BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد، پنڈی کو زلزلے کا خطرہ

متاثرین
آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد ’سیسمک سروے‘ کا کام جاری ہے
پاکستان حکومت نے اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کو گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے شدید زلزلے کے بعد کیے گئے تازہ ’سیسمک سروے رپورٹ‘ میں کم خطرے والے علاقوں سے نکال کر قدرِ زیادہ زلزلے کے خطرے والے علاقوں میں شامل کردیا ہے۔

جمعرات کو وزیراعظم شوکت عزیز کی زِیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اس بارے میں وزارت ہاؤسنگ کی جانب سے تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔

کابینہ کے اجلاس کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ نئی درجہ بندی کے بعد دونوں شہروں کو ’زون ٹو، سے نکال کر ’زون تھری‘ میں شامل کیا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ اس کے باوجود بھی دونوں شہروں میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔

البتہ انہوں نے کہا کہ آئندہ نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں اور مکانوں کے لیے سن دوہزار تین میں عالمی سطح پر منظور کیے گئے تعمیراتی قواعد اور ضوابط نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے ملک میں بڑی تباہی پھیلی تھی

ان نئے قوانین کی تفصیلات تو انہوں نے نہیں بتائیں لیکن کہا کہ ان پر عمل درآمد اسلام آباد میں ’کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی‘ یعنی ’سی ڈی اے‘ جبکہ راولپنڈی میں ’راولپنڈی ڈیولپمینٹ اتھارٹی‘ یعنی ’آر ڈی اے‘ کرائے گی۔

وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے شدید زلزلے کے بعد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور صوبہ سرحد میں ابھی ’سیسمک سروے‘ کا کام جاری ہے اور جیسے ہی وہ مکمل ہوگا تو حکومت چاروں صوبوں کے لیے تعمیراتی قواعد و ضوابط نافذ کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں نئے اور عالمی تعمیراتی قواعد کے بارے میں عوام کو مطلع کرنے کے لیے اشتہاری مہم کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں میں سیمینار بھی منعقد کیے جائیں گے۔

وزیر نے بتایا کہ ادھر وفاقی کابینہ نے ملک میں تیل کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ میں ہونے والے اضافے کے بعد نجی تیل کمپنیوں کو ہر پندرہ روز بعد تیل کی نئی قیمتوں کے تعین کے بارے میں دیا گیا اختیار واپس لے کر ’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی‘ کو دیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ا س پر عمل درآمد کب سے ہوگا اور یہ ’اوگرا‘ نامی اتھارٹی کب اور کیسے قیمتوں کا تعین کرے گی۔

زلزلہ اور معاشرہ
زلزلہ کی نسلی اور طبقاتی دراڑیں
امریکی ڈالرچالیس کروڑ ڈالر
زلزلہ زدگان کی بحالی کے لیے عالمی بینک کا قرضہ
ایف ایم ریڈیوزلزلہ اور ذرائع ابلاغ
زلزلہ کوریج میں پاکستانی میڈیا کا ملاجلا کردار
زلزلے سے متاثرہ پچےزلزلہ زدہ علاقے
بچوں کو سردی سے بچانا ایک بڑا چیلینج ہے
متاثرینزلزلہ اور بےحسی
زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا، مسائل کا انبار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد