BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی کا تیسرا دن، ایک نظر میں

ایمرجنسی

ایمرجنسی کے نفاذ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت دیگر ججز کی برطرفی کے خلاف وکلاء کا احتجاج منگل کو بھی جاری رہا اور ملک کے مختلف شہروں سے مزید وکلاء کوگرفتار کیا گیا۔

ذیل میں منگل کے واقعات کا ایک طائرانہ جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:

٭ امریکہ نے پاکستان کے انتخابی کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان جلد از جلد کر دے تاکہ بین الاقوامی برادری اور پاکستانی عوام کو انتخابات کے مقررہ وقت پر ہونے کا یقین ہوسکے۔ یہ بات پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے چیف الیکشن کمیشنر جسٹس (ر) قاضی فاروق سے ایک ملاقات میں کی ہے۔

٭ جمعیت علماءاسلام کے امیراور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے سابق لیڈر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور جنرل پرویزمشرف کی مارشل لاءنے نجات حاصل کرنے کیلئے حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کوانتخابات میں حصہ لیناچاہیے۔

٭ سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی فل بینچ نے ایمرجنسی کے خلاف سپریم کورٹ کے سات ججوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں نے سات رکنی بینچ کے اس فیصلے کے خلاف حکومت کی طرف سے دائر ہونے والی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا اُس وقت عبوری آئینی حکم نامے کا اطلاق ہوچکا تھا اس لیے وہ جج نہیں رہے اور یہ سمجھا جائے کہ اس وقت یہ فیصلہ ہوا ہی نہیں تھا۔

٭ ملتان میں پولیس اور وکلاء کے درمیان جھڑپوں کے بعد مزید آٹھ وکلاء کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب پولیس اہلکاروں نے ڈسٹرکٹ بار کی عمارت میں جاری وکلاء کی جنرل باڈی اجلاس کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس اور وکلاء کی جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں اور ڈسٹرکٹ بار کے قریب واقع سٹی ڈسٹرکٹ ناظم کا دفتر’میدانِ جنگ‘ بن گیا۔

٭ صوبہ سرحد کے ہزارہ ڈویژن میں منگل کو بھی وکلاء کی مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں کسی مقدمے کی سماعت نہیں ہو سکی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ہزارہ ڈویژن میں وکلاء کے احتجاجی مظاہروں کے بعدگزشتہ 48 گھنٹوں میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد ساٹھ سے زیادہ ہوگئی ہے، جن میں سے بیشتر وکیل ہیں۔

٭ صوبہ سرحد کے دارالحکومت سمیت دیگر علاقوں میں وکلاء نے منگل کو بھی عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا ہے اور انہوں نے اپنے سو سے زائد ساتھیوں کی گرفتاری کا دعوٰی کیا ہے۔ منگل کو بھی پشاور ہائیکورٹ کی عمارت کے اردگرد پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی تاہم وکلاء کے بائیکاٹ کی وجہ سے عدالتوں میں کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔

٭ لاہور ہائی کورٹ سے پولیس نے درجن بھر وکلاء کوگرفتار کیا ہے۔ ان افراد کی گرفتاری ہائیکورٹ کے بار روم سے اس وقت عمل میں آئی جب وکلاء نے حکومت اور مشرف مخالف نعرے بازی شروع کی۔ہائیکورٹ کے داخلی و خارجی راستوں پر آج بھی پولیس کا سخت پہرہ ہے اور پولیس ہائیکورٹ کی عمارت کے برآمدوں میں موجود ہے۔

٭ پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ یہ ’قربانیوں کا وقت ہے‘۔ اسلام آباد میں وکلاء سے ایک ٹیلیفونک خطاب میں افتخار چودھری نے کہا ہے صدر مشرف نے’ آئین کو تار تار‘ کر دیا ہے اور ان کی جانب سے عدلیہ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

٭ کراچی کی عدالتوں کا دوسرے روز بھی وکلا نے بائیکاٹ کیا ہے، پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج صحابان آج اپنے چیمبروں میں بیٹھے اور مختلف درخواستیں نمٹائیں۔

ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر رینجرز اور پولیس اہلکار منگل کو دوسرے روز بھی تعینات رہے۔

٭ جبکہ راولپنڈی میں آج مزید پچیس وکلاء کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وکلاء نے ضلعی عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا ہوا ہے۔

٭سپریم کورٹ کے چار نئے ججوں نے آج عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھا لیا ہے۔ نئے ججوں میں پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس محمد قائم جان، سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس موسی کے لغاری اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس چودھری اعجاز یوسف شامل ہیں۔

٭ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کو کوئٹہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے گرفتاری سے پہلے اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ بلوچستان سے اب تک ستر وکلا کو گرفتار کیا گیا ہے۔

٭ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جن معاشروں میں عدالتوں کو کام نہیں کرنے دیا جاتا وہاں نتیجہ انقلاب کی صورت میں نکلتا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کے پیارے ملک کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔

سندھ ہائی کورٹسندھ ہائی کورٹ میں
عبوری آئینی حکم کو چیلنج کر دیا گیا ہے
ڈوگرحلف کا نمبر گیم
انتالیس ججوں نے حلف نہیں لیا 48 نے لے لیا
لاہور میں احتجاجاحتجاج جاری ہے
احتجاج اور گرفتاریوں کا تیسرا دن
چیف جسٹس صبیح الدین احمدعہدے پر برقرار ہوں
برطرفی کی اطلاع نہیں ملی: جسٹس صبیح الدین
وکلا کا احتجاجوکلا کا احتجاج
کراچی میں وکلاء کا احتجاج، پولیس کا تشدد، گرفتاریاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد