ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ کالعدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی فل بینچ نے ایمرجنسی کے خلاف سپریم کورٹ کے سات ججوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں نے سات رکنی بینچ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت کی طرف سے دائر ہونے والی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا اُس وقت عبوری آئینی حکم نامے کا اطلاق ہوچکا تھا اس لیے وہ جج نہیں رہے اور یہ سمجھا جائے کہ اس وقت یہ فیصلہ ہوا ہی نہیں تھا۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم کی طرف سے دائر ہونے والی اس درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے آّٹھ رکنی بینچ نے کی۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے سات ججوں کے فیصلے کے خلاف درخواست پیر کو دائر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اُس سات رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں خود لکھا ہے کہ میڈیا میں یہ خبریں آرہی تھیں کہ ملک میں ایمرجنسی لگنے والی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ سے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا تھا کہ وہ اس درخواست کو پیر کو سنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فیصلہ دیا اُس وقت نہ تو وہاں پر درخواست گزار موجود تھا، نہ ہی اس بینچ نے اس ضمن میں حکومت کو نوٹسز جاری کیے تھے اور نہ ہی انہیں سنا گیا۔ ملک قیوم نے دعوٰی کیا کہ بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے مزید تین چار ججز حلف اُٹھائیں گے۔ واضع رہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونی والی کاز لسٹ میں یہ درخواست شامل نہیں تھی تاہم عدالت نے اس کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق ججوں کے فیصلےکو کالعدم قرار دے دیا۔سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق حکومت کی طرف سے دائر ہونے والی درخواست سپلیمنٹری کاز لسٹ میں شامل تھی۔ حکومت کی طرف سے دائر اس درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے علاوہ جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس محمد قائم جان، جسٹس محمد موسی کے لغاری اور جسٹس محمد اعجاز یوسف شامل ہیں۔ واضح رہے کہ برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سنیچر کی رات صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے وکیل اعتزاز احسن کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دائر کی جانے درخواست پر فیصلہ سنایا تھا کہ حکومت ان درخواستوں کی سماعت تک ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لاء نہیں لگائیں گے۔ ادھر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے سپریم کورٹ میں مقدمات کے سماعت کے لیے تین بینچ بھی تشکیل دیے ہیں۔ ان بنچوں میں سے پہلے بینچ میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے علاوہ جسٹس محمد موسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل ہیں۔ دوسرے بنچ کی سربراہی جسٹس نواز عباسی کر رہے ہیں جبکہ اس میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس قائم جان شامل ہیں۔ تیسرا بنچ جسٹس جاوید بٹر کی سربراہی میں بنا ہے جس میں جسٹس چوہدری محمد یوسف بھی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں کراچی میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری06 November, 2007 | پاکستان سندھ: وکلاء کا احتجاج ،گرفتاریاں05 November, 2007 | پاکستان پاکستان کو امریکی امداد پر نظرثانی05 November, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کے ارد گرد کرفیو کا سماں 05 November, 2007 | پاکستان وکلاء کےگھروں پر چھاپے، کئی گرفتار04 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی پر ڈھکی چھپی تنقید04 November, 2007 | پاکستان ’انتخابی شیڈول بدل سکتا ہے‘04 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||