ساجد اقبال اور شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | کراچی میں بھی حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے |
پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے زیادہ تر جج اسلام آباد کی ججز کالونی میں انتہائی نہ گفتہ بہ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال، جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس سردار رضا خان، راجہ محمد فیاض اور جسٹس جمشید علی شاہ اپنے خاندان کے بغیر اکیلے رہ رہے ہیں جبکہ جسٹس ناصرالملک اپنی عمررسیدہ ماں کے ساتھ وہاں رہائش پذیر ہیں۔ جسٹس ناصرالمک کی والدہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بغیر سہارے کے چل پھر نہیں سکتیں۔ ججز کالونی میں ہی رہائش پذیر ایک جج کے خاندان کے فرد نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر جج کی رہائش گاہ کے باہر خفیہ اور سکیورٹی اداروں کے درجنوں اہلکار ہر وقت موجود رہتے ہیں اور ان ججوں کے خاندان کے افراد کو بھی گھروں میں آنے جانے کے لیے سخت سکیورٹی چیکنگ سے گزرنا پڑتا ہے۔ ’پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج عملاً قید تنہائی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ مکمل طور پر کٹا ہوا ہے۔ پی ٹی سی ایل لائنیں کٹی ہوئی ہیں جبکہ جمیرز کی مدد سے موبائل فون سگنل جام کردیئے گئے ہیں۔ اور تو اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو آپس میں بھی نہیں ملنے دیا جا رہا۔ وہ نہ تو اپنی مرضی کہیں آسکتے نہ جا سکتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ چند روز سے سی ڈی اے کے عملے نے بھی علاقے میں آنا بند کر دیا ہے۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے گھروں کے اندر کچرے کے بیگ پڑے ہیں اور ہر طرف تعفن پھیلا ہوا ہے۔ چند گھروں کی حالت تو یہ ہے کہ وہاں دوائیں تو دور کی بات ہے خشک دودھ بھی ختم ہو چکا ہے۔ دوسری طرف پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کے اہل خانہ کو ہر قسم کی سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں اور ان کے رشتہ داروں کو ان ججوں سے ملنے کی اجازت ہے۔ حکومت ان ججوں کوحالات سے باخبر رکھنے کے لیے ان کے گھروں کے اوپر نئے ڈش انٹینا لگائے جا رہے ہیں اور ان ججوں کے اہل خانہ کو سیکورٹی عملہ ان کے گھروں سے لیکر جہاں وہ جانا چاہیں انہیں جانے کی اجازت ہے جبکہ حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی فیملی اور بچوں کو اپنے گھروں سے میریٹ ہوٹل تک پیدا آنا پڑتا ہے۔ |