BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 October, 2007, 20:45 GMT 01:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت‘

اے پی ڈی ایم نے اتفاق رائے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس تجویز کی مشروط حمایت کی ہے
ملک کو درپیش دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے اور عام انتخابات کے دوران محفوظ انتخابی مہم کے حوالے سے مشترکہ لائحہ تیار کرنے کی غرض سےحکومت کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کی تجویز پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول دہشت گردی کی پھیلتی ہوئی لہر کو روکنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو خلوصِ دل سے اکٹھا ہونا پڑے گا ورنہ ایک بھرپور انتخابی مہم چلانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

تاہم انتخابی مہم کو چار دیواری تک محدود رکھنے کی تجویز ان جماعتوں کو تو قابل قبول ہو جو سڑکوں پر اپنی طاقت کا مظاہرہ اس طرح نہ کرسکیں جس کی چند جماعتوں میں استطاعت ہے لیکن ہر جماعت کو نہیں۔

اب تک جو ردعمل سامنے آیا ہے ان میں حکمراں مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ حزب اختلاف کے بڑے اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) نے اتفاق رائے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کی مشروط حمایت کی ہے تاہم اس میں شامل ایک بڑی جماعت جعمیت علماء اسلام کا کہنا ہے کہ تجویز کا جماعت کی مرکزی قیادت جائزہ لے کر اس بارے میں کوئی فیصلہ کرےگی۔ ادھر پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین نے اس تجویز کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔

 مولانا فضل الرحمان نے ایک مرتبہ پھر ’نہ واضع ہاں اور نہ نا’ والی پالیسی پر چلتے ہوئے کہا ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ ان کی جماعت کی مرکزی قیادت آپس میں مشاورت کے بعد کرے گی۔

حکمراں مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ ملک کے حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک کو درپیش مسائل و خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کریں۔

آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ایسی کانفرنس کا انعقاد کسی غیرجانبدار پلیٹ فارم سے کیا گیا تو وہ ضرور شرکت کریں گے۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے پہلے ہی ان سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے اے پی سی کے حوالے سے تجاویز مانگی ہیں۔

اس بابت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تجویز بھی قابل غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں کی ایک کانفرنس طلب کی جائے جس میں مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے بعد انہیں سرکاری اے پی سی میں جانا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں قبائلی علاقوں اور مقامی طالبان کے نمائندوں کو بھی مدعو کرنے کی تجویز دی ہے جوکہ قابل توجہ ہے۔

تجویز کا جماعت کی مرکزی قیادت جائزہ لے کر اس بارے میں کوئی فیصلہ کرےگی

جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل فرید احمد پراچہ کا کہنا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز پر اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ دہشت گردی کے ملک کا بہت بڑا مسئلہ اور حقیقی چیلنج ہے لیکن اس کا کسی غیر جانبدار فورم سے انعقاد ہی سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی تجویز کہ دہشت گردی کے خلاف کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد نگران حکومت کرے وزن رکھتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ جو حکمران گزشتہ آٹھ سالوں میں دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکے وہ اے پی سی بلا کر کیسے قابو پا سکتے ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما اور جمعیت علماءاسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ حکومت خود دہشت گردی کے اسباب فراہم کر رہی ہے اس لئے اس مسئلہ پر گول میز کانفرنس بلانے کی کوئی افادیت نہیں ہو گی۔ تاہم ان کی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک مرتبہ پھر ’نہ واضع ہاں اور نہ نا’ والی پالیسی پر چلتے ہوئے کہا ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ ان کی جماعت کی مرکزی قیادت آپس میں مشاورت کے بعد کرے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرئنز کے رہنما میر باز خان کھیتران نے سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کو بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی صدر جنرل پرویز مشرف اور اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمت پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمت ملکی یکجہتی اور پاکستان کی بقا کی خاطر ہے۔

پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حکمران ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ذمہ دار ہیں۔ ان کی طرف سے بلائی گئی اے پی سی میں شامل نہیں ہونگے۔

سیاستدانوں کا ردعمل جو بھی ہو حکومت کی جانب سے بھی اس تجویز کو ابھی بھرپور انداز میں ’بیچنے’ کی کوشش بظاہر ابھی نہیں کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درّانی نے ایک آدھ مرتبہ اس تجویز کو پیش کیا لیکن اس کے بعد خاموشی ہے۔ تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت اس بابت سیاسی جماعتوں سے رابطے جلد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد