BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 November, 2007, 22:08 GMT 03:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایجنسیوں کے لیے’ قانونی کور‘:عاصمہ

عاصمہ جہانگیر (فائل فوٹو)
پرانی عداوتیں نبھانے کے لیے اس قانون کو سنہ دو ہزار تین سے نافذ کیا گیا ہے
ہیومن رائٹس آف پاکستان کی نظر بند سربراہ اور حقوق انسانی کی کارکن عاصمہ جہانگیر نے حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم ان قوانین کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے جو عدالتی نظر ثانی کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی منفی خصلتیں کھو چکے تھے۔

نظربندی کے دوران بی بی سی کو فیکس کیئے گئے ایک تازہ بیان میں عاصمہ جہانگیر نے مشرف حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم پر کڑی تنقید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم سے فوجی عدالتوں کو وسیع اختیارات میسر آ جائیں گے اور وہ عام شہریوں کا بھی کورٹ مارشل کر سکیں گی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترامیم حقوق انسانی اور آئین کے منافی ہیں کیونکہ اس قانون کے تحت سماعت بند کمروں میں ہوگی، تحقیقات فوجی کریں گے اور شواہد کے عام قواعد موثر نہیں ہوں گے۔

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ وکلاء، حقوق انسانی کے کارکنوں اور صحافیوں کے ساتھ اپنی پرانی عداوتیں نبھانے کے لیے اس قانون کو سنہ دو ہزار تین سے نافذ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے حکومت غیرقانونی طور پر خفیہ ایجنیسوں کے ہاتھوں لاپتہ افراد کی گمشدگی کو قانونی کور مہیا کیا جائے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ایچ آر سی پی نے بھی ایسے تقریباً دو سو لاپتہ افراد کی جانب سے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست جمع کرائی تھی جن میں سے سو کو رہائی نصیب ہوئی۔ عاصمہ جہانگیر نے الزام لگایا کہ اس ترمیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی نہیں بلکہ مارشل لاء نافذ کیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم کے اس ترمیم کے دفاع میں بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر برطانیہ اور امریکہ میں اسی قسم کے قوانین موجود ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں کے غلط قوانین یہاں بھی ہونے چاہیئیں تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ممالک میں عدلیہ کم از کم آزاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک میں فوجی عدالتیں اپنے شہریوں کے خلاف مقدمات نہیں سنتیں اور وہاں صحافیوں، وکلاء اور کارکنوں کے خلاف بغاوت یا دہشت گردی کے مقدمات درج نہیں کیے جاتے جبکہ پاکستان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے کئی وکلا کے خلاف یہ مقدمات درج کیے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا موقف تھا کہ یہ بات ترمیم سے حکومت کے پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ان کا آخر میں سوال تھا کہ آخر کب تک مشرف حکومت دہشتگردی کے کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی برادری کے دباؤ کا مقابلہ کر سکیں گے۔

اسی بارے میں
حکومت کی ’دوغلی‘ پالیسی
05 November, 2007 | پاکستان
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد