حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی ضمانت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے منگل کو انسانی حقوق کمیشن کے سیکرٹری جنرل سید اقبال حیدر اور کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمن سمیت انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے چوّن افراد کو ضمانت پر رہا کرنے حکم دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی ہے ان افراد کی رہائی تیس، تیس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عمل میں لائی جائے۔ عدالت نے یہ حکم اقبال حیدر اور آئی اے رحمن سمیت دیگر افراد کی طرف سے دائر درخواستِ ضمانت کو منظور کرتے ہوئے دیا۔ تاہم عدالت کی طرف سے داخل کرائے گئے ضمانتی مچلکوں پر اعتراض لگانے اور بعض مچلکوں پر عدالتی کارروائی مکمل نہ ہونے کے باعث تاحال کسی شخص کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد انسانی حقوق کمیشن کے ہنگامی اجلاس کے بعد سید اقبال حیدر اور آئی اے رحمن کے علاوہ خواتین سمیت پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
حراست میں لیے جانے والوں میں سابق وزیر خزانہ پنجاب شاہد حفیظ کاردار، سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی، سابق پرنسپل این سی اے سلیمہ ہاشمی، جسٹس جاوید بٹر کے داماد شاہ زیب مسعود، سید منصور علی شاہ، ڈاکٹر پروفیسر علی چیمہ سمیت متعدد معروف ہستیاں شامل تھیں۔ عدالت نے سوموار کو اقبال حیدر اور آئی اے رحمن کے علاوہ حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو چودہ دنوں کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا تاہم رات کو ان افراد کو گھروں میں منتقل کر کے ان گھروں کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔ اشتراوصاف علی شیخ کو پولیس حراست کے دوران دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں پولیس سٹیشن سے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ اقبال حیدر اور آئی اے رحمن کو پولیس سٹیشن سے عاصمہ جہانگیر کے گھر منتقل کرکے اس کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔ |
اسی بارے میں انسانی حقوق:چالیس کارکن ریمانڈ پر05 November, 2007 | پاکستان کراچی میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری06 November, 2007 | پاکستان قاضی حسین منصورہ میں نظر بند06 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||