BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 July, 2007, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مغلیہ دور نہیں جس کوچاہا اٹھالیا‘

لاپتہ افراد کے لواحقین سپریم کورٹ کی ہر پیشی پر مظاہرہ کرتے رہے ہیں
سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمہ کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عدالت لوگوں کو غائب کرنے کی ذمہ داری کا تعین ضرور کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ آئندہ پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ صرف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکار ہی محب وطن نہیں بلکہ دوسرے لوگ شاید ان سے بھی زیادہ محب وطن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ عالمی اہمیت حاصل کر چکا ہے اور عدالت اسے وقت تک ختم نہیں سمجھے گی جب تک تمام لوگ رہا نہیں ہو جاتے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ امریکہ ، اسرائیل اور برطانیہ میں انٹیلجنس ایجنسیوں کی تمام کارروائیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر سے ہیں کہ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو رہا۔’اب مغلیہ دور نہیں ہے کہ جس کو چاہیں گرفتار کر لیں۔‘

جسٹس جاوید اقبال نے ایک لاپتہ نوجوان فیصل فراز کی ماں کی فریاد سننے کے بعد کہا کہ جب وہ اس ماں کو فریاد کرتے دیکھتے ہیں تو ان کو اپنی بے مائیگی کا احساس ہوتا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ وہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کروا لیا جائے گا۔

 ماؤں کو اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کن لوگوں کے ساتھ ان کے مراسم ہیں۔

ایک اور لاپتہ اٹھارہ سالہ لاپتہ رضوان یوسف کی ماں کی فریاد سننے کے بعد جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ماؤں کو اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور ان کے مراسم کن لوگوں کے ساتھ ہیں۔

کئی برس سے لاپتہ فیصل آباد کے حافظ عبدالباسط کے بارے میں پولیس نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنے اعلی افسران کے کہنے پر پنڈی بھٹیاں کے مقام پر انہیں ملٹری انٹیلیجنس کے افسر کیپٹن عامر کے حوالے کیا تھا۔

پولیس اہلکار نے عدالت کے استفسار پر کہ حافظ عبد الباسط کو کیوں گرفتار کیا تھا، بتایا کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف پر حملہ کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے تھے۔اس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ’کیا سارے ملک کے حافظ صدر جنرل مشرف پر حملے میں ملوث ہیں۔‘ بینچ کے دوسرے رکن جسٹس فلک شیر نے کہا کہ اگر وہ حملے میں ملوث ہے تو اس پر اتنے عرصے سے مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا جس طر ح کئی لوگوں پر مقدمہ چلا کر سزا بھی دی جا چکی ہے۔

کمرہ عدالت میں حکومت کے نمائندے نے تردید کی کہ حافظ عبد الباسط حکومت کی تحویل میں ہیں ۔اس پر عدالت نے کہا کہ حافظ عبد الباسط کے انٹیلجنس ایجنسیوں کے حوالے کیے جانے کی عدالت کے پاس اتنی زیادہ شہادتیں ہیں کہ وہ حکومت کے اعلی اہلکار کو عدالت میں طلب کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

عدالت نے وزارت داخلہ میں قائم کیے جانے والے کرائیسس مینجمنٹ کے نمائندے کرنل جاوید اقبال لودھی کی طرف سے مکمل جواب نہ ملنے کی وجہ سے حکم جاری کیا کہ آئندہ لاپتہ افراد کے مقدمے کے سماعت کے موقع پر برگیڈیئر کے عہدے کا اہلکار عدالت میں موجود ہونا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ کو عدالت میں طلب کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ انہی کے احکامات پرحافظ عبدالباسط کو ملٹری انٹیلیجنس کے حوالے کیا گیا تھا۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ تمام لاپتہ افراد ایجنسیوں کے قبضہ میں نہیں ہیں اور کئی بلوچ جن کے لواحقین ایجنسیوں پر الزام لگاتے تھے بعد میں وہ افغانستان کی جیلوں سے بازیاب ہوئے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ بگٹی قبیلے کے لاپتہ دو نواجونوں شازین بگٹی اور مست علی کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ بگٹی ہاؤس میں پہنچ چکے ہیں۔

عدالت نے ایک موقع پر کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے دور میں تو کچھ کرتی نہیں لیکن بعد میں شور مچانا شروع کر دیتی ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر اور ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری جنرل اور پیپلز پارٹی کے رہمنا سید اقبال حیدر سے پوچھا کہ آئی ایس آئی کا پولیٹکل سیل کب بنا اور اس کو کس نے قائم کیا تھا۔

سینٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ایک انتظامی حکم کے ذریعے آئی ایس آئی کا پولیٹکل سیل 1974 میں پیلز پارٹی کے دور میں قائم ہوا تھا۔ جسٹس فلک شیر نے کہا کہ پہلے آپ ’ان‘ کو تھوڑا سا کردار دیتے ہیں لیکن بعد میں وہ خود اپنے کردار کو وسیع کر لیتے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نےبتایا کہ چھ مزید لوگوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

لاپتہ افراد کے لواحقین
لواحقین کی جدوجہد
اگلا مظاہرہ لاہور میں
لاپتہ افراد کے لیے مظاہروں کا نیا سلسلہ
لاپتہ افرادگمشدہ افراد واپس
سرحد میں آٹھ افراد رہا ہوئے: انسانی کمیشن
واحد کمبر کی بیٹی ایک بیٹی کی فریاد
’مجھے میرے والد کے بارے میں بتایا جائے‘
خالد خواجہخالد خواجہ ’برآمد‘
انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن پولیس تحویل میں
مزید تین لاپتہ
اٹامک انرجی کے عتیق اور دو موٹر مکینک
حراست: انوکھاجواز
’حراست وزیراعظم کے ایما پر بتائی گئی‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد