بینظیر بھٹو اور مشرف کی مجبوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایک طویل عرصے سے جاری سیاسی بحران گزشتہ ہفتے کراچی میں بے نظیر بھٹو پر قاتلانہ حملے کے بعد جس میں ایک سو انتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے ایک ڈرامائی کروٹ لیتے ہوئے مزید ابتر ہو گیا ہے۔ بنظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان ہونے والی مفاہمت کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے کیونکہ دونوں میں بداعتمادی بڑھ گئی ہے اور دائیں بازو کی جماعتیں اور انتہا پسندی اس کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ اس صورت حال میں عام انتخابات پروگرام کے مطابق جنوری میں ہونا بھی یقینی نہیں رہا۔ ملک میں سیاسی کشمکش کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی فوج کو بڑھتی ہوئی انتہاہ پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کے لیے بھر پور کارروائی کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی بری طرح متاثرہ ہوسکتی ہیں۔ ایک سال قبل کچھ خوش فہم پاکستانیوں کو یہ امید ہو چلی تھی کہ جنرل مشرف فوج کے لیے انخلاء کا راستہ تلاش کرنے میں سنجیدہ ہیں، وہ فوج کو سیاست سے نکال کر ملک میں سیاسی افہام و تفہیم کی فصا پیدا کریں گے جس میں ملک میں حقیقی جمہوری نظام کی بحالی کو جہاں ایک بااختیار وزیر اعظم اور پارلیمٹ وجود میں آسکے ممکن بنایا جا سکے۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کےوسیع تر سیاسی مفادات کو جنرل مشرف کے دوبارہ صدر کے طور پر منتخب ہونے کی خواہش کی بھینٹ چڑہایا جا رہا ہے۔ صدر کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش میں صدر مشرف حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں، عدلیہ اور سول سوسائٹی سے محاذ آراء ہو گئے ہیں۔ اس اثناء میں انتہا پسند پاکستانی طالبان نے ملک میں خود کش حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وہ افغانستان کے ساتھ قبائلی علاقوں میں مزید مستحکم ہو گئے ہیں اور ان ہی علاقوں میں القاعدہ کی جڑیں بھی موجود ہیں۔ فوج کے ناقدین پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوج نہ انخلاء کا راستہ تلاش کر رہی ہے اور نہ ہی وہ جمہوریت کی طرف تبدیلی کا عمل شروع کرنا چاہتی ہے بلکہ یہ ملک میں سیاسی نظام پر فوجی تسلط کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور لندن کی جانب سے شدید دباو کے باعت فوج نے بینظیر بھٹو کے ساتھ مفاہمت کی اور انہیں ملک واپس آ کر سیاسی عمل میں شریک ہونے کا موقع دیا۔ کراچی میں ان کا فقید المثال استقبال سیاسی اور فوجی انتظامیہ کے لیے بہت حیران کن تھا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ فوج سے ڈیل پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں ناراضگی کے باوجود صرف پیپلز پارٹی ہی ملک کی واحد مربوط اور قومی سطح کی سیاسی قوت ہے۔ حکمران مسلم لیگ اور اس کا دوسرا دھڑا جس کی سربراہی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ہاتھ میں ہے صرف پنجاب تک محدود ہیں۔ گو کہ فوج بینظیر بھٹو پر اعتماد نہیں کرتی اور شاید نفرت بھی کرتی ہو لیکن اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ بینظیر کے ساتھ مل کر کام کریں۔ بینظیر بھٹو کی شمولیت کے بغیر ملک میں سیاسی استحکام کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ بینظیر بھٹو نے خفیہ اداروں میں چند عناصر پر کراچی بم حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرکے فوج اور جنرل مشرف کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
فوج ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے انتخابات کو ملتوی کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی فوج کو تمام سیاسی جماعتوں اور متحرک عدلیہ سے براہراست محاذ آرائی کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا جو کسی صورت میں انتخابات میں التواء کی اجازت نہیں دیں گے۔ امریکہ بھی ایسے کسی اقدام کی توثیق نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ فوج کے پاس متبادل راستہ یہی ہو گا کہ وہ سن دوہزار میں صدر مشرف کے ریفرنڈم کی طرح انتخابات میں دھاندلی کرے تاکہ بینظیر بھٹو اکثریت حاصل نہ کر سکیں اور انہیں اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ یہ پہلے ہی عیاں ہو چکا ہے کہ انتہا پسندوں کی طرف سے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر کوئی بھی سیاسی جماعت انتخابی مہم نہیں چلا سکے گی۔ سیاسی جلسے اور جلوس اور گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں ہو گا۔ خود کش حملوں کے خطرے کی وجہ سے عوام بھی جلسے جلوسوں سے دور رہیں گے۔ اس صورت حال میں انتخابات بھی بھر پور طریقے سے نہیں ہو سکیں گے اور ووٹ ڈالنے کی شرح بھی کم رہنے کی توقع ہے۔ ایسی صورت حال میں دھاندلی کرنا آسان ہو گا کیونکہ کم ووٹوں میں ہندوسوں کی ہیرا پھیری نسبتاً آسانی سے کی جاسکتی ہے۔
اگر انتخابات میں فیصلہ کن نتائج سامنے نہیں آتے تو فوج بینظیر کو مسلم لیگ یا جمعیت علامہ اسلام جو کہ طالبان کی حامی جماعت ہے سے مل کر حکومت بنانے پر مجبور کرے گی۔ کئی جماعتوں پر مشتمل اندرونی تضادات کا شکار حکومت کی موجودگی میں جنرل مشرف اور فوج کو اقتدار پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنا بہت آسان ہو گا۔ صدر مشرف کی گرتی ہوئی ساکھ، انتہا پسندوں کے خلاف بددلی سے کیئے جانے والے اقدامات اور فوج کی قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکامی کے مقابلے میں بینظیر بھٹو انتہا پسندوں کو رام کرنے کے بجائے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے میں پرعزم دکھائی دیتی ہیں۔ مغربی ملکوں اور واشنگٹن کے لیے بینظیر کے ارادے زیادہ قابل اعتبار ہیں لیکن فوج کے لیے نہیں جو گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے بعض شدت پسندوں کو پناہ فراہم کرتی رہی اور بعض کے خلاف کارروائی کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتیں اور ملکی ذرائع ابلاغ یا تو انتہا پسندی کے خلاف بات کرنے سے ڈرتے ہیں یا انتہا پسندوں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ وہ امریکہ کے حمائتی کے طور پر جاننے جائیں۔ وہ معاشرے کے اس طبقے کو ناراض نہیں کرنا چاہتے جو نو سال قبل بینظیر کے وطن سے جانے کے بعد زیادہ مذہبی ہو گیا ہے۔ یہ وہ خطرناک صورت حال ہے جس میں بینظیر بھٹو کو اپنا سیاسی سفر آگے بڑھانا ہے۔ فوج کو بینظیر کی ضرورت صرف اسی لیے ہے کہ وہ مستقبل میں ایک کثیرالجماعتی حکومت تشکیل دے سکیں اور یوں امریکہ کو مطمئن کر سکیں نہ کہ اس لیے کہ فوج کا سیاست میں عمل دخل کم کریں اور اس پر انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔ بینظیر بھٹو کو اپنی بقاء کے لیے فوج کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ سامنے نہ آئیں۔ وہ صرف اس بات کی امید کر سکتی ہیں کہ عوامی قوت جس کا مظاہر کراچی میں دیکھنے میں آیا فوج کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے پر مجبور کر سکے۔ پاکستان کی سیاست میں اب بھی تمام کارڈز فوج کے پاس ہیں۔ بینظیر بھٹو اور دوسری لبرل جماعتوں کو چاہیے کہ وہ کوشش کریں کہ فوج کے لیے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے علاوہ کوئی چارا نہ رہے۔ اس دوران خود کش حملہ آوور کوشش کریں گے پاکستان میں کوئی استحکام پیدا نہ ہو سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||