BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرمعینہ حراست ایکٹ سے لاعلمی

اٹارنی جنرل ملک قیوم
عدالت میں کوئی مسئلہ ہو تو تب مجھ سے پوچھیں:اٹارنی جنرل
اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں کسی ایسی ترمیم سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جس کے تحت خفیہ اداروں کو کسی بھی مشتبہ شخص کو عدالت میں پیش کیے بغیر غیرمعینہ مدت کے لیے حراست میں رکھنے کا اختیار ہوگا۔

سپریم کورٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہوں نے ایسا کوئی نیا قانون نہیں دیکھا ہے۔ ’میں آپ کو ایک چیز بتا دوں، قانون بنانا میرا کام نہیں ہے۔ کوئی قانون جب بن جاتا ہے یا حکومت کو عدالت میں کوئی مسئلہ ہو تو تب مجھ سے پوچھیں۔‘

انہوں نے اس خبر کی تصدیق کے لیے وزارت قانون سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ تاہم وفاقی وزیر اور سیکرٹری قانون سے رابطے کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔

البتہ حقوق انسانی کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے اس خبر کی تصدیق یا تردید کیے بغیر حکومت پاکستان کی جانب سے خفیہ اداروں کو کسی بھی مشتبہ شخص کو عدالت میں پیش کیے بغیر غیرمعینہ مدت کے لیے حراست میں رکھنے کے قانون میں متوقع ترمیم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک میں انتشار پھیلے گا اور عوام براہ راست متاثر ہوں گے۔

سنہ انیس سو چوراسی سے ہانگ کانگ میں قائم ’ایشین ہیومن رائٹس کمیشن‘ نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کو اس ’غیرقانونی، غیرجمہوری اور غیرآئینی اقدام سے روکیں۔‘

تنظیم نے پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات منعقد کروا کر اقتدار جلد از جلد منتخب نمائندوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ایک آرڈیننس کے ذریعے یہ ترامیم بہت جلد متعارف کروا دی جائیں گی جس کے تحت بم دھماکوں، اغوا، اسلحہ لے کر چلنے اور قتل کے واقعات میں مشتبہ افراد کو حراست میں رکھا جاسکے گا۔

یہ ترمیم ایک ایسے وقت متعارف کروائی جا رہی ہے جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری خود لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں۔

اے ایچ آر سی کے مطابق سن دو ہزار ایک سے تقریبا پانچ ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران واضع ہوا ہے کہ بیشتر لاپتہ افراد عسکری خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں اور سب کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

حقوق انسانی کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر خفیہ ایجنسیوں کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا گیا تو کوئی بھی شہری ان سے محفوظ نہیں رہے گا اور پاکستان فوجی ریاست بن جائے گا۔

لاپتہ افرادامید سپریم کورٹ سے
لاپتہ رہنماؤں کے عزیز عدالت سے پرامید ہیں
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
بھوک ہڑتالی کیمپ’لاپتہ کی تلاش‘
گمشدہ بلوچوں کی بازیابی کےلیے بھوک ہڑتال
لاپتہ افرادگمشدہ افراد واپس
سرحد میں آٹھ افراد رہا ہوئے: انسانی کمیشن
’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔لاپتہ ’آزاد‘ کشمیری
’چار ماہ سے ابو کی شکل نہیں دیکھی‘
مقدمہ بنام سرکار
’حکومت لاپتہ افراد کے ورثاء کو معاوضہ دے‘
’لاپتہ جہادی‘
ضلع دیر کے درجنوں ’مجاہد‘ لاپتہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد