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں پہلا ’پی سی او‘ جاری کیا تو ان کا ہدف عوامی نمائندوں کی اسمبلیاں تھیں۔ جنرل مشرف نے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں تو تحلیل کر دیں لیکن بقول اس وقت کے چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی عدلیہ کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انہیں نہیں چھیڑا جائےگا۔

جنرل مشرف نے تین ماہ بعد جب 25 جنوری سنہ 2000 کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کو اس وقت ’پی سی او‘ کے تحت حلف لینے کے لیے کہا جب ان کے اقتدار پرغاصبانہ قبضے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے مقدموں کی سماعت شروع کرنے کا اعلان کیا۔ سپریم کورٹ کے چھ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا۔ان چھ ججوں میں چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی اور صدرارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین بھی شامل تھے۔

 جنرل مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے انچاس ججوں نے حلف لینے سے انکار کر دیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عدلیہ کی اکثریت اب اپنی نوکری سے زیادہ ضمیر کی آواز کو اہمیت دیتی ہے۔

آٹھ سال بعد جب فوجی حکمران نے ایک مرتبہ پھر ’پی سی او‘ جاری کیا ہے تو ان کا ہدف صرف اور صرف ملک کی عدلیہ ہے لیکن سپریم کورٹ کے انیس ججوں میں صرف پانچ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا اور چودہ گھروں میں بیٹھ گئے۔

جنرل مشرف نے جب 2000 میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کےججوں کو پی سی او کے تحت حلف لینے کے لیے کہا تو سپریم کورٹ کے چھ ججوں کے علاوہ ہائی کورٹ کے کسی جج نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار نہ کیا۔

جنرل مشرف کے دوسرے پی سی او کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے انچاس ججوں نے حلف لینے سے انکار کر دیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عدلیہ کی اکثریت اب اپنی نوکری سے زیادہ ضمیر کی آواز کو اہمیت دیتی ہے۔

ملائیشیا میں چیف جسٹس سمیت تمام ناپسندیدہ ججوں کو سپریم کورٹ سے نکالنے کے بعد عدلیہ کی’آزادی‘ کا یہ عالم ہوگیا تھا کہ وزیراعظم مہاتر محمد نے جب اپنے وزیر خزانہ اور ممکنہ سیاسی حریف انور ابراہیم پر اغلام بازی کا الزام لگا کر جیل میں بند کر دیا تو کسی عدالت نےاس متنازعہ فیصلے کو اس وقت تک چھیڑنے کا خطرہ مول نہ لیا جب تک مہاتر محمد وزیر اعظم کے عہدے پر موجود تھے۔

جنرل مشرف کےعدلیہ پر شب خون کے بعد پاکستان میں کس پر کیا الزام لگتا ہے اور ایسے کسی الزام کی شنوائی اعلٰی عدالتوں میں ہوگی اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

ایمرجنسیآمریت کا ہاتھی
’آپ ایک ڈکٹیٹر سے کیا توقع کر سکتے ہیں‘
صدر جنرل پرویز مشرف مشرف کی ’جلدی‘
’کہیں وائس چیف بڑا ہو کر حق نہ مانگنے لگے‘
پی پی پی’چاروں جانب سناٹا‘
منظم تحریک سیاسی جماعتوں کے بناء ناممکن
 جنرل مشرف مشرف پھنس گئے
جنرل مشرف نے صدر مشرف پر الزام لگائے۔
لاہور میں احتجاجاحتجاج جاری ہے
احتجاج اور گرفتاریوں کا تیسرا دن
احتجاجاحتجاج، گرفتاریاں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں
جسٹس خلیل رمدےاپنے کیے پر فخر ہے
فکر ججی کی نہیں ملک کی ہے: جسٹس رمدے
اسی بارے میں
وکلاء ریمانڈ پر جیل روانہ
06 November, 2007 | پاکستان
پی سی او چیلنج، درخواست واپس
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد