BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 November, 2007, 01:18 GMT 06:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف دھوکا دے رہے ہیں۔ عاصمہ

عاصمہ جہانگیر
ملک میں اس وقت ایمرجنسی نہیں بلکہ مارشل لا نافذ ہے
انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایمرجنسی نہیں بلکہ مارشل لا نافذ ہے جب کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد یہ ملک کا سیاہ ترین قانون بن گیا ہے اور صدر مشرف دہشت گردی پر قابو پانے کا ڈرامہ کر کے عالمی برادری کو دھوکا دے رہے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے اپنی نظربندی کے خاتمے کے بعد سینچر کو لاہور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف ملک میں جو اقدامات کر رہے ہیں وہ سول سوسائٹی کو تباہ کرنے کی طرف قدم ہے۔ وکلا کو بار ایسوسی ایشن کے احاطے میں جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ ان کے بقول پولیس سٹیشنوں میں وکلا کے ساتھ جرائم پیشہ افراد جیسا سلوک کیا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے نگران حکومت کی تشکیل پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ نگران حکومت میں صدر مشرف کے پسندیدہ لوگ شامل ہیں اور یہ نگران حکومت ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔

جدوجہد جاری رکھیں گے
 وکلا ملک میں عدلیہ، آئین اور جمہوریت کے بحالی کے لیے اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک وہ اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو جاتے
عاصمہ جہانگیر

انہوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر تنقید کی اور کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد اب جو شخص بھی یہ کہے گا کہ پاکستان میں ایک سے زیادہ قومیں ہیں اس کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’میں کہتی ہوں کہ پاکستان میں ایک سے زیادہ قومیں ہیں اور میرے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے، میں اس کا سامنا کروں گی‘۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلا ملک میں عدلیہ، آئین اور جمہوریت کے بحالی کے لیے اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک وہ اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو جاتے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا کام سیاسی جماعتوں کو ڈکٹیشن دینا نہیں ہے۔ ’سیاسی جماعتوں نے اپنے فیصلے خود کرنے ہیں تاہم سیاسی جماعتوں کے طرف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں ملک میں منصنافہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔‘

عاصمہ جہانگیر نے جیو اور اے آر وائی کی بین الاقوامی نشریات بند کرنے کی شدید مذمت کی اور اعلان کیا کہ حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مزاحمت کی جائےگی۔

عاصمہ جہانگیر آرمی ایکٹ ترمیم
ایجنسیوں کی کارروائیوں کے لیے’ قانونی کور‘
عاصمہ جہانگیر’لال مسجد آپریشن‘
تاخیری حربوں، ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
اسلام آباد قبرستاناسّی ہزار نئی قبریں
’اسلام آباد میں وی آئی پی آخری آرام گاہیں‘
عاصمہ جہانگیر’انڈیا سے دوستی‘
پاکستان میں جمہوریت ضروری ہے: عاصمہ
جنگل کا قانونجنگل کا قانون
’زلزلے نےانسان نہیں انسانیت بھی چھین لی‘
عاصمہ جہانگیردھاندلی کا الزام
انتخابات پر انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد