’کہیں وائس چیف حق نہ مانگنے لگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب جب کہ نجی ٹیلیوژن چینلز کی پیدا کردہ پانچ سال پرانی دھند چھٹے تیسرا دن بھی گزر گیا ہے ، ملک کا سیاسی منظر کچھ حد تک واضح ہونے لگا ہے۔ وہ تمام لوگ جو لگ بھگ پانچ برس سے ٹی وی چینلز پر جمہوریت اور آزادئ صحافت کی لوریاں سن سن کر اونگھنے لگے تھے، یکایک جاگ اٹھے ہیں۔ ان میں سے کچھ شاید ایسے بھی ہیں جو حیرانگی سے اپنے آس پاس دیکھ رہے ہوں جیسے اپنے ہی ملک کو پہچاننے کی کوشش کر رہے ہوں۔ لیکن زیادہ تر، اور خاص طور پر وہ جو صدر مشرف کے جمہوری عزائم میں یقین کرنے لگے تھے، شرمندہ نظر آتے ہیں۔ بڑے بوڑھوں کے منہ پر صدر مشرف کے جمہوری فارمولے کو ماننے والوں کے لیے ایک طنزیہ مسکراہٹ ہے جیسے کہہ رہے ہوں کہ ’دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ‘۔ لیکن کوئی خوش ہے، افسردہ ہے، ششدر ہے یا سیخ پا، اس سے پاکستان کے آئین کے رکھوالوں کو کچھ خاص لینا دینا نہیں۔ کرنے والوں نے جو کرنا تھا وہ کر بیٹھے۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا؟ صدر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سنبھالنے کے بعد تین قسم کی سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل تھی۔ ایک ملک میں موجود وہ سیاسی گروہ جن کی سیاست عوامی حمایت پر نہیں بلکہ فوج کی خوشنودی پر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا امریکہ تھا جسے ایک خالی الدماغ جرنیل کی ضرورت تھی جبکہ تیسری قوت پاکستانی فوج تھی۔ اس دوران ان کو غالباً مخالف سیاسی قوتوں سے کوئی خاص خطرہ نہ رہا کیونکہ کچھ تو اپنی مرضی سے ملک بدر ہو چکی تھیں اور کچھ اپنے خلاف قائم کرپشن کے مقدمات سے اس قدر خوف ذدہ تھیں کہ جرنیلوں سے اصلاح کرائے بغیر بیان بھی جاری کرنے سے انکاری تھیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فوجی صدر کو سپریم کورٹ کی شکل میں ایک نیا حریف ملا جسے نہ تو وہ ملک بدر کر سکتے تھے اور نہ ہی کرپشن کے مقدمات سے ڈرا سکتے تھے۔ ان تین حمایتیوں اور ایک مخالف قوت کی ایمرجنسی لگنے سے پہلے کیا صورتحال تھی؟ ایمرجنسی لگنے سے پہلے صدر جنرل پرویز مشرف کے حمایتی سیاسی ٹولے اس قدر بے حال نظر آتے تھے کہ وہ آنے والے انتخابات سے بھاگنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ ان کی سیاسی زبوں حالی کا یہ عالم تھا کہ وہ ایک دفعہ پہلے بھی ایمرجنسی لگوانے کی سرتوڑ کوشش کر چکے تھے جو ناکام ہوئی تھی۔ لیکن ان کی دوسری کوشش ایک ایسے وقت کی گئی جب اپنی اترتی ہوئی وردی کے پیش نظر جنرل مشرف کے ہاتھ پاؤں بھی پھول چکے تھے اس لیے یہ کامیاب ٹھہری۔ ایمرجنسی لگنے سے پہلے امریکہ سے کچھ ایسے اشارے ملنا شروع ہوگئے تھے کہ امریکی حکومت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں براہ راست فوجی کارروائی کرنے کو بے چین ہے لیکن اس کے حلیف جرنیلوں کی پاکستان میں سیاسی حمایت اتنی کمزور پڑ چکی ہے کہ وہ اس کی اجازت دینے کے سیاسی طور پر اہل ہی نہیں رہے۔ رہی بات فوج کی تو اس سیاسی بحران میں فوج کے کردار کے سامنے ایک ننھا سا سوالیہ نشان اس وائس چیف آف آرمی سٹاف کی صورت میں کھڑا تھا جس کی تعیناتی یہ کہہ کر کی گئی تھی کہ یہ بڑے ہو کر آرمی چیف بنیں گے۔ لیکن ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران ان کی خاموشی سے یہ واضح ہوگیا کہ ان کے بڑے ہونے میں ابھی وقت ہے۔ البتہ صدر جنرل پرویز مشرف کا واحد فعال سیاسی حریف یعنی کہ سپریم کورٹ ایمرجنسی لگنے تک اس قدر طاقتور ہو چکا تھا کہ وہ کوئی بھی پینترا بدل سکتا تھا۔ شاید اسی لیے عمومی طور پر یہی سمجھا جا رہا ہے کہ ایمرجنسی کا واحد نشانہ سپریم کورٹ تھی۔ اس پس منظر میں آگے کا کیا نقشہ نظر آتا ہے؟ مان لیا کہ وکلاء اور سول سوسائٹی ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ لیکن سیاسی تحریکیں سیاسی کارکنوں سے چلتی ہیں اور سیاسی کارکن نہ تو پیشہ ور وکلاء کے پاس ہوتے ہیں اور نہ ہی سول سوسائٹی کے پاس۔ سیاسی کارکن صرف اور صرف سیاسی جماعتوں کے پاس ہوتے ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ وکلاء اور سول سوسائٹی تو ایک اصولی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اب تک پورا ملک مفلوج ہو چکا ہوتا۔ ظاہر ہے کہ وکلاء، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے رستے جدا جدا ہیں۔ موجودہ ایمرجنسی کے خلاف یہ کسی بھی صورت متحد ہوتے نظر نہیں آتے۔
اب آنے والے دنوں میں صدر مشرف کو جلدی جلدی کچھ کام کرنے ہیں۔ عدالتوں کو اپنی مرضی کے ججوں سے بھرنا ہے، امریکہ کو خوش کرنے کے لیے قبائلی علاقوں پر بھرپور چڑھائی کرنی ہے اور بینظیر بھٹو کو تسلی دینی ہے کہ ان کے خلاف حکومت کے پاس موجود کرپشن کے ثبوت کبھی بھی جنیوا نہیں پہنچیں گے۔ نئی عدالتیں ایمرجنسی کے خلاف جسٹس چوہدری کا حکم نامہ پہلے ہی رد کر چکی ہیں۔ اب انہیں جنرل مشرف کو صدارتی حلف اٹھانے کی اجازت دینا ہے جس کے بعد موجودہ بحران میں ان کا کردار ختم ہو جائے گا۔ حلف اٹھانے کے بعد شاید صدر جنرل پرویز مشرف قبائلی علاقوں کی تشویشناک صورتحال کا بہانہ بنا کر بینظیر بھٹو سے یہ بھی منوا لیں کہ کیوں نہ سال بھر کے لیے ایک کثیرالجماعت نگران یا قومی حکومت بنا لی جائے جو اس بات کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہو کہ اگلے انتخابات کب ہونگے۔ ان کی خواہش ہو گی کہ یہ سب کچھ جلد از جلد طے پا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بات بننے سے پہلے ہی وائس چیف آف آرمی سٹاف تیزی سے بڑا ہو کر اپنا حق مانگنے لگے۔ جس نے بھی پاکستان کی سیاست کو قریب سے دیکھا ہے وہ شاید اس وقت صدر جنرل پرویز مشرف کے عزائم کی کامیابی کی دعا ہی کر رہا ہوگا کیونکہ اگر وہ ناکام ہوتے ہیں تو موجودہ صورتحال میں ان کی جگہ لینے والا بھی وردی میں ہی ہو گا۔ صدر مشرف جیسے بھی ہیں، ایک تو وہ اپنی سیاسی ساکھ مکمل طور پر کھو چکے ہیں اور دوسرا ان کی وردی بہرحال اور آٹھ سال تو نہیں چل سکتی۔ لیکن اگر ان کو ایک جنرل آ کر نکال باہر کرتا ہے تو پھر تو بات وہیں واپس چلی جائے گی جہاں سے انیس سو ننانوے میں شروع ہوئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||