عمر رسیدہ بزرگ بھی لاپتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں آج مری قبیلے کی خواتین اور بچوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کراچی سے دو بزرگ افراد کو حفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں جن کے بارے میں اب تک کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس طرح اٹھائے گئے افراد کے حوالے سے مظاہرے اور اخباری کانفرنس معمول بن چکے ہیں۔ پریس کلب کے سامنے نور بی بی کے ساتھ ڈیرھ درجن بزرگ خواتین اور بچوں نے ہاتھ میں کتبے اٹھا رکھے تھے اور دو افراد کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ نور بی بی نے بتایا کہ ان کے بھائی اسی سالہ قادر عرف شادی خان اور بہتر سالہ خان محمد کو اس سال اپریل میں خفیہ ایجنسی کے اہلکار کراچی میں ان کے مکان کی تلاشی کے بعد اٹھا کر ساتھ لے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کے ان کے بھائیوں کا کیا جرم تھا انہیں عدالت میں تو پیش کریں لیکن نہ تو انہیں منظر عام پر لایا جا رہا ہے اور نہ ہی انہیں عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ دو روز پہلے تربت میں ایک خاتون کریمہ بی بی نے کہا تھا کہ ان کے چچا واحد کو قانون نافذ کرنے والے اہلکار کوئی تین ماہ پہلے اٹھا کر لے گئے ہیں جنہیں آج تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ بلوچستان میں دسمبر دو ہزار پانچ میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے بعد سے اس طرح کے دعوؤں میں اضافہ ہوا ہے لیکن صوبائی حکومت نے ان لوگوں کو عدالت میں پیش کرنے یا منظر عام پر لانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے صحبت پور کے ایک صحافی کے اٹھائے جانے پر کہا تھا کہ اگر کوئی گھر سے ناراض ہو کر بھی چلا جاتا ہے تو اس کا الزام بھی ایجنسیوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں ’نظریں دراور کان آہٹ پر لگے ہیں‘11 December, 2005 | پاکستان ’خفیہ اداروں کو جواب دینا ہوگا‘26 March, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: سماعت جاری رہے گی06 June, 2007 | پاکستان ’مفتی منیر خفیہ ایجنسیوں کے پاس‘06 June, 2007 | پاکستان لاپتہ انجینیئر کی رہائی کا فیصلہ20 June, 2007 | پاکستان لاپتہ:’فوج قانون سے بالاتر نہیں‘ 20 June, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ایک صحافی لاپتہ 17 June, 2007 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ میں دو لاپتہ پیش05 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||