BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء ریمانڈ پر جیل روانہ

وکلاء کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور سولہ ایم پی او سمیت دیگر الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے
منگل کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے وکلاء رہنماؤں سمیت ساڑھے تین سو وکیلوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے اور ان کی ضمانت پر رہائی کے لیے درخواستوں پر دس نومبر کے لیے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

عدالت نے ایک معمر وکیل سلمان کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ بار کی نائب صدر فردوس بٹ، فنانس سیکرٹری روبی حیات اعوان اور عابدہ چودھری ایڈووکیٹ کو کو ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل منگل کو لاہور پولیس نے وکلاء رہنماؤں سمیت ساڑھے تین سو وکلاء کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور سولہ ایم پی او سمیت دیگر الزامات میں مقدمہ درج کیا تھا۔

پولیس نےسوموار کو وکلاء کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور پی سی او کے اجراء کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش کی تھی جس پر پولیس نے وکلاء پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی۔

پولیس نے اس موقع پر سینکڑوں وکلاء کو گرفتار کرلیا تھا جن میں خواتین وکلاء بھی شامل ہیں۔

تھانہ پرانی انارکلی کے ایس ایچ او کی درخواست پر پاکستان بارکونسل کے رکن رمضان چودھری، لاہور ہائی کورٹ بار کے تین عہدیداروں فردوس بٹ، سرفراز چیمہ، روبی حیات اعوان ، سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار احمد اویس سمیت تین سوچوالیس وکلاء پر انسداد دہشتگردی کی دفعہ سات اے کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

مقدمہ میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وکلاء نے پولیس ملازمین کو زد وکوب کیا ،سڑک بلاک کر کے حکومت کے خلاف شرانگیز نعری بازی کی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور عوام میں خوف وہراس پھیلا کر پولیس ملازمین پر جان الیوا حملے کرکے ان کو شدید زخمی کیا ہے۔

قبل ازیں منگل کو لاہور ہائی کورٹ کے ایک اور جج جسٹس شیخ جاوید سرفراز نے عبوری آئینی حکم کے تحت اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹرجسٹس افتخار حسین چودھری نے ان سے حلف لیا ۔جسٹس شیخ جاوید سرفراز کے حلف اٹھانے کےبعد لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے۔

ملک میں ہنگامی حالت کے اعلان اور پی سی او یعنی عبوری آئینی حکم کے اجرا کے وقت لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی کل تعداد اکتیس تھی جبکہ تیرہ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شیخ جاوید سرفراز کے حلف اٹھانے کی تقریب میں ہائی کورٹ کے ججوں اور سرکاری وکلاء نے شرکت کی اور اس تقریب کی کوریج کے لیے صرف سرکاری میڈیا کو مدعو کیا گیا تھا۔

’جدوجہد کرتے رہیں‘
جسٹس چودھری کے بقول ایمرجنسی غیر آئینی
احتجاجسندھ احتجاج
سندھ کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اوراحتجاج
چیف جسٹس صبیح الدین احمدعہدے پر برقرار ہوں
برطرفی کی اطلاع نہیں ملی: جسٹس صبیح الدین
سندھ ہائی کورٹسندھ ہائی کورٹ میں
عبوری آئینی حکم کو چیلنج کر دیا گیا ہے
اسی بارے میں
ایمرجنسی پر ڈھکی چھپی تنقید
04 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد