آمریت کا اندھا ہاتھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’آپ ایک ڈکٹیٹر سے کیا توقع کر سکتے ہیں‘ پاکستان میں چوتھے مارشل لاء جسے پاکستان کی فوجی جنتا اور ان کے ہمنوا ’تکلفاً‘ ایمرجنسی کہہ رہے ہیں، کے نفاذ کی خبریں سنتے ہی مجھے میرے دوست افتی نسیم کا یہ جملہ یاد آیا جو وہ جنرل مشرف کے بارے میں کہتے آئے ہیں۔ پھر وہی عاصمہ جیلانی (آج کی عاصمہ جہانگير) ہیں، وہی مارشل لاء عرف ایمرجنسی ہے ، ججز ہیں اور جیسا کہ عاصمہ جہانگير کیس میں ججوں نے لکھا تھا ’غاصب‘جنرل ہیں۔ اگر آپ نے تئیس مارچ انیس سو اکہتر کو رنگیلے لیکن ایک اور غاصب جنرل صدر آغا محمد یحیی خان کی ہنگامی حالات کے نفاذ اور بنگال کے نہتے عوام پر فوجی چڑھائي کے اعلان والی تقریر سنی تھی تو آج کے یحیٰی خان جنرل پرویز مشرف کی دو نومبر والی تقریر والے نفس مضمون میں تو فرق ہو سکتا تھا لیکن فوجی آمرانہ تکبر (جو کہ خلیج بنگال میں ریس کورس میدان ڈھاکہ پر سولہ دسمبر کے ڈوبتے سورج سے پہلے ہی ڈوب گيا) اور نفسیات وہی ہے۔ جس شخص نے بھی جنرل پرویز مشرف کی ’ایمرجنسی‘ والی تقریر سنی ہے، بقول ڈاکٹر علی عمر کے، کوئی ہوش و عقل سے عاری شخص ہی کہہ سکتا ہے کہ ایسا شخص اور اس کے الفاظ ملک بچا سکتے ہیں۔
بالکل اسی طرح جس طرح یحیٰی خان کی حکومت نے ڈھاکہ سمیت سابق مشرقی پاکستان میں بنگالی دانشوروں، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں، فنکاروں اور مصوروں کو فہرستیں بنا کر ٹارگٹ کیا تھا اسی طرح دیکھیں کہ مشرف جنتا نے عاصمہ جہانگیر، سید اقبال حیدر، سلیمہ ہاشمی، عمران خان، قادر مگسی، جاوید ہاشمی اور نواز لیگ کے سینکڑوں کارکنوں، وکلاء، ججوں، آئي اے رحمان اور رسول بخش پلیجو جیسے عمر رسیدہ، محمود خان اچکزئي اور اسفند یار جیسے سینکڑوں پختون اور بلوچ کارکنوں، اعتزاز احسن، علی احمد کرد سمیت ہزاروں وکلاء پابندِ سلاسل اور سوئے راہ مقتل ہیں۔ سنہ اکہتر میں ڈھاکہ کے ’اتقاق‘ جیسے اخبارات تھے تو آج پاکستان کا تمام آزاد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہے، سول سوسائٹی ہے یہاں تک کہ اس نامراد اور بے استاد فوجی جنتانے اپنے سابق جنرل حمیدگل کو بھی نہیں بخشا۔ اگر اکہتر میں شیخ مجیب اور ان کی عوامی لیگ توپ کے دہانے پر تھی تو اب پاکستان کے چیف جسٹس، ان کے ساتھی معزول جج اور وکلاء ہیں۔ جس طرح مشرقی پاکستان میں پاپولر ول اور وسیع تر عوامی جہموری امنگ کے کچلے جانے کے وقت ذوالفقار علی بھٹو یحیٰی خانی ٹولے کے ساتھ کھڑے دکھائي دیتے تھے تو اس وقت بینظیر بھٹو اور ان کی پیپلزپارٹی فوجی آپریشن کے لیبر روم میں ا قتدار کے لیے بے چین اور منتظر نظر آتے ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ شکاری کیوں اپنے کتوں کے ساتھ اپنے شکار کو دھوکہ دینے کے لیے ساتھ میں بھگھیاڑی میۂ لے لیتے ہیں۔ لیکن یہ انیس سو اکہتر نہیں دو ہزار سات ہے۔ جنرل مشرف نہ یحیٰی خان ہیں، نہ سموزا، نہ شاہ آف ایران یہ تو اپنے پیشرؤوں کی ایک عجیب وغریب کاک ٹیل ہیں۔ بلیک ڈاگ وہسکی میں مری بریوری کی واٹ ون اور لالو کھیت کی کپی۔ ان کے سننے کے کان ایوب خان کے، دماغ یحیٰی خان کا، نچلا دھڑ ضیاءالحق کا اور دل مہاجر ہے۔
آپ نے دیکھا کہ جب وہ سی پی او پر دستخط کرر ہے تھے تو وردی میں تھے اور ٹی وی پر خطاب کرنے آئے تو شیروانی پہنے ہوئے تھے۔ عوام سے وہ کمانڈو شیخ (سندھ میں ایک ڈاکو) بن کر اردو میں تڑیوں سے بات کرتے تھے اور جب بقول شخصے، وہ انگریزی میں کتنے بھی ’پرویز لنکن‘ (جو کہ شریف الدین پیرزادہ کا ہی لکھا اسکرپٹ لگتا تھا) بنتے تھے لیکن اہل مغرب سے اپنے اقتدار کی طوالت کی بھیک مانگ رہے تھے۔ ان کی یو ٹیوب پر بار بار ایسی تقریر دیکھ کر ایک بڑے امریکی اخبار کے نیوز روم میں آجکل ’جوک‘ چلا ہوا ہے کہ’دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے سے پہلے پاکستان میں اس ’دہشتگرد‘ سے تو جان چھڑانی چاہیے‘۔ جنرل مشرف گیارہ ستمبر کے بعد والے پاکستان پر انیس سو چوارسی کا گرینیڈا سمجھ کر راج کر رہے ہیں۔ آج کا پاکستان فیض کا یہ شعر بنا ہوا ہے کہ: نثار میں تری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں سنیچر کو نیویارک میں پاکستانی قونصل چانے کے سامنے کولمیا یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلبہ اور طالبات نے جو ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا اس پر لکھا تھا:’فی جنرل ایک فوجی بغاوت پلیز!‘ سندھی میں کہتے ہیں’اندھو ہاتھی لشکر جو زیان‘ (اندھا ہاتھی اپنے لشکر کا ہی زیاں کرواتا ہے‘۔ پاکستان سے ایک خبر تھی کہ اب پاکستان میں دکانوں پر عوام کے ڈش اینٹینا کی خریداری پر بھی پابندی لگائي گئي ہے تو مجھے کل کا ایل سلوا ڈور یاد آیا جہاں بند شدہ ریڈیو سننے پر گولی مار دی جاتی تھی۔ پاکستان کے جنرل انیس سو ساٹھ کے دہائي کے افریقہ میں عوام اور بچوں کے کان کاٹ دینے والے ڈکٹیٹروں کی یاد دلاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ایمرجنسی کے خلاف فیصلہ کالعدم06 November, 2007 | پاکستان ’انتخابی شیڈول کا اعلان جلد کریں‘06 November, 2007 | پاکستان کراچی میں عدالتوں کا بائیکاٹ جاری06 November, 2007 | پاکستان قاضی حسین منصورہ میں نظر بند06 November, 2007 | پاکستان پی سی او چیلنج، درخواست واپس06 November, 2007 | پاکستان وکلاءاحتجاج جاری، مزیدگرفتاریاں06 November, 2007 | پاکستان حقوقِ انسانی کے کارکنوں کی ضمانت06 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||