سنگت ڈائری: ’یہ اسلام آباد ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی سنگت کا میرا سفر شروع تو اسلام آباد سے ہونا تھا مگر شروع ہوا لاہور سے۔ وہ یوں کہ ہمارا جہاز اسلام آباد جاتے جاتے اچانک لاہور کی طرف مڑ گیا۔ میں تو ایک جریدہ پڑھنے میں اتنی محو تھی کہ مجھے اس تبدیلی کا شاید پتہ بھی نہ چلتا اگر میرے ساتھ بیٹھا مسافر اچانک جہاز کے اناؤنسمنٹ سسٹم پر کپتان کی آواز سن کر یہ نہ کہتا کہ ’ آپ نے سنا یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ہم اسلام آباد نہیں لاہور جا رہے ہیں‘۔ کافی دیر تک سمجھ نہ آیا کہ یہ تبدیلی کس کی مرہون منت ہے۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ ضرور جنرل مشرف کہیں جا رہے ہونگے۔ انہیں بہت جگہ چاہیے ہوتی ہے۔ دوسرے صاحب بولے کہ ضرور مولویوں کا کوئی جلوس ہوگا، اور انہوں نے ائیرپورٹ کا راستہ روک رکھا ہوگا۔ لاہور اترنے تک اسی قسم کی باتیں سننے کو ملیں۔ آخرکار کپتان نے اعلان کیا کہ دراصل اسلام آباد میں تیئس مارچ کے جشن کی تیاری کے سلسلے میں ائرپورٹ بند ہے اور گیارہ بجے کھلے گا۔ جہاز رن وے پر اتر چکا تھا اور اس کا اے سی، جو دوران پرواز بھی کم کم ہی کام کر رہا تھا، اب مکمل طور پر بند تھا اور گرمی سے بری حالت۔ میں نے ایک چکر لگا کر دیکھا کہ بہت سے لوگ چھوٹے بچوں کے ساتھ تھے۔ ایک خاتون صبیحہ بی بی نے بتایا کہ انکی منزل تو اسلام آباد سے بھی آگے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ہے جہاں سے انکے بھائی انہیں تین گھنٹے کی ڈرائیونگ کر کے لینے آئے ہونگے اور ان کا انتظار کر رہے ہونگے۔ ایک دوسری خاتون نے جو بول نہیں سکتی تھیں اشاروں سے مجھے بتایا کہ انکی گود میں لیٹی ان کی چھوٹی سے بچی کو سارا راستہ پسینے آتے رہے ہیں۔ بہرحال ہم جہاز سے اتار کر ٹرانزٹ لاؤنج میں بھیج دیے گئے۔ وہاں میں نے شفٹ منیجر احسان رعنا سے بات کی جنہوں نے مجھے بتایا کہ اسلام آباد ائیرپورٹ تو دو ہفتے سے روز ہی اس وقت بند ہوتا ہے لیکن چونکہ ہمارا جہاز لندن سے دیر سے چلا تھا اس لیے ہم ایسے وقت پہنچے کہ ہمارے جہاز کا رخ بدلنا پڑا۔ چنانچہ وہ جہاز جسے صبح ساڑھے آٹھ بجے اسلام آباد پہنچنا تھا دن میں بارہ بجے کے بعد وہاں پہنچا۔ مزید دو گھنٹے امیگریشن کی لائنوں اور سامان لینے میں لگ گئے اور بالآخر ڈھائی بجے کے بعد میں ائرپورٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی مگر مجھ سے کہیں زیادہ پریشان حال وہ لوگ تھے جو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ یہ بتانے والا کوئی نہ ملا کہ آخر جہاز لندن سے دیر سے کیوں چلا تھا۔ جبکہ پی آئی اے والوں کو علم تھا کہ اسلام آباد ائرپورٹ ایک خاص وقت کے دوران بند ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||