’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم ’پاکستان بار کونسل، نے جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ عبوری آئینی حکم یعنی ’پی سی او‘ کے تحت حلف لینے والے ججوں کے سامنے کسی مقدمے میں پیش نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان پاکستان بار کونسل کی جانب سے منظور کردہ ایک قرارداد میں کیا گیا ہے جو کہ کونسل کے نائب چیئرمین مرزا عزیز اکبر بیگ کے دستخط سے جاری کی گئی ہے۔ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی کے بعد پاکستان کے وکلاء کی تنظیم کا یہ پہلا باضابطہ بیان ہے۔ پاکستان بھر کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم نے کہا ہے کہ جن ججوں نے بھی ’پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھایا ہے وہ آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں اور سات ججوں کے حکم کی توہین کی ہے۔ پاکستان بار کونسل نے آئین کی بحالی کی تحریک میں گرفتار ہونے والے وکلاء سے کہا ہے کہ وہ اپنی رہائی کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف کے عبوری آئین حکم کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے سامنے کوئی درخواست پیش نہ کریں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنی غیر قانونی حکمرانی کو طول دینے کے لیے ایمرجنسی کے روپ میں مارشل لاء نافذ کیا ہے اور وہ آئین کو سبوتاژ کر کے بغاوت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہیں آئین کی شق چھ کے تحت پاکستان بار کونسل کا چیئرمین تو بلحاظ عہدہ اٹارنی جنرل ہوتا ہے لیکن ملک بھر کے وکلاء نائب چیئرمین اور دیگر عہدیداروں کو منتخب کرتے ہیں۔ کونسل کے نائب چیئرمین کا عہدہ قانونی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ مارشل لاء کے خلاف اور آئین کی بحالی کے لیے وکلاء اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز اور دیگر ججوں کو گھروں میں نظر بند کرنے کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کونسل آئین کی معطلی اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتی ہے۔ قرار داد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری کی سربراہی میں سات ججوں کی جانب سے تین نومبر کو جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ عبوری آئینی حکم اور ایمرجنسی کے نفاذ کے احکمات کو غیر آئینی قرار دیے جانے کی حمایت کی گئی ہے۔ کونسل نے اپنی قرار داد میں اعلان کیا ہے کہ آئین معطل کرنے والے جنرل پرویز مشرف اور وکیلوں کے خلاف تشدد کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں گے۔قرار داد میں نجی ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں کراچی میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری06 November, 2007 | پاکستان وکلاءاحتجاج جاری، مزیدگرفتاریاں06 November, 2007 | پاکستان پی سی او ہائی کورٹ میں چیلنج 06 November, 2007 | پاکستان آئین تار تار ہے، قربانیوں کا وقت ہے، لوگ اٹھ کھڑے ہوں: جسٹس افتخار 06 November, 2007 | پاکستان پنجاب میں وکلاء کا احتجاج، گرفتاریاں05 November, 2007 | پاکستان لاہور ہائی کورٹ: ’سینکڑوں گرفتار‘05 November, 2007 | پاکستان سندھ: وکلاء کا احتجاج ،گرفتاریاں05 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||