BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 June, 2007, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حراست وزیراعظم کے ایما پر ہے‘

خالد خواجہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
خالد خواجہ نے اپنی گرفتاری کو فوج اور ایجنسیوں کے خلاف سازش قرار دیا
لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک چلاتے ہوئے حراست میں لیے جانے والے ’ڈیفنس آف ہیومن رائٹس‘ تنظیم کے چیف کوآرڈینیٹر خالد خواجہ نے رہائی کے بعد کہا ہے کہ یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ انہیں وزیراعظم شوکت عزیز کی ایماء پر زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔

پانچ ماہ مختلف الزامات میں زیر حراست رہنے کے بعد رہائی ملنے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد خواجہ نے کہا کہ انہیں غیر قانونی طور پر اغواء کیا گیا تھا لیکن دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو فوری اطلاع ملنے کے باعث حکومت نے مجبوراً انہیں عدالت میں پیش کر کے ایسے جرم میں گرفتار کیا جو ایسے وقت ہوا تھا جب وہ سرکار کی تحویل میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ ماہ کی حراست کے دوران ہی ان پر پانچ مختلف مقدمات بنائے گئے جو سب کے سب بے بنیاد تھے اور ان کے خلاف حکومت ثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکی اور اسی بناء پر ہی ان کی ضمانت ممکن ہوئی۔

خالد خواجہ نے کہا کہ اس دوران انہیں ملک کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا لیکن نہ تو ان سے کسی نے تفتیش کی اور نہ ہی ان پر تشدد کیا گیا۔

خالد خواجہ، جو ایجنسیوں اور بعض دیگر اداروں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کی بناء پر جانے جاتے ہیں، اس پریس کانفرنس میں خاصے محتاط نظر آئے۔

’قربانی کا بکرا‘
 فوج اور ایجنسیوں کو بدنام نہیں کرنا چاہتا لیکن ایسے لوگ جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے لوگوں کو اغواء کرواتے ہیں وہ ملک کے دشمن ہیں۔ یہی لوگ مختلف اداروں اور افراد کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں
خواجہ خالد

ایک صحافی نے جب ان سے پوچھا کہ کیا انہیں انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اغواء کیا تھا تو خالد خواجہ کا کہنا تھا کہ انہیں سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے گھر کے باہر سے اٹھایا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس سے تعلق رکھتے ہیں۔

خالد خواجہ نے اپنی گرفتاری کو فوج اور ایجنسیوں کے خلاف بھی سازش قرار دیا۔ خالد خواجہ نے کہا کہ وہ فوج اور ایجنسیوں کو بدنام نہیں کرنا چاہتے
’لیکن ایسے لوگ جو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر تے ہوئے لوگوں کو اغواء کرواتے ہیں وہ ملک کے دشمن ہیں۔ یہی لوگ مختلف اداروں اور افراد کو قربانی کا بکرا بناتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا کہ مجھے ایجنسیوں کے کہنے پر اٹھایا گیا ہے کبھی کہا جاتا کہ صدر پرویز مشرف مجھ سے ناراض ہیں اور پچھلے ڈیڑھ ماہ سے وزیراعظم کا نام لیا جا رہا ہے۔‘

خالد خواجہ کے مطابق فیصل آباد میں انہیں ایک ایسی جیل میں رکھا گیا جسے امریکی حکومت نے تعمیر کروایا ہے اور یہ پاکستانی گوانتانامو بے کے
طور پر استعمال ہو رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خالد خواجہ نے کہا کہ وہ دوبارہ گرفتاری کے خوف سے خاموش ہو کر نہیں بیٹھیں گے اور لاپتہ افراد کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی گرفتاری اور اس دوران ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ملک میں پُراسرار طور پر لاپتہ سینکڑوں افراد کی بازیابی کی کوئی صورت نکل سکے۔

خالد خواجہخالد خواجہ ’برآمد‘
انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن پولیس تحویل میں
لاپتہ ہونے والے (فائل فوٹو)کچھ علاج اس کا بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
لاپتہ افرادگمشدہ افراد واپس
سرحد میں آٹھ افراد رہا ہوئے: انسانی کمیشن
اسی بارے میں
لاپتہ صحافی کی گھر واپسی
21 June, 2007 | پاکستان
عمر رسیدہ بزرگ بھی لاپتہ
20 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد