’حراست وزیراعظم کے ایما پر ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاپتہ افراد کی بازیابی کی تحریک چلاتے ہوئے حراست میں لیے جانے والے ’ڈیفنس آف ہیومن رائٹس‘ تنظیم کے چیف کوآرڈینیٹر خالد خواجہ نے رہائی کے بعد کہا ہے کہ یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ انہیں وزیراعظم شوکت عزیز کی ایماء پر زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔ پانچ ماہ مختلف الزامات میں زیر حراست رہنے کے بعد رہائی ملنے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد خواجہ نے کہا کہ انہیں غیر قانونی طور پر اغواء کیا گیا تھا لیکن دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو فوری اطلاع ملنے کے باعث حکومت نے مجبوراً انہیں عدالت میں پیش کر کے ایسے جرم میں گرفتار کیا جو ایسے وقت ہوا تھا جب وہ سرکار کی تحویل میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ماہ کی حراست کے دوران ہی ان پر پانچ مختلف مقدمات بنائے گئے جو سب کے سب بے بنیاد تھے اور ان کے خلاف حکومت ثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکی اور اسی بناء پر ہی ان کی ضمانت ممکن ہوئی۔ خالد خواجہ نے کہا کہ اس دوران انہیں ملک کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا لیکن نہ تو ان سے کسی نے تفتیش کی اور نہ ہی ان پر تشدد کیا گیا۔ خالد خواجہ، جو ایجنسیوں اور بعض دیگر اداروں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے کی بناء پر جانے جاتے ہیں، اس پریس کانفرنس میں خاصے محتاط نظر آئے۔
ایک صحافی نے جب ان سے پوچھا کہ کیا انہیں انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اغواء کیا تھا تو خالد خواجہ کا کہنا تھا کہ انہیں سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے گھر کے باہر سے اٹھایا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس سے تعلق رکھتے ہیں۔ خالد خواجہ نے اپنی گرفتاری کو فوج اور ایجنسیوں کے خلاف بھی سازش قرار دیا۔ خالد خواجہ نے کہا کہ وہ فوج اور ایجنسیوں کو بدنام نہیں کرنا چاہتے خالد خواجہ کے مطابق فیصل آباد میں انہیں ایک ایسی جیل میں رکھا گیا جسے امریکی حکومت نے تعمیر کروایا ہے اور یہ پاکستانی گوانتانامو بے کے ایک سوال کے جواب میں خالد خواجہ نے کہا کہ وہ دوبارہ گرفتاری کے خوف سے خاموش ہو کر نہیں بیٹھیں گے اور لاپتہ افراد کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی گرفتاری اور اس دوران ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ملک میں پُراسرار طور پر لاپتہ سینکڑوں افراد کی بازیابی کی کوئی صورت نکل سکے۔ |
اسی بارے میں لاپتہ صحافی کی گھر واپسی21 June, 2007 | پاکستان عمر رسیدہ بزرگ بھی لاپتہ20 June, 2007 | پاکستان لاپتہ انجینیئر کی رہائی کا فیصلہ20 June, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ایک صحافی لاپتہ 17 June, 2007 | پاکستان سندھ پولیس کے سابق سربراہ لاپتہ06 June, 2007 | پاکستان لاپتہ، اغواء اور پُراسرار گمشدگی؟05 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||