اسلام آباد کس کا شہر ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت میں مکانوں کے کرائے پاکستانی کرنسی میں نہیں بلکہ ڈالروں میں وصول کیے جاتے ہیں۔شہر میں پرتعیش اپارٹمنٹ یا پینٹ ہاؤس تعمیر ہو رہے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت سولہ کروڑ ہے۔ دارالخلافہ کی سڑکوں پر بڑی بڑی کاریں دوڑ رہی ہیں۔سڑکوں کو چار رویہ سے چھ رویہ بنایا جارہا ہے لیکن عام شہری کے سفر کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے۔ شہر کے ایف نائن سیکٹر میں پینٹ ہاؤس کی تعمیر ہو رہی ہے جن کی قیمت سولہ کروڑ فی پینٹ ہاؤس ہے اور لوگوں نے بک کروانےشروع کردیئے ہیں۔ اس کمپلکس میں سیون اسٹار ہوٹل بھی واقع ہوگا۔ تعمیر شروع ہے۔ پیسہ متحدہ عرب امارات سے آرہا ہے۔ مارگلہ کے دامن میں واقع اس شہر میں شہر سے پچیس تیس کلومیٹر دور دیہات میں غریبوں کے ہمدرد سیاستدانوں نے دو سے چھ ایکڑ پر پھیلے فارم ہاؤس بنا لیے ہیں جن کی قیمت چھ کروڑ سے شرو ع ہوتی ہے۔ راول ڈیم کے ارد گرد واقع چک شہزاد، بنی گالہ، علی پور فراش اور پنج گراں کے علاقہ سی ڈی اے کے ماسٹر پلان میں اس لیے رکھا گیا تھا کہ وہاں سبزیاں کاشت کی جائیں گی تاکہ دارالخلافہ کے شہریوں کو مناسب دام پر سبزیاں مل سکیں۔
تاہم ان علاقوں پر اب جنرل پرویز مشرف، عمران خان، ناہید خان، عبدالقدیر خان اور ملک کے نامی گرامی قائدین کرام ایکڑوں پر پھیلے ہوئے فارم ہاؤس بنا چکے ہیں۔ عمران خان کا فارم ہاؤس دو سو کنال پر پھیلا ہوا ہے۔ رہی ہی کسر پراپرٹی مافیا نے پوری کردی اور ان دیہاتوں کو پلاٹوں میں تقیسم کرکے بیچ دیا۔ اسلام آباد کی مقامی حکومت (سی ڈی اے) نے یہ سب کچھ ہونے دیا۔اس کی اجازت کے بغیر نہ کسی زمین کی رجسٹری ہوسکتی ہے اور نہ مکان کی تعمیر۔ دارالحکومت ہونے کے ناطے شہر کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ رقبہ محدود ہے۔ایک طرف مارگلہ کی پہاڑیاں اور ان کے پرے صوبہ سرحد کا علاقہ ہے۔ دوسری طرف راولپنڈی اور پنجاب کا علاقہ۔ شہر کے ایک طرف کچھ زمین موجود ہے جہاں حکومت زون چار اور پانچ بنا کر نئے رہائشی علاقے بنا سکتی تھی تاکہ لوگوں کو مناسب قیمت پر مکان مل سکیں۔ تاہم ایسا نہیں کیاگیا۔ یوں میدان پراپرٹی ڈیلروں اور ڈیویلیپروں کے لیے خالی چھوڑ دیاگیا ہے جو کروڑوں سے اربوں پتی بن گئے ہیں۔ کئی پراپرٹی ڈیلر اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے روزنامے (اخبارات) نکالے ہوئے ہیں۔ دارالحکومت سے نکلنے والے ان کم اشاعت کے متعدد اخباروں کو بہت کم اشتہارات ملتے ہیں لیکن پراپرٹی ڈیلر کے لیے کروڑوں روپے سالانہ کا یہ نقصان برداشت کررہے ہیں۔ظاہر ہے وہ یہ نقصان کہیں سے پورا کرلیتے ہیں اور انہیں ان سے کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ ازراہ مذاق اسلام آباد کے ای سیکٹر کو ایلیٹ اور ایف سیکٹر کو فیوڈل کہاجاتا ہے کیونکہ اس سیکٹروں میں صرف وہ لوگ رہ سکتے ہیں جن کی آمدن لاکھوں روپے ماہانہ ہو۔ ان سیکٹروں میں مکانوں کے کرائے ایک لاکھ روپے ماہانہ سے شروع ہوکر پانچ چھ لاکھ اور اس سے بھی زیادہ ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ نہ تو سرکاری افسروں کی تنخواہ ہزاروں میں ہوتی ہے اور بڑی کاروباری کمپنیوں کے بڑے افسروں کی تنخواہیں بھی عام طور سے ایک ڈیڑھ لاکھ ماہانہ سے زیادہ نہیں ہوتی تو وہ کون لوگ ہیں جو یہ مکان کرائے پر لیتے ہیں؟ جواب ملا کہ یہ مکانات کرائے پر لینے والوں میں غیرملکی این جو اوز، سفارت کار اور وہ لوگ شامل ہیں جو سرکاری سرپرستی سے دھڑا دھڑ مال بنا رہے ہیں۔ ہر حکومت اپنی سیاسی بنیاد بنانے کے لیے سرکاری نوازشات سے اپنے حمایتیوں کا نیاگروہ تشکیل دیتی ہے۔ حکومت سے وابستہ سول اور فوج کے اعلیٰ افسروں اور سابق گورنروں نے اپنے کنالوں پر پھیلے ہوئے مکانوں کو غیر قانونی طور پر گیسٹ ہاؤس بنا دیا ہے۔ ان میں سے کچھ پر کوئی بورڈ نہیں، ان پر ہوٹل اور ریسٹورنٹ والے کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتے اور آمدن کروڑوں روپے کی ہے۔
اخباروں میں مکانوں کے جو اشتہار آتے ہیں ان میں ان کی قیمت دو کروڑ اور تین کروڑ لکھی ہوتی ہے۔ آئے دن مکانات کی خرید و فروخت ہوتی ہے لیکن سی ڈی اے کے ریکارڈ میں کسی مکان کی فروخت پچاس لاکھ روپے سے زیادہ میں نہیں ہوتی تاکہ حکومت کو ٹیکس نہ دینا پڑے۔ مارگلہ کی پہاڑیاں اسلام آباد کا حسن سمجھی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک ایسی تعمیر ممنوع تھی جس سے ان پہاڑیوں کا منظر چھپ جائے۔ اب عدالت عظمی اور فوج سمیت متعدد سرکاری محکموں کے افسروں کے لیے ایسے کثیر منزلہ فلیٹ مارگلہ کے سامنے بنا دیئے گئے ہیں جن سے ان پہاڑیوں کا منظر چھپا جارہا ہے۔ ان دنوں اسلام آباد میں جگہ جگہ سڑکوں کو مزید چوڑا کرنے کے لیے کام کیا جارہا ہے اور سبزہ کے قطعات (گرین بیلٹوں) کو ختم کیا جارہا ہے حالانکہ یہ سڑکیں لاہور اور دوسرے پاکستانی شہروں کی سڑکوں کے مقابلہ میں پہلے ہی خاصی کشادہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گاڑیوں کا ہجوم اتنا بڑھ گیا ہے کہ سڑکوں کو چوڑا کیے بغیر ٹریفک ہموار رکھنا ممکن نہیں۔ شہر کی آبادی چند لاکھ سے بڑھ کر دس لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ جو بات نہیں بتائی جاتی کہ پاکستان کے دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق ہر روز تقریبا ڈھائی لاکھ لوگ راولپنڈی سے اسلام آباد کام پر آتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ نجی ویگنوں اور بسوں میں مرغا بن کر سفر کرتے ہیں۔حکومت کے پاس سڑکوں کو کشادہ کرنے کے لیے کروڑوں روپے ہیں لیکن پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کے لیے پیسے نہیں۔ اسی طرح حکومت کے پاس اربوں روپے سے فوج کے مرکز جی ایچ کیو کی نئی عمارت بنانے کے لیے وسائل ہیں لیکن عام شہریوں کو رہائش فراہم کرنے کے لیے زون چار اور پانچ کی ترقی دینے کے لیے بجٹ نہیں۔ | اسی بارے میں اسلام آباد میں پانی کی شدید قلت03 May, 2006 | پاکستان دنیا کا سب سے بڑا فوجی ہیڈکوارٹر02 December, 2005 | پاکستان اسلام آباد، پنڈی کو زلزلے کا خطرہ 02 March, 2006 | پاکستان اسلام آباد: فوج کے لیئے مزید زمین14 April, 2006 | پاکستان اسلام آباد میں ’صوابدیدی پلاٹ‘27 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||