BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 18:29 GMT 23:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد کی سڑکیں نئی پولیس کے حوالے

ٹریفک
نئی پولیس کے ہاتھوں چلان ہونے والوں میں بڑے نام بھی شامل ہیں
یکم جنوری دو ہزار چھ کو اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی اور بے ہنگم ٹریفک کو منظم طور پر چلانے کے لیے اس شہر کی ٹریفک کا نظام موٹر وے پولیس کی طرز پر بننے والی ایک نئی پولیس فورس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق یکم جنوری دو ہزار چھ سے دس فروری تک اسلام آباد کی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے والوں اور پیدل چلنے والوں میں آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

لیکن دس فروری کے بعد سے اب تک ٹریفک پولیس کے مطابق ایک لاکھ سے زائد چلان کیئے گئے ہیں جن میں اعلی افسران اور وزراء کے چلان بھی شامل ہیں اور ان چلانوں کی وجہ سے دو کروڈ تیس لاکھ روپوں سے زائد جرمانہ بھی وصول کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے سنئیر سپرٹینڈینٹ پولیس سلطان اعظم تیموری کے مطابق سب سے زیادہ چلان ٹریفک کے اشاروں کو توڑنے اور تیز رفتاری کی وجہ سے کیئے گئے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان چلانوں کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔

سلطان اعظم تیموری کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسلام آباد میں پہلی مرتبہ سفارت کاروں کے بھی چلان کیئے گئے ہیں۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس سے حاصل ہونے والے اعداد شمار کے مطابق اسلام آباد میں دو لاکھ تیس ہزار گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور ہر روز دو سو گاڑیاں مزید انداراج کے لیے آرہی ہیں۔ اور ٹریفک پولیس کی جانب کیئے جانے والے ایک حالیہ سروے کے مطابق اسلام آباد میں روزانہ دوسرے شہروں سے آنے والی گاڑیوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار ہے اور اتنی ہی گاڑیاں روزانہ اسلام آباد سے باہر بھی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ دن بد دن بڑھ ہے۔

ٹریفک ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام میں موجودہ سڑکوں میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ مصروف اوقات میں جن میں صبح اور سکول سے چھٹی کے اوقات خاص طور پر شامل ہیں ٹریفک کے دباؤ کو برداشت کر سکیں اس لیے موجودہ سڑکوں کو چوڑا کرنے کےعلاوہ انڈر اور بائی پاس بھی بنانے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کی ایک اور خاص بات پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ عملے کے ساتھ پہلی مرتبہ خواتین کا بھی اس فورس میں شامل کیا جانا ہے جس سے پورے ماحول پر اثر پڑا ہے۔

پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ عملے کے علاوہ اسلام آباد ٹریفک پولیس کو ٹریفک کا نظام بہتر بنانے کے لیے جدید سہولیات بھی دی گئی ہیں جن میں گاڑیوں کی رفتار جانچنے والی جدید لیزر کیمرے بھی شامل ہیں۔

ان کیمروں کے انچارج انسپکٹر عدیل شکور کے مطابق اس وقت اُن کے پاس بیالیس کیمرے ہیں اور ان کیمروں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی مدد سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر گاڑی کی رفتار کو جانچا جا سکتا ہے۔

لیکن عدیل شکور کا کہنا تھا کہ اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے اور اگر اُن کے پاس رات کو رفتار جانچنے والے کیمروں کی سہولت ہو تو وہ رات کو بھی گاڑیوں کی رفتار کنٹرول کر سکیں گے جس کی وجہ سے حادثات میں مزید کمی آئے گی۔

ٹریفک کے اس نئے نظام کے انچارج سلطان اعظم تیموری کے مطابق ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود گزشتہ دو ماہ کے دوران اسلام آباد میں پیش آنے والے مہلک اور جان لیوا حادثات میں پچاس فصید کمی آئی ہے، اور عام چھوٹے حادثات میں بھی تیس سے پینتیس فیصد تک کمی آئی ہے۔

اسلام آباد میں ٹریفک کے اس نئے نظام کی کامیابی پر پورے ملک کی ٹریفک کا دارومداد ہوگا اگر موجودہ پولیس اسلام آباد میں اعلی افسران اور اُن کے بچوں کو ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کرانے میں کامیاب ہو گئی تو یہ سلسلہ ملک کے دوسرے حصوں تک بھی جائےگا۔

لیکن اگر یہ نظام پولیس کے پاس موجود تمام تر وسائل کے باوجود ناکام ہوا تو ملک کے باقی حصوں میں تو ٹریفک کو درست کرنے کا خواب ہمیشہ کے لیے ایک خواب ہی بن کر رہ جائے گا۔

اسی بارے میں
صفدر سرکی کہاں ہیں؟
23 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد