BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 November, 2006, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد: اسّی ہزار نئی قبریں

مرکزی قبرستان
موجودہ مرکزی قبرستان میں ڈیڑھ سو قبروں کی گنجائش باقی رہ گئی ہے
پاکستان میں اکثر امیر لوگ اچھی زندگی گزارنے کے لیے اسلام آباد کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر یہاں نہیں رہتے ہیں تو بھی یہاں ایک گھر ضرور بناتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنا ہوا شہر ہے جہاں ہر طرف درخت ہی درخت ، کشادہ سڑکیں، ترتیب وار گھر اور صفائی ہے۔

پاکستان کا دارالخلافہ ملک کے مہنگے ترین پلاٹوں کے لیے مشہور ہے۔ آپ کو یہاں زندہ رہنے کے لیے پلاٹ ملے نہ ملے ، ایک سستی ،دائمی ،وی آئی پی آخری آرام گاہ کا پلاٹ ضرور مل سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں ایک وسیع اور خوش نما قبرستان تیار ہورہا ہے۔ جو نئے سال سےلوگوں کے لیے اپنے دروازے کھول دے گا۔

کیپٹیل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن مومن آغا نے بی بی سی کو بتایا کہ سی ڈی اے یکم جنوری سے اَسی ایکڑ رقبے پر ایک نئے قبرستان کا افتتاح کر رہی ہے۔ یہاں اَسی ہزار قبروں کی گنجائش موجود ہوگی جو اگلے پچاس سال کے لگ بھگ تک شہر کی ضروریات کے لیے کافی ہوگا۔

اسلام آباد کے لیے ایک نئے قبرستان کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ اس کے موجودہ مرکزی قبرستان میں چالیس ہزار مُردوں کو دفنانے کی گنجائش تھی۔اب یہاں تقریبا ًڈیڑھ سو قبروں کی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔

سی ڈی اے کے حکام کے مطابق شہر کے مرکزی قبرستان میں روزانہ پانچ سے چھ مردے دفنائے جاتے ہیں۔ویسے تو اسلام آباد کی اوسط شرح اموات اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن چونکہ اسلامآباد کی بیشتر آبادی ملک کے دیگر علاقوں سے روز گار کی غرض سے رہائش پذیر ہے اس لیے یہاں وفات پا جانے والوں میں سے بیشتر کی میتیں اُن کے ورثاء اپنے آبائی شہروں یا گاؤں لے جاتے ہیں۔ یوں اسلام آباد میں آخری آرام گاہ زیادہ تر اُنہی لوگوں کی ہوتی ہے جن کا اپنا کوئی شہر یا گاؤں نہیں۔

سی ڈی اے کے زیر انتظام قبرستان کی انتظامیہ کے افسر عبدالرزاق نے بتایا کہ نئے قبرستان میں، جو کہ ایچ الیون سیکٹر میں واقع ہے، سوگوران کے لیے اعلیٰ درجے کی سہولیات کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ان میں نماز جنازہ کے لیے مسجد، گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص وسیع علاقہ، ٹوائلٹس اور پانی کی سہولیات شامل ہوں گی۔

مُردہ دفنانے کے لیے تقریباًایک ہزار خرچہ آئے گا

اس کے علاوہ قبرستان کے سٹاف کے لیے معقول رہائش یہیں پر میسر ہوگی۔
قبرستان میں ہی ایک دفتر ہوگا جہاں پر مُردوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جائے گا۔

قبر پہلے آیئے پہلے پایئے کے اصول پر الاٹ ہوگی۔ قبریں ترتیب وار لائنوں میں ہوں گی اور قبروں کی قطاروں میں چلنے پھرنے کی کھلی جگہ ہوگی تا کہ آمدورفت کی آسانی ہو۔

سی ڈی اے کے حکام کے مطابق ایک قبر کی قیمت پانچ سو روپے ، قبر پر رکھے جانے والے پتھر کےسلوں کی قیمت چار سو روپے جبکہ مُردوں اور سوگواران کے لیے قبرستان بس سروس چار روپے فی کلو میٹر ہوگی۔ یعنی کہ ایک مُردہ دفنانے کے لیے تقریباً ایک ہزار خرچہ آئے گا۔ جولوگ یہ رقم بھی ادا کرنے کی سکت نہ رکھتے ہوں اُن کے لیے سی ڈی اے کا اپنا فنڈ موجود ہے جس کے تحت مُردے فری بھی دفنائے جاسکتے ہیں۔

امیروں کا شہر
اسلام آباد: کرایہ روپوں نہیں ڈالر میں
ٹریفکٹریفک کا جن
ٹریفک کے جن کو قابو کرنے کی نئی پولیس
اسلام آباد کے ٹوائلٹ
یہاں رکھے صابن اور لوٹے چوری ہوجاتے ہیں
 شہرکچھ نئے اسلام آباد
زلزلہ متاثرین کے لیے نئے شہر کیوں نہیں؟
اسلام آبادیہ اسلام آباد ہے۔۔۔
سنگت ڈائری: جانا اسلام آباد تھا، پہنچے لاہور
اسلام آبادمہنگا دارالحکومت
تیرہ ایکڑ زمین ، قیمت 4 ارب 88 کروڑ روپے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد