BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 November, 2007, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘

 وکلاء
’ آئین کی بحالی کے لیے وکلاء اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘
پاکستان میں وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم ’پاکستان بار کونسل، نے جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ عبوری آئینی حکم یعنی ’پی سی او‘ کے تحت حلف لینے والے ججوں کے سامنے کسی مقدمے میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان پاکستان بار کونسل کی جانب سے منظور کردہ ایک قرارداد میں کیا گیا ہے جو کہ کونسل کے نائب چیئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ کے دستخط سے جاری کی گئی ہے۔ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی کے بعد پاکستان کے وکلاء کی تنظیم کا یہ پہلا باضابطہ بیان ہے۔

پاکستان بھر کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم نے کہا ہے کہ جن ججوں نے بھی ’پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھایا ہے وہ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور سات ججوں کے حکم کی توہین کی ہے۔ پاکستان بار کونسل نے آئین کی بحالی کی تحریک میں گرفتار ہونے والے وکلاء سے کہا ہے کہ وہ اپنی رہائی کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف کے عبوری آئین حکم کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے کوئی درخواست پیش نہ کریں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی غیر قانونی حکمرانی کو طول دینے کے لیے ایمرجنسی کے روپ میں مارشل لاء نافذ کیا ہے اور وہ آئین کو سبوتاژ کر کے بغاوت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہیں آئین کی شق چھ کے تحت
سزا دی جائے۔وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف فوری طور پر مستعفی ہوجائیں اور اپنا عہدہ آئین کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے حوالے کر دیں۔

پاکستان بار کونسل کا چیئرمین تو بلحاظ عہدہ اٹارنی جنرل ہوتا ہے لیکن ملک بھر کے وکلاء نائب چیئرمین اور دیگر عہدیداروں کو منتخب کرتے ہیں۔ کونسل کے نائب چیئرمین کا عہدہ قانونی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

آئین سے بغاوت
 جنرل پرویز مشرف نے اپنی غیر قانونی حکمرانی کو طول دینے کے لیے ایمرجنسی کے روپ میں مارشل لاء نافذ کیا ہے اور وہ آئین کو سبوتاژ کر کے بغاوت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہیں آئین کی شق چھ کے تحت سزا دی جائے

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ مارشل لاء کے خلاف اور آئین کی بحالی کے لیے وکلاء اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز اور دیگر ججوں کو گھروں میں نظر بند کرنے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کونسل آئین کی معطلی اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتی ہے۔

قرار داد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں سات ججوں کی جانب سے تین نومبر کو جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ عبوری آئینی حکم اور ایمرجنسی کے نفاذ کے احکمات کو غیر آئینی قرار دیے جانے کی حمایت کی گئی ہے۔

کونسل نے اپنی قرار داد میں اعلان کیا ہے کہ آئین معطل کرنے والے جنرل پرویز مشرف اور وکیلوں کے خلاف تشدد کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں گے۔قرار داد میں نجی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

چیف جسٹس صبیح الدین احمدعہدے پر برقرار ہوں
برطرفی کی اطلاع نہیں ملی: جسٹس صبیح الدین
کراچی میں گرفتار ہونے والے وکیلوکلاء کا احتجاج
ملک بھر سے احتجاج اور ہڑتال کی جھلکیاں
وکلاء کا احتجاج کوئٹہبلوچستان احتجاج
شٹر ڈاؤن ہڑتال اور وکلاء کے احتجاجی مظاہرے
لاہور میں احتجاجاحتجاج جاری ہے
احتجاج اور گرفتاریوں کا تیسرا دن
’جدوجہد کرتے رہیں‘
جسٹس چودھری کے بقول ایمرجنسی غیر آئینی
جسٹس خلیل رمدےاپنے کیے پر فخر ہے
فکر ججی کی نہیں ملک کی ہے: جسٹس رمدے
اسی بارے میں
پی سی او ہائی کورٹ میں چیلنج
06 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد