صدرمشرف فوری خطرے سے محفوظ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرویز مشرف کے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کے بعد اکثر تجزیہ کار اس پر تو متفق دکھائی دیتے ہیں کہ وہ پہلے کی نسبت قدرِ کم با اختیار ہوں گے لیکن اس پر نہیں کہ انہیں بطور سویلین صدر مستقبل قریب میں کوئی خطرہ لاحق ہے۔ سیاسی امور کے بعض ماہرین اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پرویز مشرف نے وردی تو اتار دی ہے لیکن اپنی پانچ سالہ سویلین صدر کی مدت پوری کرنے کے لیے ان کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار اب بھی ہے اور اس بنا پر وہ آنے والے سیاسی سیٹ اپ کو اپنے ماتحت رکھنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان میں سیاسی امور کے پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں کہ ویسے تو پاکستان میں فوجی عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی ایوب خان سات برس تک سویلین صدر رہے لیکن پرویز مشرف کے پانچ سال پورے کرنے کا انحصار آٹھ جنوری کے انتخابات کے نتائج پر ہوگا کہ کون ان کا حلیف بنتا ہے اور نئے وزیراعظم کو وہ کتنے اختیارات دیتے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ آنے والی پارلیمینٹ معلق ہوگی اور اس کی کوکھ سے ایک مخلوط اور کمزور حکومت ہی جنم لے گی۔ اس طرح کی حکومت کو ایک طرف اپنی کمزوری کا احساس کمتری ستاتا رہے گا تو دوسری طرف پرویز مشرف کے اسمبلی توڑنے کا اختیار ڈراتا رہے گا۔
ایسی ہی رائے انگریزی روزنامے دی نیشن کے ایڈیٹر اور تجزیہ کار عارف نظامی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فوجی حاکموں کی یہ شروع سے ہی خواہش رہی ہے کہ معلق پارلیمان ہو اور اب اگر دیکھا جائے تو اس بارے میں ’انجنیئرنگ‘ بھی شروع کردی گئی ہے۔ ان کے بقول انتخابی مہم کے لیے سیاسی جماعتوں کو کم وقت دینا اور ایمرجنسی کے تحت اپنے حامیوں پر مشتمل نگران حکومتوں کے ذریعے انتخابات کرانا شفاف انتخابات پر سوال بنے رہیں گے۔ عارف نظامی کی رائے اپنی جگہ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں کا منتشر رہنا بھی مشرف کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے پر اعتماد کے فقدان کی وجہ سے بظاہر ان کا متحد ہونا بھی مشکل نظر آتا ہے۔ جس کا بہر صورت فائدہ پرویز مشرف کو ہی ہوگا۔ ایسے میں جب پرویز مشرف کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی رہے گا تو بظاہر کوئی بھی حکمران اتحاد ان کو چیلینج کرتے وقت خاصی احتیاط برتے گا۔ پروفیسر جعفر احمد کی رائے بھی کچھ ایسی ہی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ’مشرف صاحب کو اسمبلی توڑنے کا اختیار حاصل ہے جو کہ آئندہ انتحابات سے وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کے سر پر تلوار کی طرح لٹکتا رہے گا‘۔ اکثر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ماسوائے اس کے کہ بڑے پیمانے پر لوگ مشرف کو ہٹانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں اور کوئی انہیں جاکر سلیوٹ مارے کہ ’سر جی خدا حافظ اب آپ جان چھوڑیں‘ مستقبل قریب میں پرویز مشرف کی صدارت کو خطرہ لاحق نہیں۔ پروفیسر جعفر کہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کو فوج پر مکمل گرفت قائم کرنے میں ابھی ایک ڈیڑھ سال لگے گا، نئے سیاسی سیٹ اپ کو بھی سال سوا تک مشرف سے مسئلہ نہیں ہوگا اور امریکہ بھی نہیں چاہے گا کہ مشرف کو فوری ہٹایا جائے۔
پروفیسر جعفر کہتے ہیں کہ ایوب خان کا بطور سویلین صدر پرویزمشرف سے موازنہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ان کے مطابق انیس سو باسٹھ میں فوجی عہدہ چھوڑ کر جنرل موسیٰ خان کو آرمی چیف بنایا اور جب وہ ریٹائر ہوئے تو یحیٰ خان آرمی چیف بنے اور انہوں نے بھی اس وقت ایوب خان سے جان چھڑائی جب فوج میں ایوب خان کے بارے میں یہ تاثر پھیلا کہ ان کی جیتی ہوئی جنگ ایوب خان تاشقند کے مذاکراتی میز پر ہار گئے، فوج کا بجٹ کم ہے اور عوام بھی ایوب خان کے خلاف سڑکوں پر آئے۔ بہرحال موجودہ حالات میں پرویز مشرف کے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے ساتھ شراکت اقتدار کو اکثر تجزیہ کار تقریباً ناممکن قرار دیتے ہیں۔ عارف نظامی کہتے ہیں کہ اگر کسی کے ساتھ صدر مشرف ’پاور شیئر‘ کریں گے بھی تو ان کا اتحاد پائیدار ثابت نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق بینظیر بھٹو فاروق لغاری کے ساتھ نہیں چل سکیں تو مشرف سے کیسے نبھاؤ کریں گی۔ اس بارے میں تجزیہ کار حسن نثار کی رائے بھی مختلف نہیں اور وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف اور بینظیر کا جنرل مشرف کے ساتھ چلنا ایسا ہوگا جیسا چھری اور خربوزے کا ساتھ ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||