’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وہ اب بھی چیف جسٹس ہیں۔ بی بی سی اردو کی نعیمہ احمد مہجور کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ساٹھ کے قریب جج اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت کوئی بھی ان کی آزادی سلب نہیں سکتا ہے۔ ’ہماری آزادی سلب کی گئی ہے وہ ایک ماورائے آئین دستاویز کے ذریعے سے کی گئی ہے۔ ہماری آزادی کو کوئی کسی طریقے سے بھی سلب نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی اس قسم کا آرڈر پاس کیا جا سکتا ہے کیونکہ ہم نے تین نومبر کو اس ایمرجنسی کے نافذ ہونے سے پیشتر ہی ایک حکم امتناعی جاری کر دیا تھا اور اس حکم امتناعی کے تحت ہم آج بھی اسی منصب پر فائز ہیں جس پر ہمیں ہونا چاہیے۔‘ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک عدلیہ کی آزادی کے لیے چلائی جانے والے تحریک کی بات ہے وہ پاکستان کی سولہ کروڑ عوام چلائے گی اور تمام سیاسی جماعتیں چلائیں گی جن کو اس بات کا پتہ ہے کہ ہم نے نئے ڈسپنسیشن کے تحت حلف اس لیے نہیں لیا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آئین جو ہے وہ سپریم ہے، اس کا اطلاق ہونا چاہیے اور ہم رول آف لاء پر یقین رکھتے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے
ذیل میں جسٹس افتخار محمد چودھری کے انٹرویو کا مکمل متن پیش کیا جا رہا ہے: نعیمہ: چیف جسٹس صاحب آپ اس وقت سپریم کورٹ میں نہیں ہیں گھر میں ہیں اور یہ جو مہم ہے اس کو آپ آگے کیسے لے جائیں گے کیونکہ سپریم کورٹ میں نیا چیف جسٹس ہے، نئے جج صاحبان ہیں؟ جسٹس چودھری: نہیں لیکن ان کی تو کوئی قانونی اور اس کی آئینی حیثیت ہے ہی نہیں۔ جہاں تک ہماری موومنٹ کی بات ہے ہم کوئی سیاسی لوگ نہیں ہیں، ہماری موومنٹ سولہ کروڑ عوام چلائے گی اور تمام سیاسی جماعتیں چلائیں گی جن کو اس بات کا پتہ ہے کہ ہم نے نئے ڈسپنسیشن کے تحت حلف اس لیے نہیں لیا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آئین سپریم ہے، اور یہاں پر اطلاق ہونا چاہیے اور رول آف لاء پر ہم یقین رکھتے ہیں۔ مجھے پتہ نہیں ہے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ تمام لوگوں نے جس میں پولیٹکل پارٹیز جو کہ آج کل بڑی ایکٹو ہیں ہمارے پاکستان میں، ان تمام نے تمام ججز کے کاز کو سپورٹ کیا ہے اور مجھے مکمل یقین ہے کہ انشاء اللہ جیسے ہی یہ بادل چھٹیں گے ہم لوگ دوبارہ اپنی اسی جگہ پر ہوں گے جس پر ہم تین نومبر کی صبح اپنا کام کر رہے تھے۔ نعیمہ: چیف جسٹس صاحب کیا یہ لڑائی اس وقت جو چل رہی ہے عدلیہ اور فوج کے بیچ میں، کیا اسے دو اداروں کی لڑائی کہیں گے ہم یا دو اشخاص کی؟ جسٹس چودھری: یہ بالکل غلط ہے، یہ کسی نے بالکل غلط تاثر دیا ہوا ہے۔ عدلیہ اور فوج کے درمیان کسی قسم کی کوئی لڑائی ہے ہی نہیں، یہ تو صرف آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ مس انڈرسٹینڈنگ ہے اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو کہ صدر پاکستان کی تقریر ہے، انہوں نے کچھ باتیں کی تھیں ٹیررازم کے خلاف تو میں آپ کے چینل کے ذریعے تمام میڈیا کو اور انٹرنیشنل اور پاکستان
نعیمہ: لیکن آپ کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا کہ آپ نے ایسے کیسز جو مسنگ پرسنز کے تھے وہ لیے تھے اور جو مسنگ پرسنز ان میں کچھ لوگ ہیں جو ملک اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں جس کی وجہ سے صدر مشرف کو؟ جسٹس چودھری: نہیں وہ بھی غلط بات ہے، مسنگ پرسنز کے لوگ آتے ہیں، جب ان کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور اگر ان کے خلاف کوئی شہادت نہیں ہوتی ہے تو ان کو تو پھر چھوڑنا ہی پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ قانون ہے بین الاقوامی، چاہے آپ امریکہ میں دیکھیں چاہے برطانیہ میں دیکھیں کہ اگر کسی آدمی کے خلاف کوئی شہادت نہ ہو تو ایسے آدمی کو کسی صورت بھی آپ جیل میں ایک سیکنڈ کے لیے نہیں رکھ سکتے ہیں کیونکہ اس کی لبرٹیز کا تعلق ہوتا ہے اور جن کے خلاف ذرا سا بھی ہمیں ثبوت ملا ہے، کبھی ہم نے ان کے ساتھ کمپرومائز نہیں کیا ہے بلکہ بہت سے کیسز ہم نے خود کہا ہے ان کے خلاف رجسٹر کریں۔ نعیمہ: تو جسٹس افتخار صاحب جس طرح کا کیس صدر مشرف کے ری الیکشن پر چل رہا تھا، کیا واقعی انہیں خطرہ تھا کہ آپ کی سپریم کورٹ سے ان کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے جس کی وجہ سے وہ ایمرجنسی نافذ کرنے پر مجبور ہوئے؟ جسٹس چودھری: یہ بالکل غلط بات ہے، اس کے لیے میں دو وضاحتیں کروں گا، سب سے پہلے کہ میں تو اس بینچ کا ممبر بھی نہیں تھا اور دوسری بات اس بینچ کے گیارہ ممبر تھے، وہ ابھی تک مقدمے کی سماعت کر رہے تھے۔ اگر سماعت کے دوران کوئی اس قسم کی آبزرویشن آئی ہے تو اس سے یہ کبھی بھی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا، مقدمے کا فیصلہ تو آخر میں جب بحث مکمل ہو جاتی ہے تو تمام جج صاحبان تمام حقائق کو دیکھ کر پھر اس کے بعد فیصلہ کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا جج ہوتا ہے وہ کوئی چھوٹی چیز نہیں ہوتی، وہ بڑے اہم لوگ ہوتے ہیں، ان کی بڑی سوجھ بوجھ ہوتی ہے۔میں سمجھتا ہوں، میری ناقص رائے میں وہ مجھ سے بھی زیادہ سوجھ بوجھ رکھنے والےگیارہ ججز تھے جنہوں نے اس مقدمے کا فیصلہ کرنا تھا۔ تو یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ فیصلہ خلاف آنے والا تھا۔ نعیمہ: تو چیف جسٹس صاحب آپ کیا سمجھتے ہیں پھر صدر مشرف نے یہ اقدام کیوں کیا؟ جسٹس چودھری: میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اقدام شاید ان کے ذہن میں کوئی بات اس قسم کی ہو کہ وہ بینچ شاید ان کے حق میں فیصلہ نہ کرے لیکن میں نے اس سے پیشتر آپ کو ابھی ایک سیکنڈ پہلے کہا کہ اس قسم کا جو خدشہ ہے بالکل بے بنیاد تھا، یہ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا کہ جب تک فیصلہ نہ آ جاتا۔ نعیمہ: جسٹس صاحب یہ بھی بتا دیجیے کہ صدر مشرف نے دو بار آپ کے خلاف یہ کارروائی کی ہے اور ہر بار اس کارروائی کا صرف آپ ہی نشانہ بنے ہیں، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پس پردہ کوئی اور بات تو نہیں ہے جس کی وجہ سے آپ بار بار؟ جسٹس چودھری: نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے، صرف ایک ہی بات ہے وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں، کہ میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر مکمل یقین رکھتا ہوں۔میرا ہمیشہ سے یہ نقطہ نظر تھا کہ آئین کی بالادستی، رول آف لاء اور عدلیہ کی آزادی ہونی چاہیے اور میں اب یہ سمجھتا ہوں کہ یہ وقت آ گیا ہے کہ اس ملک میں جب تک آئین کی بالادستی نہیں ہوگی اس وقت تک یہ تمام ستون جو ہیں پاورز کے وہ علیحدہ علیحدہ سے فنکشن ادا نہیں کر سکیں گے، صرف یہی بات ہے ایک۔ نعیمہ: تو جسٹس صاحب نو مارچ سے پہلے آپ کی ملاقات صدر مشرف سے ہوئی تھی، کیا اس وقت آپ دونوں کے بیچ میں کوئی ان بن ہوئی تھی؟ جسٹس چودھری: نہیں نہیں، ہمارے تو بہت اچھے تعلقات تھے بلکہ میں تو بہت اس بات پر حیران ہوتا تھا کہ جنرل مشرف کے ساتھ ایسا کوئی میرا تعلق کبھی ہوا ہی نہیں کہ جس کی وجہ سے کوئی کھچاؤ پیدا ہو۔ نعیمہ: تو پھر یہ حالات اس قدر خراب کیوں ہو گئے؟ جسٹس چودھری: یہ تو بہتر وہ جانتے ہیں، آپ ان سے پوچھیں۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میرے دل میں تو ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے اور آپ نے دیکھا ہوتا کہ بیس جولائی کو بھی تیرہ ججز نے فیصلہ دیا، اس لیے انہوں نے میرے حق میں دیا کہ ایسی کوئی چیز تھی ہی نہیں میرے خلاف۔ نعیمہ: تو آپ کا ٹائم کیسے گذرتا ہے، کیا کرتے ہیں آپ دن بھر؟ جسٹس چودھری: وہ تو اللہ تعالٰی کا شکر ہے، ہم مسلمان ہیں، ہمیں نماز پڑھنی ہے، ہمیں اللہ کو یاد کرنا ہے، کتابیں پڑھنی ہیں۔ ایک تھوڑے بہت پڑھے لکھے جس کے ذہن میں پڑھائی کا شوق ہو، اس کا تو کتاب کے ساتھ بڑا اچھا وقت گذر جاتا ہے۔ نعیمہ: تو جسٹس صاحب آپ کا خیال ہے کہ اگر آپ کوئی عوامی مہم شروع کریں گے اور پاکستان کے عوام آپ کے ساتھ نکلیں گے؟ جسٹس چودھری: نہیں میں تو نہ اس قسم کی کوئی عوامی مہم شروع کروں گا، نہ میرا کوئی سیاسی کردار ہوگا، نہ میں سیاسی آدمی ہوں، میں تو ایک پروفیشنل آدمی ہوں۔ البتہ وکیلوں کو میں نے کل بھی پیغام دیا ہے کہ ان کی اب ڈیوٹی بنتی ہے کہ وہ آئین کی بالادستی اور رول آف لاء اور عدلیہ کی آزادی کے لیے کوشش کریں اور میں نے نو مارچ کے بعد بھی اپنے آپکو وکیلوں کی حد تک اپنے آپ کو کنفائینڈ کیا اور وکیلوں کے ساتھ تمام سوسائٹی ہمارے ساتھ آئی اور انہوں نے اس بات کا احساس کیا کہ اس ملک کے اندر آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔ نعیمہ: تو آپ پاکستانی عوام سے کیا کہنا چاہتے ہیں؟ جسٹس چودھری: ہم پاکستانی عوام سے، تمام پولیٹکل پارٹیز سے اور تمام لوگوں سے، ان کو میں یہی پیغام دوں گا کہ یہ وقت ہے کہ جب ان کو اپنے تمام اختلافات بھلا دینے چاہئیں۔
نعیمہ: تو فرض کیجیے جنرل مشرف آپ سے کہتے ہیں کہ ہم ملیں گے اور اس سارے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے تاکہ عدلیہ کی آزادی بھی بحال ہو، ملک میں حالات بہتر ہوں اور انتخابات بھی ہوں تو آپ کیا کریں گے؟ جسٹس چودھری: ہاں اگر یہ اپنے ادارے کے سلسلے میں مجھے کسی سے ملنا پڑے بشمول جنرل مشرف تو اس میں دیکھنا پڑے گا کیونکہ مجھے گھر کے اندر بیٹھ کر کوئی کسی قسم کا اندازہ نہیں ہے کہ باہر کیا کچھ ہو رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||