لیاری کے جانثار: داستانیں کیا کیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جس ماں کو شادی کے گیت گانے تھے اور مبارکبادیں وصول کرنی تھیں وہ بیٹے کے نکاح کے روز تعزیتیں وصول کر رہی تھی، اس بیٹے کو اپنے گھر سے زیادہ بینظیر بھٹو سے محبت اور عقیدت تھی۔ لیاری کے نوالین کا رہائشی حبیب الرحمان بلوچ ان ایک سو چالیس افراد میں شامل تھے جو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے جلوس پر کئے گئے بم حملے میں مارے گئے۔ ان لوگوں کی ہلاکتوں کو پیپلز پارٹی وہی درجہ دے رہی ہے جو سکرنڈ اور خیرپور ناتھن شاہ میں ایم آرڈی کی تحریک کے دوران جاں بحق ہونے والوں کو دیا جاتا ہے۔ چوبیس سالہ لاک میکر حبیب الرحمان بلوچ نے پورے محلے کو سجایا تھا۔ ان کی والدہ بتاتی ہیں ’وہ عید کے دن جب جارہا تھا تو میں نے کہا عید کی چائے میرے ساتھ پیو، منہ میٹھا کرکے جاؤ مجھے خوشی ہوگی، اس نے کہا اماں، بہن بینظیر آ رہی ہیں اس کی تیاری کرنی ہے۔‘ حبیب الرحمان کی ماں بتاتی ہیں کہ انہوں نے یاد دہانی کرائی تھی کہ ’اتوار کو تمہاری منگنی اور نکاح ہے، ضرور آنا ہے بھول نہ جانا۔اس نے کہا کہ امی جان میں آونگا۔‘
بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے لیے بنائی گئی ’جانثاران بینظیر بھٹو‘ میں زیادہ تر لیاری کے جوشیلے نوجوان شامل تھے۔ جب پہلا دھماکہ ہوا تو لیاری کے ان نوجوانوں نے بھی اس ٹرک کو گھیرے میں لے لیا جس میں بینظیر بھٹو سوار تھیں، نتیجے میں لیاری کے دس نوجوانوں کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ بینظیر بھٹو کے ٹرک پر سوار لیاری کے نوجوان عرفان بلوچ بتاتے ہیں کہ وہ ٹرک کے آگے والے حصے پر دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ سوار تھے، ’جیسے ہی پہلا دھماکہ ہوا تو ہم چھلانگ لگا کر نیچے آگئے تاکہ کوئی بی بی کی گاڑی کے قریب نہ آئے ہم ٹرک کے پیچھے کی سیڑھیوں کے پاس موجود تھے اس دوران دوسرا دھماکہ ہوا ۔‘ انہوں نے بتایا کہ لیاری کے لوگ بینظیر کی گاڑی کے ساتھ چپکے ہوئے تھے اور کسی کو قریب نہیں آنے دے رہے تھے۔ اندرون سندھ کے لوگ بھی موجود تھے، باقی سب بھاگ گئے لیکن ہم لیاری والے نہں بھاگے اور ہمت کرکے بینظیر کو دوسری گاڑی میں بلاول ہاؤس کے لیے روانہ کیا۔
ہلاک ہونے والوں میں بین اقوالامی فٹبالر عبدالخالق بلوچ بھی شامل ہیں ان کے والد حاجی محمد عمر کے مطابق عبدالخالق نے جب سے ہوش سنبھالا، پیپلز پارٹی میں تھے اور وہ بینظیر بھٹو کے دیوانے تھے، ان کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی۔ عبدالخالق کے دوست اختر علی بروہی اس دیوانگی کو بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بینظیر بھٹو نے فٹبال کے فروغ کے لیے بہت کچھ کیا تھا۔ آج اگر لیاری کے نوجوان پیچھے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد کی دو حکومتوں نے فٹبال کو نظر انداز کر دیا۔ لیاری کے نوجوانوں میں فٹبال کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بینظیر بھٹو نے پیپلز سٹیڈیم بھی تعمیر کرایا تھا۔ اختر بروہی بتاتے ہیں کہ پی آئی اے، سٹیل ملز، حبیب بینک میں فٹبال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ مگر بینظیر کے دور میں ان محکموں میں فٹبال کے لیے لیاری کے لوگوں کو ہی بھرتی کیا جاتا تھا، اس لیے فٹبالر بینظیر سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ عبدالخالق کو بھی ان ہی کے دور حکومت میں کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملازمت ملی تھی۔
لیاری کی اب تو شناخت گینگ وار منشیات فروشی کے حوالے سے ہوگئی ہے، مگر تاریخ کچھ اور بتاتی ہے۔ شہر کا یہ قدیمی علاقہ ماضی میں سیاسی کارکنوں کی نرسری بھی رہا ہے۔ جس میں ترقی پسند، قوم پرست اور جمہوریت پسند مخلص کارکنوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لیکن وقت کے بے رحم ہاتھوں اور کچھ عناصر کے مفادات نے انہیں منشیات کی آگ میں جھونک دیا۔ بینظیر بھٹو کی واپسی شاید اس سیاسی لیاری کو نئی سانس دینے جا رہی تھی۔ اس علاقے کے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کہتے ہیں کہ لیاری کے عوام کی اتنی محبت اس سے پہلے انیس سو چھاسی میں بھی نظر نہیں آئی تھی جب بینظیر جلاوطنی کے بعد پہلی مرتبہ آئی تھیں۔ لیاری کے لوگ ذوالقفار علی بھٹو کے شیدائی تھے۔ اور بینظیر بھٹو کے دیوانے ہیں۔ ہلاک ہونے والے ابراہیم کے ماموں عبدالرحمان بلوچ کا کہنا ہے کہ ’لیاری کے عوام کو اگر کوئی مسکرا کر بھی دیکھتا ہے تو وہ اس کے پیچھے دوڑتے ہیں، بھٹو نے تو اس عوام کے لیے اپنی جان قربان کردی تھی۔‘ عبدالرحمان انیس سو اڑسٹھ سے پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔ ان کا ایک بھانجا ابراہیم اٹھارہ اکتوبر کو ہلاک اوردوسرا زخمی ہوگیا ہے۔ وہ فخریہ کہتے ہیں کہ ’مجھے خوشی ہے کہ ہمارے خاندان میں سے کسی کو اس راہ میں شہادت کا رتبہ ملا اگر افسوس ہے تو یہ کہ مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے مشن میں شہادت کیوں نہیں ملی۔‘ ابراہیم مزدوری کرتے تھے۔ نور محمد بلوچ کا ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی اٹھارہ اکتوبر نے چھین لیا۔ وہ کہتے ہیں ’ایک ہی بیٹا تھا اور کوئی نہیں ہے اللہ کے سوا، کوئی سہارا نہیں ہے وہ اپنی بہن (بے نظیر) کے پاس گیا تھا وہاں قتل ہوگیا، مجھے دوسرے روز پتہ چلا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’بینظیر کے لیے طارق نے اپنی جان دے دی اور ہم نے بھی قربان کردیا اپنی اولاد کو۔‘ عبدالستار بلوچ ستر کی دہائی سے پیپلز پارٹی سے منسلک ہیں، کارساز پل والے سانحے میں ان کا نوجوان بھانجا علی محمد جو ان کا داماد بھی تھا، ان سے بچھڑ گیا۔ مگر انہیں اس کا کوئی افسوس نہیں ہے۔ علی محمد بلوچ مزدوری کرتے تھے ، ان کے دو بچے ہیں۔ عبدالستار کہتے ہیں کہ ’ہم ہر وقت اپنی پارٹی کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔‘ لیاری کے لوگوں کی پیپلز پارٹی سے توقعات ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر غریبوں کے لیے روزگار لائے گی اور لیاری کی ترقی ہوگی۔ خوشحالی اور ترقی کے لیے بہائے گئے خون کی پیپلز پارٹی کی قیادت کتنی قدر کرتی ہے یہ آنے والا وقت ہے بتا سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||