وکلاءاحتجاج جاری، مزیدگرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء کا احتجاج جاری ہے جبکہ اسلام آباد اور لاہور سمیت ملک کے متعدد شہروں سے مزید وکلاء کوگرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد لاہور کراچی
سندھ ہائیکورٹ کے داخلی دروازے پر رینجرز اور پولیس اہلکار منگل کو دوسرے روز بھی تعینات رہے۔ سول کپڑوں میں اہلکار صرف ان لوگوں کو اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے جن کے مقدمات زیر سماعت تھے ۔ منگل کی صبح ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی داخلی دروازہ پر موجود رہے اور وکلاء کو شناخت کرنے کے بعد اندر جانے دے رہے تھے، انہوں نے صحافیوں کو مخاطب ہوکر کہا کہ انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ کوئٹہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کی گرفتاری کے بعد وکلاء ضلع کچہری میں اکھٹے ہو گئے جہاں انہوں نے احتجاج کیا۔ باز محمد کاکڑ نے گرفتاری سے پہلے اخباری کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان سے اب تک ستّر وکلاء کوگرفتار کیا گیا ہے۔
ضلع کچہری کے احاطے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے صحافیوں،فوٹوگرافرز اور کیمرہ مین کو کوریج سے روکے رکھا۔ منگل کو کوئٹہ پریس کلب اور ضلع کچہری کے سامنے بھی پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور شہر میں فرنٹیئر کور اور پولیس کا گشت جاری ہے۔ پشاور منگل کو بھی پشاور ہائیکورٹ کی عمارت کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی تاہم وکلاء کے بائیکاٹ کی وجہ سے عدالتوں میں کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔ اس موقع پر دو سو سے زائد وکلاء کا ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا جس سے وکلاء کے نمائندوں نے تقاریر کیں۔
وکلاء کے علاوہ عوامی نشینل پارٹی کے درجنوں کارکنوں نے بھی ایمرجنسی کے خلاف جلوس نکالااور اس موقع پر کارکنوں کی پولیس ہاتھا پائی بھی ہوئی اور پولیس نے پارٹی قائدین افراسیاب خٹک، بشیر بلور اور غلام احمد بلور کو گرفتار کر لیا۔ ہزارہ ہری پور میں وکلاء نے منگل کو دوبارہ ایمرجنسی کے خلاف اورگرفتار شدہ ساتھیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ کیا جنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی اور مزید سات وکلاء کوگرفتار کر لیا۔ تاہم پولیس نے ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ادھرایبٹ آباد میں گرفتار شدہ وکلاء کو بھی ہری پور جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ ملتان اندرونِ سندھ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کے فیصلے کے تحت کوئی بھی وکیل پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کے سامنے پیش نہیں ہوگا۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لاڑکانہ کے صدر محمد ایاز سومرو سمیت پندرہ کے قریب وکلاء کی گرفتاری کے خلاف منگل کو لاڑکانہ شہر میں پیپلز پارٹی کی طرف سے شٹر بند ہڑتال کی گئی۔ |
اسی بارے میں کراچی میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری06 November, 2007 | پاکستان سندھ: وکلاء کا احتجاج ،گرفتاریاں05 November, 2007 | پاکستان پاکستان کو امریکی امداد پر نظرثانی05 November, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کے ارد گرد کرفیو کا سماں 05 November, 2007 | پاکستان وکلاء کےگھروں پر چھاپے، کئی گرفتار04 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی پر ڈھکی چھپی تنقید04 November, 2007 | پاکستان ’انتخابی شیڈول بدل سکتا ہے‘04 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||