قاضی حسین منصورہ میں نظر بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعدملک بھر میں سیاسی شخصیات اور وکلاء کے نمائندوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اور مجلس عمل کے سابق رکن قومی اسمبلی لیاقت بلوچ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سنیچر کی شام پاکستان میں ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد سب سے پہلے گرفتار کیے جانے والی شخصیت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر بیرسٹر اعتزاز احسن تھے جنہیں اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیاگیا۔ان کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائمقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھجوا دیا ہے جبکہ مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف کو سیالکوٹ میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر، حقوقِ انسانی کی ڈائریکٹر آئی اے رحمان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل اور تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان سپریم کورٹ بار کے سابق صدرو جسٹس (ریٹائرڈ) طارق محمود اور منیر اے ملک سمیت سیاست دانوں، وکلاء نمائندوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نظربند اور حراست میں رکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ہائی کورٹ کے حلف نہ لینے والے ایک سینئر جج جسٹس خواجہ محمد شریف کے بیٹے خواجہ لطیف ایڈووکیٹ نے ہائی کورٹ میں بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد جسٹس خواجہ شریف کو ان کی لاہور میں واقع رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں نظر بندی کی افواہوں کی تردید05 November, 2007 | پاکستان لاہور ہائی کورٹ: ’سینکڑوں گرفتار‘05 November, 2007 | پاکستان پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں05 November, 2007 | پاکستان کراچی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی05 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||