جیل میں گزرے ریٹائرڈ جج کے دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین نومبر کو لگنے والی ایمر جنسی کی رات گرفتار کیے جانے والے وکلاء تحریک کے رکن اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا ہے کہ ساہیوال جیل میں گزارے ہوئے دس دن ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھے۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود جو سپریم کورٹ بار کونسل کے صدر بھی رہے ہیں کہتے ہیں کہ اس تکلیف کے دنوں میں انہوں نے پہلے سے پڑھا ہوا دیوان فیض ایک بار پھر پڑھا اور اس ساہیوال جیل میں کہ جہاں فیض احمد فیض نے اسیری کے کئی سال گزارے ان کے کلام کا اثر بہت مختلف تھا ’جس سے میں صحیح طور پر ان کے کلام کی گہرائی تک پہنچ سکا‘۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بتایا کہ جیل میں ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا لیکن ایک کمرے کے فرش پر سونے کے لیے صرف ایک دری اور ایک کمبل تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں تکیہ بھی میسر نہیں تھا۔ ان کے مطابق ایسے حالات کا انہوں نے زندگی میں پہلی بار سامنا کیا اس لیے ان کی سختی بھی زیادہ محسوس ہوئی۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا کہ دری پر سونے کے سبب انہیں کمر کی پرانی تکلیف پھر شروع ہوئی اور دیسی طرح کے فلش سسٹم سے ان کے گھٹنوں میں تکلیف ہوئی جو بعد میں کافی بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز نے انہیں ایم آئی سکین کا مشورہ دیا ہے جس سے مرض کی صحیح تصویر سامنے آئے گی۔ انہوں نے چند اخبارات میں چھپنے والی اس خبر کی تردید کی کہ انہیں گردوں کا کوئی مرض لاحق ہوا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا کہ انہیں ساہیوال جیل میں ملنے والے کھانے سے کوئی شکایت نہیں۔ ’ساھیوال جیل چونکہ بہت بڑی ہے اور وہاں سبزیاں تازہ ملتی ہیں اس لیے ان کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے جبکہ ہفتے میں ایک مرتبہ زردہ بھی ملتا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ ساہیوال جیل میں انہیں اس لیے رکھا گیا ’کہ میرے خاندان والے مجھ سے آسانی سے نہ مل سکیں وگرنہ مجھے اڈیالہ یا اٹک جیل میں رکھتے تو انہیں ملنے کی سہولت ہوتی۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کی نظر بندی کا حکم نامہ نوے دن کا ہے اس لیے انہوں نے خود کو اس سزا کے لیے تیار کر رکھا ہے اور اگر اس سے پہلے چھوٹ گئے تووہ اسے ایک لاٹری ہی سمجھیں گے۔ جسٹس ریٹائرڈطارق محمود نے کہا کہ جیل کی سختی سے ان کے اصولوں اور عزائم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ |
اسی بارے میں ’اپنے حصہ کا چراغ روشن کر دیا ہے‘04 November, 2007 | پاکستان ’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘08 November, 2007 | پاکستان ججوں کی بڑی تعدادنےحلف نہیں اٹھایا03 November, 2007 | پاکستان معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘07 November, 2007 | پاکستان ججز کالونی کے نہ گفتہ بہ حالات 07 November, 2007 | پاکستان ’پی سی او جج کے سامنےپیشی نہیں‘06 November, 2007 | پاکستان اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے05 November, 2007 | پاکستان سندھ: پی سی او کے تحت بارہ ججز04 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||