لاپتہ: حافظ باسط، علیم ناصرکی رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی زیر حراست فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے شخص حافظ عبدالباسط کو سپریم کورٹ کے حکم پر اُن کے ماموں حافظ عبدالناصر کے حوالے کر دیا۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ حافظ عبدالباسط کو منگل کی رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اُن کے رشتہ داروں کے حوالے کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حافظ عبدالباسط کو سنہ دو ہزار چار میں صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے پشاور قدیر بھٹی مزکورہ شخص کو پشاور سے لے کر اسلام آباد آئے تھے جہاں پر اسے اس کے ورثاء کے حوالے کر دیا۔ اس سے پہلے لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے لاپتہ حافظ عبدالباسط کی بازیابی کی تصدیق اور علیم ناصر کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد ان دونوں افراد کی رہائی کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ نے دیا۔سپریم کورٹ نے جاسوسی کے الزام میں زیر حراست عمران منیر کو فوج کی تحویل سے لے کر ہسپتال داخل کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے حافظ عبدالباسط کو منگل کو عدالت میں پیش کیے جانے کی مہلت کے خاتمے پر اٹارنی جنرل ملک قیوم عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور بتایا کہ حافظ عبدالباسط کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ کی تحویل میں ہیں اور انہیں منگل کی رات آٹھ بجے تک اسلام آباد لایا جا سکےگا۔
اس پر فاضل عدالت نے حکم دیا کہ حافظ عبدالباسط کو ہر صورت میں آٹھ بجے تک اسلام آباد لایا جائے اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے دفتر میں ان کے وکیل کے سامنے ماموں حافظ عبدالناصر کے حوالے کر دیا جائے۔عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو حکم دیا کہ حافظ عبدالباسط کو ان کے ماموں کے حوالے کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو اس بارے میں آگاہ کریں۔ حافظ عبدالباسط کے بارے میں فیصل آباد پولیس کا موقف تھا کہ انہوں نے عبدالباسط کو پنڈی بھٹیاں موٹر وے انٹرچینج پر ملٹری انٹیلیجنس کے کیپٹن عامر نامی شخص کے حوالے کر دیا تھا جبکہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف نام سے کسی بھی فوجی افسر کو ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران پیش کیے جانے والے لاپتہ شخص علیم ناصر کو بھی رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ علیم کی گرفتاری کے وقت ان سے قبضے میں لیے جانے والے قیمتی پتھر اور ان کے شناختی کاغذات اور سفری دستاویز بھی علیم ناصر کے حوالے کی جائیں۔
پیر کو سماعت کے دوران عدالت نےفوج کی حراست میں موجود عمران منیر کو بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا تھا جس پر انہیں منگل کی صبح عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کے آئی جی کو حکم دیا کہ وہ عمران منیر کو اپنی تحویل میں لے لیں اور انہیں پندرہ روز کے لیے اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پمز میں داخل کرا دیں۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ اس دوران عمران منیر کے والدین اور وکیل کے علاوہ کسی کو ان سے ملنے نے دیا جائے۔ عدالت نے آئی جی کو کہا ’ہم عمران مینر کو ذاتی طور پر آپ کے حوالے کر رہے ہیں اور آپ نے انہیں کسی ایجنسی کے حوالے نہیں کرنا اور نہ ہی ایجنسی کے کسی اہلکار کو ان سے ملنے دینا ہے۔‘ عمران منیر کے عدالت کو بتایا کہ انہیں کل گیارہ بجے اسلام آباد لایا گیا تھا اور انہیں اڈیالہ جیل کی بجائے ایف آئی یو میں رکھا گیا تھا۔اس پر عدالت نے نیشنل کرائسس مینیجمنٹ سیل کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ کو حکم دیا کہ وہ وزارت دفاع میں اس شخص کی نشاندہی کریں جس نے عدالت کی حکم عدولی کی اور اسے گمراہ کیا۔ عمران منیر نے بتایا کہ اسے سترہ تاریخ کو اڈیالہ جیل سے منگلا لے جایا گیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ منگل کو جب اُنہیں سپریم کورٹ لے جایا جا رہا تھا تو ان کا چہرہ کپڑے سے ڈھانپا گیا تھا اور سپریم کورٹ کے گیٹ کے سامنے ان کے چہرے سے کپڑا اُتار کر انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ عمران منیر ایک پاکستانی نژاد ملائشین شہری ہیں اور جون میں لاپتہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو حکام نے بتایا تھا کہ انہیں فوجی عدالت کی جانب سے جاسوسی کے جرم میں آٹھ برس قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں قید ہیں۔تاہم عمران کے والد اور وکلاء کا موقف ہے کہ یہ سزا عمران کو جاسوسی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک فوجی افسر کی رشتہ دار خاتون سے محبت کرنے کی پاداش میں ملی ہے۔ |
اسی بارے میں ’مغلیہ دور نہیں جس کوچاہا اٹھالیا‘04 July, 2007 | پاکستان حکومتی اہلکاروں سے جواب طلبی25 June, 2007 | پاکستان لاپتہ:’فوج قانون سے بالاتر نہیں‘ 20 June, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: سماعت جاری رہے گی06 June, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی04 May, 2007 | پاکستان مزید ’لاپتہ‘ واپس، مقدمہ چلتا رہے گا25 May, 2007 | پاکستان ’القاعدہ کے کمپیوٹر ماہر‘ کہاں ہیں؟08 December, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||