غیرمعمولی حالات میں غیر روایتی ذرائع ابلاغ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیرمعمولی حالات، ہمیشہ غیرمعمولی اقدامات کا تقاضے کرتے ہیں۔ حکومت نے غیرمعمولی حالات کا سہارا لیتے ہوئے غیرمعمولی اقدامات کیئے تو عام شہری بھی اسی قسم کی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ نجی نیوز چینلز پر پابندی کے بعد عدام شہری، پڑھا لکھا طبقہ انٹرنیٹ کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ وہ ای میلز کے ذریعے حالات اور واقعات سے ساتھیوں کو باخبر رکھ رہے ہیں بلکہ احتجاج کے بارے میں اطلاعات بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ’ایمرجنسی نیوز لیٹر’ کے نام سے ایم میل کے ذریعے متعلقہ اخباری مضامین اور خبروں کے علاوہ اس میں احتجاج کے ایسے طریقے بھی بتائے گئے ہیں جن کو اختیار کرکے مظاہرین گرفتاری سے اور آنسو گیس سے بچاؤ کر سکیں گے۔ پھر: اسلام آباد میں ایک اور خودکش حملہ: آئین ہلاک جبکہ حملہ آور معجزانہ طور پر بچ گیا ہے۔‘ تشویش میں نہ پڑیں یہ کوئی تازہ خودکش حملہ نہیں، خبر نہیں لیکن پاکستان میں موبائل فون کے ذریعے چھوٹے چھوٹے پیغامات کے ذریعے لطیفے ہیں جو گردش میں ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ لطیفے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں موبائل تبدیل کر رہے ہیں۔
ایس ایم ایس ہر اہم موقع پر پاکستان میں اس قسم کے پیغامات کے تبادلے کے لیئے انتہائی مقبول رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے نجی ٹی وی چینلز پر پابندی عائد ہونے کے بعد سے لوگ معلومات موبائل فونز کے علاوہ انٹرنیٹ کے ذریعے حاصل کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر نجی ٹی وی چینلز نے اپنی نشریات اب انٹرنیٹ کے ذریعے نشر کرنی شروع کر دی ہیں لیکن اس کے لیئے براڈبینڈ انٹرنیٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ابھی اس اچھی سپیڈ کے انٹرنیٹ کے صارفین کی تعداد کم ہے۔ ہنگامی حالت کے مخالف کئی گروپ ٹی وی کے علاوہ انٹرنٹ کے ذریعے بھی عوام سے رائے طلب کر رہے ہیں۔ ان میں لوگوں سے ہنگامی حالت کے خلاف پٹیشنوں کی بھی توثیق کروائی جا رہی ہے۔ تاہم اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حکومت کیبل کے بعد اب انٹرنٹ مہیا کرنے والی کمپنیوں سے بھی رجوع کر سکتی ہے۔ ماضی میں بھی حکومت لال مسجد اور دیگر کئی ویب سائٹس بلاک کر چکی ہے۔
میڈیا پر پابندی کی وجہ سے افواہوں کا بازار بھی بدستور گرم ہے۔ ایک خاتون نے ایک اخبار کے دفتر میں فون کر کے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا ہے کہ ان کے والد (جن کا نام بھی انہوں نے بتانے سے انکار کیا) جج ہیں اور ان پر عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے کے لیئے بھرپور دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ صحافیوں کے پاس ایسی اطلاعات کی تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں۔ تمام ’باغی‘ ججوں کے ٹیلیفون بند ہیں اور ان سے رابطے کی ایک جدوجہد بھی صحافیوں کی جانب سے جاری ہے۔ کئی کسی نہ کسی طرح ججوں سے بات کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں تاہم چیف جسٹس سے بات کی کوشش ابھی بھی جاری ہے۔ صدر کی گرفتاری کی افواہوں کی شدت کل تک اتنی تھی کہ شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان بھی فون کرکے اس کی تصدیق کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے پوچھا کہ ایمرجنسی سے انہیں کوئی فرق پڑے گا تو ان کا کہنا تھا کہ نہیں۔ ’ہماری جدوجہد اسی طرح جاری رہے گی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||