عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، لاہور |  |
 | | | ملک میں اس وقت ایمرجنسی نہیں بلکہ مارشل لا نافذ ہے |
انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایمرجنسی نہیں بلکہ مارشل لا نافذ ہے جب کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد یہ ملک کا سیاہ ترین قانون بن گیا ہے اور صدر مشرف دہشت گردی پر قابو پانے کا ڈرامہ کر کے عالمی برادری کو دھوکا دے رہے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنی نظربندی کے خاتمے کے بعد سینچر کو لاہور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف ملک میں جو اقدامات کر رہے ہیں وہ سول سوسائٹی کو تباہ کرنے کی طرف قدم ہے۔ وکلا کو بار ایسوسی ایشن کے احاطے میں جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ ان کے بقول پولیس سٹیشنوں میں وکلا کے ساتھ جرائم پیشہ افراد جیسا سلوک کیا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے نگران حکومت کی تشکیل پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ نگران حکومت میں صدر مشرف کے پسندیدہ لوگ شامل ہیں اور یہ نگران حکومت ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔
 | جدوجہد جاری رکھیں گے  وکلا ملک میں عدلیہ، آئین اور جمہوریت کے بحالی کے لیے اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک وہ اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو جاتے  عاصمہ جہانگیر |
انہوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر تنقید کی اور کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد اب جو شخص بھی یہ کہے گا کہ پاکستان میں ایک سے زیادہ قومیں ہیں اس کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’میں کہتی ہوں کہ پاکستان میں ایک سے زیادہ قومیں ہیں اور میرے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے، میں اس کا سامنا کروں گی‘۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلا ملک میں عدلیہ، آئین اور جمہوریت کے بحالی کے لیے اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک وہ اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو جاتے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارا کام سیاسی جماعتوں کو ڈکٹیشن دینا نہیں ہے۔ ’سیاسی جماعتوں نے اپنے فیصلے خود کرنے ہیں تاہم سیاسی جماعتوں کے طرف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں ملک میں منصنافہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔‘ عاصمہ جہانگیر نے جیو اور اے آر وائی کی بین الاقوامی نشریات بند کرنے کی شدید مذمت کی اور اعلان کیا کہ حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مزاحمت کی جائےگی۔
|