لاپتہ رہنماء اورگیارہ اکتوبر کا انتظار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےصوبہ سندھ سے لاپتہ قوم پرست رہنماؤں کے رشتہ داروں کو سپریم کورٹ میں جاری لاپتہ افراد کے مقدمات کی اگلی سماعت کا شدت سے انتظار ہے۔ انہیں امید ہے کہ گیارہ اکتوبر کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم عدالتی بینچ لاپتہ افراد کو سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کچھ سندھی قوم پرست رہنماء، بشمول امریکی شہری ڈاکٹر صفدر سرکی اور آصف بالادی، گزشتہ ڈیڑھ دو برس سے لاپتہ ہیں۔ان میں پاکستان ہندوستان سرحد کے قریبی علاقے عمرکوٹ کے دو ہندو، جی ایم بھگت اور چیتن بجیر، بھی شامل ہیں جنہیں ان کے رشتہ داروں کے بقول خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے دوبارہ گرفتار کر کے غائب کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لاپتہ افراد کے مقدمےمیں پانچ اکتوبر کی سماعت کےدوران وفاقی سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو ایک گھنٹے کے نوٹس پر عدالت میں طلب کیا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ عدالت کے پاس اس بات کے گواہ موجود ہیں کہ لاپتہ افراد خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں لہذا لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا جائے ورنہ خفیہ ایجنسیوں کے باوردی سربراہان کو عدالت میں جرح کے لیے طلب کیا جائے گا۔ اس عدالتی کارروائی کے بعد سندھ پولیس کے حکام نے لاپتہ قوم پرست رہنماؤں کے عزیزوں سے رابطہ کیا ہے اور ان کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔ جی ایم بھگت کے بیٹے اوم پرکاش اور چیتن بجیر کے بھائی کھیم چند کو پیر کے روز عمرکوٹ کے ضلعی پولیس افسر نے اپنے دفتر طلب کیا اور ان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
ادھر سندھ پولیس کے ایک سینئر افسر نے کراچی میں آصف بالادی کے بیٹے جبران بالادی اور ان کے کزن نور بالادی سے بھی ملاقات کی اور انکے بیانات قلمبند کیے۔ نور بالادی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس افسران تصدیق کر رہے تھے کہ آصف بالادی کو پولیس نے توگرفتار نہیں کیا۔ نور بالادی کا کہنا تھا کہ حیدرآباد پولیس کے ایک افسر مشتاق چنا اتوار کو ضلع نوشہروفیروز میں ان کے آبائی گاؤں کنڈیارو گئے اور انہوں نے آصف کے رشتہ داروں کو پیر کےدن حیدرآباد کی ضلعی عدالت آنے اور آصف سے ملاقات کرنے کو کہا مگر بعد میں حیدرآباد پہنچ کر مذکورہ افسر اپنی بات سے مُکر گئے۔ نور بالادی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں کی سرد مہری کے بعد پولیس کے سرگرم ہونے اور انہیں خود آ کر مطلع کرنے اور عدالتی ریمارکس کے بعد وہ پرامید ہیں کہ گیارہ اکتوبر کو آصف کا پتہ لگ جائے گا۔ اس طرح امریکی شہری اور جیئے سندھ قومی محاذ نامی قوم پرست جماعت کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صفدر سرکی کے رشتہ دار بھی گیارہ اکتوبر سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ صفدر سرکی کی پاکستان میں مقیم بہن عابدہ پروین نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عدالتی ریمارکس کے بعد بہت پرامید ہیں اور بقول ان کے خدا نے چاہا تو انہیں صفدر کےبارے کوئی خوشخبری ضرور ملے گی۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ڈھائی برس کے عرصے میں سندھ سے پندرہ کے قریب قوم پرست رہنماء اور کارکنان لاپتہ ہوگئے جن میں سے اکثر کی بعد میں تخریب کاری کے مختلف مقدمات میں مقامی پولیس کے ذریعےگرفتاری ظاہر کی گئی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ چار قوم پرست رہنماؤں کا ابھی تک کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔
ضلع عمر کوٹ کے جی ایم بھگت یا گووردہن مولچند بھگت نو ستمبر دو ہزار چھ سے لاپتہ ہیں۔وہ لاپتہ کیسے ہوئے؟ اس سوال کا جواب ان کے بیٹے راجہ ڈاہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یوں دیا کہ ’صبح دس بجے کے قریب وہ اپنےدوست کرشن حجام کی دکان پر اخبار پڑھ رہے تھے کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی گاڑی آگئی۔ دو شخص گاڑی میں سے اترے اور بھگت کو کہا صاحب بلا رہے ہیں۔اس دن کے بعد سے میرے ابّو لاپتہ ہیں۔‘ پچاس سالہ جی ایم جنہیں ہندو مذہبی تعلیمات پر عبور ہونے کی وجہ سےلوگ بھگت کہتے ہیں، قوم پرست سیاست سےکنارہ کش ہوچکے تھے اور گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے بیٹے کے بقول ان کا زیادہ تر وقت تاریخی وید اور گرو رجنیش کی کتابیں پڑھنےمیں وقت گزرتا تھا۔ راجہ ڈاہر کے مطابق خفیہ ایجنسی کے اہلکار ان کے والد کو پہلے بھی گرفتار کر کے لے گئے تھے اور تین ماہ بعد جب وہ واپس گھر پہنچے تو ان کے بدن پر شدید تشدد کے نشانات تھے۔ ڈاہر کےمطابق گزشتہ تشدد کے زخم ابھی ان کے بدن پر تازہ تھے اور وہ ان پر روزانہ مرہم رکھا کرتے تھے کہ ایجنسیوں والے انہیں دوبارہ اٹھا کر لےگئے ہیں۔ جی ایم بھگت شادی شدہ ہیں اور تین بیٹوں کے والد تھے۔ وہ اپنے بڑے بیٹے گوری شنکر کی موت کے سوگ میں تھے کہ گرفتار ہوگئے۔ پینتالیس سالہ چیتن بجیر کے بھائی کھیم چندنے بی بی سی کو بتایا کہ چیتن بارہ جولائی دو ہزار چھ کو اپنےگھر بیٹھے اپنے بیٹے سریش سے باتیں کر رہے تھے کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے انہیں گرفتار کرلیا۔ کھیم چند کےمطابق وہ ایف آئی آر درج کرانے عمر کوٹ تھانےگئے مگر پولیس افسر لیاقت درس نے جواب دیا کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے خلاف کو ئی پرچہ درج نہیں کیا جائے گا۔
چیتن بجیر ماضی میں جیئے سندھ کے سرگرم کارکن رہے ہیں مگر انہوں نے اپنی پانچ سال قبل گرفتاری کے بعد سیاسی سرگرمیاں ترک کردی تھیں۔ چیتن کے بھائی کھیم چند کے مطابق گزشتہ گرفتاری کے دوران چیتن کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے انہیں گردوں کی تکلیف ہوگئی تھی۔ بقول انکے بھائی کے چیتن کے پاؤں زخمی تھے اور وہ زیر علاج تھے کہ انہیں دوبارہ خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لےگئے۔ کھیم چند کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں خفیہ ایجنسیاں دوسرے تمام اداروں سے زیادہ طاقتور ہیں لہذا انہیں گیارہ اکتوبر کی سماعت سے کوئی خاص امید وابستہ نہیں۔ سندھ نیشنلسلٹ فورم نامی تنظیم کے بانی چالیس سالہ آصف بالادی کوچھبیس جون دو ہزار چھ کو کراچی سے بقول ان کے بیٹے خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔آصف کے بیٹے جبران بالادی کی فون پر اانکے والد سے بات کروائی گئی ہے جس میں انہیں جلسے جلوس کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ چالیس سالہ آصف کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور ان کے کزن نور بالادی کے مطابق انہیں عدالتوں سے ایک نئی امید بندھی ہے۔ |
اسی بارے میں سراسیمگی نہ پھیلائیں: عدالت27 September, 2007 | پاکستان منیر مینگل پھر ’غائب‘ کر دیے گئے12 September, 2007 | پاکستان آنکھ مچولی بند کریں: سپریم کورٹ 04 September, 2007 | پاکستان لاپتہ: حافظ باسط، علیم ناصرکی رہائی21 August, 2007 | پاکستان بندہ پیش کریں ورنہ جیل جائیں:چیف جسٹس20 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||