بیورو رپورٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | کل جماعتی کانفرنس میں انتخابی مہم کے دوران سیکیورٹی کو بہتر بنانے پر غور کیا جائے گا |
حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیئے لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی دورانی نے یہاں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کا چیلنج انہیں بحیثیت قوم درپیش ہے۔ ’حکمران اتحاد یہ کانفرنس بلانے کیلئے تیار ہے، جس میں ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت قومی مفاہمت کے جذبہ کے ذریعے سیاسی قیادت مکمل اتحاد و تعاون کا مظاہرہ کرے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے جلسے، جلوسوں اور سیاسی سرگرمیوں کیلئے سیکورٹی پلان پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ انہوں نے اس بابت سیاسی جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی اور امن و امان کے نفاذ کے ذمہ داروں کی تجاویز اور مشاورت کو نظر انداز نہ کرنے کے لیئے کہا۔ ’دہشتگردی کے واقعات کا ایک مقصد جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنا بھی ہو سکتا ہے لیکن حکومت پرعزم اور یکسو ہے۔ عام انتخابات وقت پر ہونگے، بالواسطہ تبصروں سے الزام تراشی کا سلسلہ بند کیا جائے اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو وہ سامنے آئے۔‘ ادھر مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک سوچے سجھے منصوبے کے تحت کراچی میں بم دھماکے کرائے گئے۔ انہوں نے بینظیر بھٹو سے مل کر اے آر ڈی کو دوبارہ فعال کرنے کے لئے کوششیں کا بھی اعلان کیا۔ جمعہ کو پارٹی کے سنٹرل سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف نومبر میں ہر حال میں پاکستان واپس آجائیں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ٹریبونل سے کراچی کے واقع کی تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ بینظیر بھٹو کی جان محفوظ رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کی افادیت اور بڑھے گی۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو سے مطالبہ کیا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق ایک نکاتی ایجنڈے کے تحت جدوجہد شروع کی جائے۔ ’ہم پیپلز پارٹی سے مفاہمت کرکے جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں۔‘ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تمام پارٹیوں کے اتحاد کی تیسری بار بھی بھرپور کوششش کریں گے۔ |