BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 June, 2007, 08:59 GMT 13:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ:’فوج قانون سے بالاتر نہیں‘

لاپتہ افراد کے لواحقین
پاکستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین احتجاج کرتے رہے ہیں(فائل فوٹو)
لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عدالتی احکامات کو نظرانداز کرنے پر سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔

نوٹس میں دونوں سیکرٹریوں کو پیر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ بتائیں کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

عدالت نے یہ حکم پاکستانی نژاد ملائشین شہری عمران منیر کی گمشدگی کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکر نے فاضل عدالت کو بتایا کہ عمران منیر کو فوجی عدالت سے آٹھ برس کی سزا ہو چکی ہے اور وہ ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں قید ہیں۔

اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ بارہا پوچھے جانے پر عدالت کو صحیح اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں اور اب کہا جا رہا ہے کہ عمران منیر کو سزا ہو چکی ہے۔ اس پر کرائسس مینجمنٹ سیل کے کرنل جاوید اقبال لودھی نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ فوجی حکام کو عدالت کا حکم پہنچا دیا گیا تھا۔

عدیلہ منیر
عمران منیر کی بہن عدیلہ کی ان سے ملاقات کرائی گئی ہے

عدالت کا کہنا تھا کہ فوج سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور اس کیس میں سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ہے۔ عدالت نے عمران منیر کے مقدمے کی علیحدہ سماعت کا حکم بھی جاری کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اس کیس کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ دس ماہ سے لاپتہ عمران منیر کو غیر ملک کی جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ عمران منیر کی بہن کی ان سے ملاقات کرائی گئی ہے لیکن ان کے والد کو اجازت نہیں دی گئی جس پر سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ عمران منیر کے والد اور ان کی بہن کی ان سے ملاقات کرائی جائے۔عمران منیرکے والد کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کا قصور یہ ہے کہ اس نے آئی ایس آئی کے ایک بریگیڈئر کی ایک رشتہ دار خاتون کے ساتھ تعلقات بڑھا لیے تھے جس کی وجہ سے ان پر یہ مصیبت نازل ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ نےکہا کہ جب سے سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدمے کا نوٹس لیا ہے اس وقت سے اب تک ایک سو بارہ لوگوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔

تین رکنی بینچ کےسربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق مقدمہ کی کارروائی اتنی پھیلتی جا رہی ہے کہ عدالت اب غور کر رہی ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی کارروائی کے لیے ایک خصوصی بینچ تشکیل دے دیا جائے یا کوئی کمیشن قائم کر دیا جائے جو صرف لاپتہ افراد سے متعلق کارروائی کرے۔ سپریم کورٹ کا بینچ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر اور جسٹس فلک شیر پر مشتمل تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد